کہوٹہ: دھماکے کی تحقیقات جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے بتایا ہے کہ کہوٹہ میں واقع یورینیم کو افزودہ کرنے والی ’خان ریسرچ لیبارٹریز‘ میں ہونے والے دھماکے کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کے روز ہونے والے اس دھماکے میں ایک ٹیکنیشن ہلاک ہوگیا ہے اور حکومت اس کی تحقیقات کر رہی ہے۔ دھماکے کے بارے میں مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’یہ بہت معمولی واقعہ ہے اور اس بارے میں مزید کچھ نہیں بولنا چاہتا‘۔ انیس سو ستر میں قائم ہونے والی ’خان ریسرچ لیبارٹریز‘ میں جنہیں ’کے آر ایل‘ بھی کہا جاتا ہے، یہ پہلا دھماکہ ہے جو رپورٹ ہوا ہے۔ حکومت اس واقعہ کی مزید تفصیلات نہیں بتا رہی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے منسوب اس تجربہ گاہ میں جوہری بم میں استعمال ہونے والے ایندھن کی تیاری کا کام ہوتا ہے اور جوہری مواد لے جانے والے میزائیل بھی بنتے ہیں۔ دو برس قبل ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو جوہری مواد اور آلات ایران، شمالی کوریا اور لیبیا کو ذاتی طور پر بیچنے کے اقرار کے بعد اپنے عہدے سے ہٹادیا گیا تھا اور اس کے بعد سے وہ اسلام آباد میں اپنے گھر نظر بند ہیں۔ | اسی بارے میں جوہری پھیلاؤ: خمیازہ کیا ہوگا؟21 January, 2004 | پاکستان ’دو اہم سائنسدانوں پر شبہ‘25 January, 2004 | پاکستان ’بند کمرے میں سماعت کر لیں‘09 February, 2004 | پاکستان کہوٹہ ملازمین: حراست میں توسیع18 April, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||