ڈاکٹر خان سے ملاقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان حکومت کی جانب سے جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو کینسر کا مرض لاحق ہونے کے حکومتی اعلان کے بعد بدھ کے روز حزب مخالف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں سخت احتجاج کرتے ہوئے ان سے ملاقات کا مطالبہ کیا۔ مخدوم امین فہیم اور قاضی حسین احمد سمیت مختلف جماعتوں کے رہنماوں اور حزب مخالف کے کئی اراکین پر ڈاکٹر قدیر خان کے ساتھ ناروا سلوک کرنے اور انہیں نظر بند رکھنے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ حکمران مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے ایوان کو بتایا کہ وہ وزیر اطلاعات محمد علی درانی کے ہمراہ آج ڈاکٹر قدیر خان سے مل کر آئیں ہیں اور ان کی حالت بہتر ہے۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ حکومت ان کو بہترین طبی سہولیات فراہم کر رہی ہے اور ڈاکٹر خان ان سے مطمئن ہیں۔ وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے کہا کہ وہ حکومت کی جانب سے ان کی خیریت دریافت کرنے گئے تھے اور اب ان کی حالت بہتر ہے اور ڈاکٹر خان چل پھر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ڈاکٹر خان انہیں خود دروازے تک چھوڑنے آئے۔ وزیر نے کہا کہ حزب مخالف ہر بات میں منفی پہلو تلاش نہ کرے اور اُسے سیاسی رنگ دینے کی کوشش سے باز رہے۔ تاہم انہوں نے حزب مخالف کے رہنماوں کی جانب سے ڈاکٹر قدیر خان سے ملاقات کرنے کے مطالبے کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ قبل ازیں تہمینہ دولتانہ سمیت بعض اراکین نے تجویز دی کہ پاکستان میں شوکت خانم میموریل ہسپتال کینسر کے علاج کا بہترین مرکز ہے اس لیے حکومت ڈاکٹر قدیر خان کو وہاں منتقل کرے۔ پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیر افگن نیازی نے کہا ڈاکٹر قدیر خان آج بھی قوم کے ہیرو ہیں اور وہ رہیں گے۔ چودھری شجاعت حسین نے ایک نجی ٹی وی چینل جیو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ڈاکٹر خان کل بھی محب وطن تھے اور آج بھی محب وطن ہیں۔ ان سے ملاقات پر پابندی ہے اور یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی سیاسی رہنما یا وزیر کو فوجی حکام نے ان سے ملنے کی اجازت دی ہے۔ | اسی بارے میں ڈاکٹر قدیر خان: کینسر کی تشخیص22 August, 2006 | پاکستان کہوٹہ: دھماکے کی تحقیقات جاری08 February, 2006 | پاکستان ’قدیرنےسینٹی فیوج کوریا کودیئے‘24 August, 2005 | پاکستان ڈاکٹرقدیر خان کی حالت بہتر17 June, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||