BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 July, 2004, 12:19 GMT 17:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خان ریسرچ لیباٹریز کے تین اہلکار رہا

تازہ ترین
وفاقی حکومت نے جمعہ کو رات گئے خان ریسرچ لیبارٹریز ( کے آر ایل ) کے تین زیر حراست اعلی اہلکاروں کو رہا کر دیا۔

رہا کیے جانے والوں میں کے آر ایل کے سابق سکیورٹی ڈائریکٹر بریگیڈیر( ریٹائرڈ) سجاول، ڈاکٹر قدیر خان کے پرسنل سیکریٹری میجر ( ریٹائرڈ) اسلام الحق اور سابق ڈائریکٹر جنرل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈاکٹر نذیر شامل ہیں۔

ان تمام کو جوہری ٹیکنالوجی کے غیرقانونی پھیلاؤ میں ملوث ہونے کے الزام میں سترہ جنوری 2004 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ لوگ ڈاکٹر خان کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیے جاتے تھے۔

آئی ایس پی آر کے ڈاریکٹر جنرل میجر جنرل شوکت سلطان کے مطابق رہا شدگان کو پوچھ گچھ کی غرض سے کسی بھی وقت ’طلب‘ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوہری ٹیکنالوجی کے غیرقانونی پھیلاؤ کے کیس کے تحقیقات ابھی جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ حالیہ تحقیقات میں ان لوگوں کی ضرورت نہیں تھی اس وجہ سے انہیں رہا کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر خان کے ایک اور قریبی ساتھی اور کے آر ایل کے سابق ڈائریکٹر جنرل پروکیورمنٹ ڈاکٹر فاروق ابھی تک زیر حراست ہیں۔ ان کو تئیس نومبر 2003کو گرفتار کیا گیا تھا۔

میجر اسلام کے بھائی محمد حسام الحق کے مطابق تمام رہا شدگان کو حکومت کی طرف سے تحریری طور پر حکم دیاگیا ہے کہ وہ اپنے خاندان کے افراد کے علاوہ نہ تو کسی سے بات کر سکتے ہیں اور نہ کسی سے مل سکتے ہیں۔

کسی سے ملنے اور بات کرنے کے لیے ان لوگوں کو متعلقہ حکام سے پیشگی اجازت لینا ہو گی۔

اس کے علاوہ ان کے اسلام آباد شہر سے باہر سفر کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ رہا شدگان کو زبانی تنبیہ کی گئی ہے کہ ان کے حق میں بہتر ہے کہ وہ اپنےگھروں سے ہی باہر نہ نکلیں۔

شوکت سلطان نے موقف اختیار کیا کہ رہاشدگان کو سیکیورٹی کے پیش نظر اپنے گھروں میں رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔

محمد حسام الحق کے مطابق ان کے بھائی ذہنی اور جسمانی طور پر بہت کمزور ہو گئے ہیں اور انہیں مکمل طور پر اپنی صحت بحال کرنے میں کئی ہفتے درکار ہونگے۔

انہوں نے صحافی برادری کاشکریہ ادا کیا کہ انہوں نے گرفتار شدگان اور ان کے اہل خانہ کا موقف قوم کے سامنے رکھنے میں ان کے مدد کی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد