BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 April, 2006, 16:40 GMT 21:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کے آر ایل‘ کے ڈاکٹر فاروق نظر بند

ڈاکٹر فاروق
’ڈاکٹر فاروق کو 29 ماہ قید تنہائی میں رکھا گیا، اس دوران ان پر دو بار دل کے خطرناک دورے پڑے‘
پاکستان حکومت کی جانب سے جوہری پھیلاؤ میں ملوث قرار دیے گئے کہوٹا ریسرچ لیبارٹری یعنی ’کے آر ایل‘ کے ایک سینئر افسر ڈاکٹر فاروق کو انتیس ماہ زیر حراست رکھنے کے بعد اپنے گھر میں نظر بند کردیا گیا ہے۔

پاکستان کے بعض اخبارات میں سنیچر کو خبر شائع ہوئی ہے کہ حکومت نے ڈاکٹر فاروق کو رہا کردیا ہے لیکن اس کی تصدیق نہ حکومت کرتی ہے اور نہ ہی ان کے اہل خانہ۔

ڈاکٹر فاروق کے آر ایل میں جوہری آلات اور مواد خریدنے کے شعبے کے سربراہ تھے اور انہیں تئیس نومبر سن دو ہزار تین کو اپنے گھر سے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب اس ادارے کے سربراہ اور پاکستان کے جوہری بم بنانے والے سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر جوہری پھیلاؤ کے الزامات لگے تھے۔

کے آر ایل کے تین اور ملازمین جن میں ڈاکٹر نذیر احمد، بریگیڈیئر ( ر) سجاول خان اور میجر ( ر) اسلام الحق کو بھی حکومت نے حراست میں لیا تھا اور انہیں جولائی سن دو ہزار چار میں ہی رہا کردیا تھا۔

لیکن حکومت نے ڈاکٹر فاروق کو رہا نہیں کیا تھا اور بتایا جارہا تھا کہ وہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے انتہائی قریبی ساتھی ہیں اور انہیں جوہری پھیلاؤ کے نیٹ ورک کے بارے میں دیگر افراد کی نسبت زیادہ علم ہے۔

کے آر ایل کے ان ملازمین کے ورثاء نے ایک رہائی کمیٹی بنائی تھی اور مظاہرے بھی کیئے تھے۔ اس رہائی کمیٹی کے سربراہ بریگیڈیئر سجاول خان کے صاحبزادے ڈاکٹر شفیق کو بنائے گئے تھے۔

ڈاکٹر شفیق نے سنیچر کے روز بی بی سی کو بتایا کہ ’انکل فاروق کو حکومت نے رہا نہیں کیا بلکہ تین روز انہیں گھر میں نظر بند کیا گیا ہے اور سکیورٹی کے اہلکار ان کے گھر میں تعینات ہیں‘۔

ان کے مطابق ڈاکٹر فاروق سے ان کے اہل خانہ کے علاوہ کسی کو ملنے نہیں دیا جاتا اور فون وغیرہ بھی سکیورٹی اہلکار خود اٹھاتے ہیں۔

ڈاکٹر شفیق نے بتایا کہ ڈاکٹر فاروق کو انتیس ماہ قید تنہائی میں رکھا گیا اور اس دوران ان پر دو بار دل کے شدید دورے پڑے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سکیورٹی ایکٹ کے تحت ان کے والد سمیت ڈاکٹر فاروق اور دیگر کو گرفتار کیا گیا تھا اور اس قانون کے تحت بارہ ماہ سے زیادہ عرصہ کسی کو قید نہیں رکھا جاسکتا۔

وزیر اطلاعات محمد علی درانی سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں ہے اور جب انہیں کوئی معلومات ملیں تو وہ خود ہی بتائیں گے۔

اسی بارے میں
حراست پر جواب طلب
18 March, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد