ڈاکٹر قدیر پر الزامات کی نئی فہرست | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں ٹائم میگزین کے تازہ شمارے میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکام اب اس بات کی چھان بین کر رہے ہیں کہ آیا پاکستان کے جوہری پروگرام کے بانی ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے سعودی عرب اور دیگر عرب ریاستوں کو جوہری ٹیکنالوجی فروخت کی تھی یا نہیں؟ میگزین میں کہا گیا ہے کہ امریکی ادارے اور اقوام متحدہ کے اہلکار سعودی عرب، مصر، سوڈان، آئیوری کوسٹ، نیجر اور دیگر ممالک میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے دوروں کے حوالے سے مزید تحقیقات کر رہے ہیں۔ یہ خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے کہ جب بین الاقوامی برادری اس بات کی منتظر ہے کہ امریکہ، ایران کے جوہری منصوبے سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیا پالیسی اختیار کرتا ہے۔ ٹائم میگزین نے اس معاملے کو اپنی کور سٹوری کے طور پر شائع کیا ہے۔ ٹائم میگزین کے مطابق ڈاکٹر قدیر کے ان دوروں کا اصل مقصد واضح نہیں مگر میگزین نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ سعودی عرب اور مصر جوہری ٹیکنالوجی کی جستجو میں رہے ہیں۔ ٹائم نے یہ بھی لکھا ہے کہ جوہری سمگلنگ کرنے والے قدیر خان کے نیٹ ورک نے ایران اور شمالی کوریا کی مدد میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے گزشتہ برس ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو جوہری معلومات خفیہ طور پر فروخت کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ خبر میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان دس برس تک مختلف ممالک کا دورہ کرتے رہے اور اور جوہری سمگلنگ سے کمائے گئے دھن کو دبئی میں سونے کے تاجروں کے ساتھ مل کر سفید کیا اور ڈاکٹر قدیر اپنے عروج کے زمانے میں تقریباً چالیس کروڑ ڈالر کے اثاثوں کے مالک تھے۔ میگزین نے بعض ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ دسمبر میں امریکی صدر جارج بش نے پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات میں کہا تھا کہ ڈاکٹر قدیر نے جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی کے تمام لین دین کا اعتراف نہیں کیا ہے۔ صدرِ پاکستان نے صدر بش کی اس بات سے اتفاق تو کیا لیکن کسی غیر پاکستانی کو ڈاکٹر قدیر سے پوچھ گچھ کی اجازت نہیں دی۔ اس دوران ڈاکٹر عبدالقدیر کو ان کے گھر پر نظربند رکھا گیا۔ ٹائم میگزین نے اسلام آباد میں قائم لیبارٹیوں میں کام کرنے والوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ اگرچہ ڈاکٹر قدیر کو ان کے عہدے سے برخاست کر دیا گیا ہے اور ان کی صحت بھی خاصی گِر گئی ہے لیکن ان کا نیٹ ورک اب بھی موجود ہے۔ ڈاکٹر قدیر کے ایک سابق قریبی ساتھی کے حوالے سے میگزین نے لکھا ہے کہ ’ کچھ بھی نہیں بدلا۔ جوہری ساز و سامان اور ہارڈویئر اب بھی موجود ہے اور نیٹ ورک نے اپنا کام بھی نہیں روکا۔‘ میگزین نے یہ بھی کہا ہے کہ بعض پاکستانی حکام نے اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ دیگر ممالک کی طرح سوئٹزرلینڈ اور جرمنی کی حکومتیں بھی ان افراد کو گرفتار نہیں کر سکی ہیں جن کا ذکر ڈاکٹر قدیر خان نے اپنے اقبالی بیان میں کیا تھا۔ دریں اثنا پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے ٹائم میگزین کی اس رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس رپورٹ میں حقائق کو توڑ موڑ کر پیش کیے گئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||