| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’دو اہم سائنسدانوں پر شبہ‘
امریکہ کے مقتدر روزنامہ واشنگٹن پوسٹ نے پاکستان کے حکام کے حوالے سے یہ انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے تفتیش کار اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پاکستان کے جوہری پروگرام کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر سمیت کم از کم دو اہم جوہری سائنسدانوں نے بغیر کسی منظوری کے سن اسی کے عشرے میں ایران کو جوہری اسلحہ کے پروگرام میں مدد دی تھی۔ ان حکام کے حوالے سے روزنامے نے لکھا ہے کہ ان سائنسدانوں نے پاکستان اور ایران کے درمیان ایک خفیہ سمجھوتے کے تحت جو صرف پرامن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی میں شراکت کے بارے میں یہ فنی امداد دی تھی۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق دوسرے اعلی جوہری سائنسدان محمد فاروق ہیں جو کہوٹہ کی تجربہ گاہ کے اعلی منتظم تھے۔ تفتیش کاروں نے ان حضرات پر سرکاری راز افشاں کرنے کے قانون کے تحت مقدمہ چلانے کی سفارش کی ہے۔ محمد فاروق گزشتہ نومبر سے حکومت کی حراست میں ہیں۔ جمعہ کے روز سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیوس میں امریکی ٹیلی ویژن سی این این سے ایک انٹرویو میں پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ پاکستانی سائنسدانوں نے ذاتی مفاد کی خاطر جوہری ٹیکنالوجی فروخت کی ہو۔ انہوں نے اس پر زور دیا تھا کہ حکومت قطعی طور پر ملوث نہیں تھی۔ پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے بی بی سی ریڈیو سے ایک انٹرویو میں کہا کہ صدر جنرل مشرف نے جو بات کہی وہ بالکل درست ہے تاہم اس سلسلے میں تفتیش ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کےجوہری راز فاش کئے گئے ہیں لیکن جوہری ٹیکنالوجی فروخت نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جوہری ٹیکنالوجی فروخت کرنا کوئی آسان کام نہیں لیکن ذاتی مفاد کے لیے ’چھوٹے موٹے ‘ راز بیچے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہفتے کو ایک سائنسدان ڈاکٹر منصور کو رہا کردیا گیا ہے۔ جبکہ باقی آٹھ افراد سے ابھی تفتیش جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ آج کا نہیں یہ بہت پرانی بات ہے۔ اس سوال پر کہ پاکستان کا جوہری پروگرام کس حد تک محفوظ ہے انہوں نے کہا کہ اب یہ پروگرام فوج کے مکمل ’ کمانڈ اور کنٹرول‘ میں ہے۔ جوہری پھیلاؤ کے بارے میں انہوں نے کہا عالمی سطح پر ’انڈر ورلڈ‘ اس کاروبار میں ملوث ہے ۔ سی ٹی بی ٹی کے حوالے سےسوال کا جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ وہ اس معاملے کی تفصیلات میں جانا نہیں چاہتے۔ ان سے پوچھا گیا تھا کہ پاکستان ایٹمی عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے کا پابند تونہیں ہے پھر ایران کو جوہری راز فراہم کرنے سے کونسے عالمی معاہدے کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||