ڈاکٹرقدیر خان کی حالت بہتر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے جوہری پروگرام کے خالق ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی جمعہ کو راولپنڈی کے ایک فوجی ہسپتال میں اینجیوگرافی ہو گئی ہے اور سرکاری ذرائع کے مطابق ان کی حالت بہتر ہے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ اینجیوگرافی کے بعد ڈاکٹروں نے ڈاکٹر خان کو بالکل صحت مند قرار دے دیا ہے۔ فوج کے ترجمان نے کہا کہ ڈاکٹر خان کی اینجیوگرافی آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں آج صبح کی گئی۔ انہوں نے ان افواہوں کو غلط قرار دیا کہ ڈاکٹر خان کو منگل کے روز دل کا دورہ پڑا تھا۔ پاکستانی فوج کے ترجمان کے مطابق دو روز قبل جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو دل کی تکلیف ہوئی تھی جس کے بعد ڈاکٹروں نے ان کو اینجیوگرافی کا مشورہ دیا تھا۔ شوکت سلطان نے یہ نہیں بتایا کہ ڈاکٹر خان ابھی ہسپتال میں ہی ہیں یا ان کو گھر منتقل کر دیا گیا ہے۔ تاہم ان کے مطابق ڈاکٹر خان کی حالت سنبھل گئی ہے اور ان کا ڈاکٹروں نے تفصیلی معائنہ کرکے ان کو مکمل طور پر صحتمند قرار دے دیا ہے۔ ڈاکٹر خان کی صحت کے بارے میں ان کی نظر بندی کے حوالے سے گزشتہ ایک سال میں کافی قیاس آرائیاں ہوتی رہی ہیں مگر حکومت نے ہمیشہ اس بات سے انکار کیا تھا کہ ان کی صحت کو کوئی خطرہ ہے۔ مگر اب حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ وہ دل کی تکلیف میں مبتلا ہیں اور ان کی اینجیوگرافی ہو گی ہے۔ پاکستان کے جوہری پروگرام کے بانی کہلائے جانے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان گزشتہ برس فروری میں اس اعتراف کے بعد کہ انہوں نے شمالی کوریا، لیبیا اور ایران کو جوہری پروگرام میں مدد دی تھی سخت حکومتی نگرانی میں ہیں۔ ڈاکٹر خان کے مبینہ جوہری نیٹ ورک کے بارے میں گزشتہ برس سے ملکی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں رپورٹیں شائع ہوتی رہی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور بین الاقوامی جوہری توانائی کی ایجنسی (آئی اے ای اے) ڈاکٹر عبدالقدیر خان تک رسائی حاصل کر کے معلومات حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ مگر پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف ابھی تک کسی بھی غیر ملکی ادارے یا ملک کی طرف سے ڈاکٹر قدیر سے تفتیش کی اجازت نہیں دے رہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||