کے آر ایل : حراست میں توسیع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سپریم کورٹ کے جج جسٹس خلیل الرحمٰن کی سربراہی میں قائم نطرثانی ٹرائیبونل نے جوہری پروگرام کے ادارے خان ریسرچ لیبارٹری (کے آر ایل) کے زیر تفتیش چار ملازمین کی حراست میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی گئی ہے۔ جوہری پھیلاؤ کے الزامات کے تحت حراست میں لیے گئے یہ ملازمین جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔ زیر حراست چار ملازمین میں دو سائنسدانوں ڈاکٹر فاروق اور ڈاکٹر نذیر اور دو ریٹائرڈ فوجی افسران بریگیڈیئر سجاول اور میجر اسلام الحق شامل ہیں۔ اسلام الحق کے بھائی حسام الحق نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ نظرثانی بورڈ کے سامنے نہ تو وکلاء کو پیش ہونے کی اجازت ہے اور نہ ہی اہل خانہ کو۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ پندرہ جولائی کو ان کے بھائی کی حراست کی مدت ختم ہو گئی تھی جس میں مزید تین ماہ کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ خان لیبارٹری کے زیر حراست ملازمین کی رہائی کے لئے بنائی گئی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر شفیق جو کہ بریگیڈیئرسجاول کے بیٹے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ وہ جمعرات کو سپریم کورٹ گئے تھے جہاں ان کے والد بریگیڈیئر (ر) سجاول کو اور ان کے دیگر ساتھیوں کو سیکیورٹی ایجنسیز نے خفیہ طور پر پیش کیا اور واپس نامعلوم مقام پر لے گئے۔ حسام الحق اور ڈاکٹر شفیق دونوں کا کہنا تھا کہ انہیں سرکاری طور پر کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔ ان کے بقول زیر حراست عزیزوں سے ایک ہفتہ قبل ان کی ملاقات ہوئی تھی۔ ان کے مطابق ڈاکٹر فاروق کو گزشتہ سال تئیس نومبر کو جبکہ دیگر تین ملازمین کو رواں سال سترہ جنوری کو حکومت نے حراست میں لیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||