ڈاکٹر قدیر خان کے راز صیغۂ راز میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج کل کم ہی لوگوں کو عبدالقدیر خان سے ملاقات کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ ایک عالیشان عمارت جو اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ ہوتی تھی اب ان کی جیل ہے۔ فروری 2004 سے جب انہوں نے دنیا کے کئی ممالک کو ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا اعتراف کیا تھا وہ نظربند ہیں۔ کبھی انہوں نے اپنے ملک پاکستان کے لیے ایٹم بم بنایا تھا۔ ان کی عمارت کے ساتھ ہی ایک گیسٹ ہاؤس ہے جہاں وہ اپنے دوستوں سے ملتے تھے یا دیگر افراد کو مدعو کرتے تھے، ایسے قریبی لوگوں میں مغربی ملکوں کے بڑے بزنس مین بھی ہوتے تھے جو ان کے ساتھ کام کرتے تھے۔ اب یہ گیسٹ ہاؤس سکیورٹی کے عملے کے لیے ہے جو ان کی حرکات و سکنات پر نظر رکھتے ہیں اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ان کے اور باقی دنیا کے درمیان بغیر حکومتی اجازت کے کوئی رابطہ نہ ہو۔ چند لوگوں میں، جنہیں ان سے ملنے کی جازت ملی ہے، ان کی بیٹی عائشہ ہیں۔ لیکن گزشتہ پانچ ہفتوں کے دوران عائشہ بھی اپنے والد کے گھر میں داخل نہیں ہوسکی ہیں۔ ان کے گھر کےدوسرے افراد کو ان سے ملنے کی اجازت ہی نہیں۔ بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ دوسرے ایسے اقدامات بھی کیے گئے ہیں کہ جن سے سکیورٹی مزید سخت ہوگئی ہے۔ ایک دروازہ ہے جس پر پردہ کردیا گیا ہے تاکہ کوئی ان کے باغیچے میں جھانک کر دیکھ نہ سکے، اس کا دوسرا کام یہ بھی ہے کہ ڈاکٹر خان باہر جھانک کر نہیں دیکھ سکتے۔ حالیہ مہینوں میں ڈاکٹر خان کے دوسرے دوستوں اور سابق ساتھیوں کو کہا گیا ہے کہ وہ صحافیوں اور کسی دوسرے شخص سے ان کے بارے میں بات نہ کریں، جبکہ پہلے ایسا نہ تھا۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے حاصل ہونے والی تمام معلومات بین الاقوامی تحقیقات کاروں کو بتائی ہیں جن میں انٹرنیشنل ایٹامِک اینرجی ایجنسی یعنی آئی اے ای اے کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ پاکستانی حکام کہتے ہیں کہ یہ معاملہ اب بند کردیا گیا ہے اور امید کررہے ہیں کہ دنیا رفتہ رفتہ ایک ایسے شخص کو بھول جائے گی جنہیں پاکستانی حکومت کبھی قومی ہیرو کے طور پر پیش کرتی تھی۔ دریں اثناء، امریکہ خاموشی کے ساتھ ڈاکٹر خان تک رسائی کے لیے کوشش کرتا رہا ہے۔ امریکہ کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے ڈاکٹر خان سے بات کرنا چاہے گی لیکن اب تک پاکستان کہتا رہا ہے کہ سوالات لکھ کر پاکستانی انٹیلیجنس کو دیا جائے جو ان سوالات کا جواب ڈاکٹر خان سے لیکر سی آئی اے کو دیدیں گے۔ سرکاری موقف یہ ہے کہ پاکستان پر تحقیقات کے لیے یقین کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے برعکس کوئی بھی اقدام پاکستان کے اقتدار اعلیٰ کے خلاف ہوگا۔
امریکہ ڈاکٹر خان سے اس لیے بات نہیں کرنا چاہتا کہ وہ ایٹمی ٹیکنالوجی کی منتقلی میں پاکستانی حکومت کی شمولیت کا پتہ لگائے، بلکہ اس لیے کہ کیا ڈاکٹر ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں کچھ انکشاف کرسکتے ہیں۔ امریکہ خصوصی طور پر یہ جاننا چاہتا ہے کہ کیا ایران اپنے مقاصد میں پرامن ہے جیسا کہ وہ کہتا رہا ہے یا ایٹمی ہتھیار بنانے میں مصروف ہے۔ لیبیا کے معاملے میں ڈاکٹر خان نے ایٹمی ہتھیاروں کے ڈیزائن فراہم کیے تھے اور تحقیقات کاروں کو فکر ہے کہ کہیں ڈاکٹر خان نے ایران کے ساتھ بھی ایسا ہی تو نہ کیا۔ اگر اس بات کی تصدیق ہوجائے تو یہ امریکہ کے لیے کافی قابل استعمال ہوگی، لیکن صدر پرویز مشرف کے لیے باعث ندامت بھی۔ تاہم یہ بات پراسرار بنی ہوئی ہے کہ ڈاکٹر خان کے گھر پر اس وقت سکیورٹی میں سختی کیوں کی گئی ہے اور ان سے ملنے والوں پر اتنی پابندیاں کیوں ہیں۔ ڈاکٹر خان کی صحت خراب ہوتی رہی ہے اور وہ تنہائی میں ہیں۔ انہی کے ساتھ یہ بات بھی صیغۂ راز میں ہے کہ انہوں نے کیا کیا، کیوں کیا اور کس نے ان کی مدد کی۔ |
اسی بارے میں معائنہ کاری: اجازت نہیں دیں گے18 February, 2004 | پاکستان جوہری ٹیکنالوجی پر نئی بحث27 February, 2004 | پاکستان حراست پر جواب طلب18 March, 2004 | پاکستان ڈاکٹرقدیر کی اہلیہ کا نام خارج23 March, 2004 | پاکستان ’صدر مشرف سب کچھ جانتے تھے‘31 March, 2004 | پاکستان ٹائم کی خبر بے بنیاد ہے: پاکستان07 February, 2005 | پاکستان قدیر کے مسئلے پر واک آؤٹ11 March, 2005 | پاکستان ’سینٹریفیوج ایران کوفراہم کیے‘ 10 March, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||