’جوہری پھیلاؤ کی تحقیقات بند‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ملک کے ایک سینیئر جوہری سائنسدان ڈاکٹر محمد فاروق کی رہائی سے جوہری پھیلاؤ میں ملوث گروہ کے خلاف تحقیقات کا باب بند ہو گیا ہے۔ پاکستان کے دفترِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان نے اس جوہری پھیلاؤ کے گروہ کے بارے میں مفصل تحقیقات کی ہیں اور ان تحقیقات کے نتائج سے آئی اے ای اے سمیت کئی ملکوں جن میں امریکہ بھی شامل ہے ان کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ آئی اے ای اے اور کئی ملکوں نے جوہری گروہ کے بارے میں پاکستان کی تحقیقات اور اقدامات کو سراہا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی ملک کے تحقیقات کاروں کو کو پاکستانی جوہری سائنسدانوں سے تحقیقات کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ڈاکٹر محمد فاروق کو دسمبر دو ہزار تین میں گرفتار کیا گیا تھا جس کے فوراً بعد پاکستان کے نامور جوہری سائنسدان عبدالقدیر خان نے سرکاری ٹیلیوژن پر آ کر جوہری معلومات دوسرے ممالک کو فراہم کرنے کا اعتراف کیا تھا۔ ڈاکٹر محمد فاروق کہوٹہ ریسرچ لیباریٹری میں ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر فائز تھے اور انھیں ڈاکٹر قدیر خان کا سب سے معتمد ساتھی سمجھا جاتا تھا۔ ڈاکٹر فاروق کے ہمراہ نو دوسرے سائنسدانوں اور لیبارٹری کے سیکیورٹی انچارج کو بھی گرفتار کیا گیا تھا تاہم ما سوائے ڈاکٹر فاروق کہ تمام لوگوں کو سن دو ہزار چار میں رہا کر دیا گیا تھا۔
ڈاکٹر فاروق کے آر ایل میں جوہری آلات اور مواد خریدنے کے شعبے کے سربراہ تھے اور انہیں تئیس نومبر سن دو ہزار تین کو اپنے گھر سے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب اس ادارے کے سربراہ اور پاکستان کے جوہری بم بنانے والے سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر جوہری پھیلاؤ کے الزامات لگے تھے۔ دفترِ خارجہ کی ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ میں انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر میں پینتیس ہندوؤں کے قتل کے واقعے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے دونوں ممالک کے تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہندوؤں کا قتل دہشت گردی ہے اور پاکستان اس کی پر زور مذمت کرتا ہے۔ امریکہ کی طرف سے پاکستان کی مذہبی جماعت جماعت الدعوہ اور اس کے ذیلی ادارے ادارہ خدمت خلق کو دہشت گرد تنظیموں کی لسٹ میں شامل کرنے کے بارے میں ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایسا نہیں کرے گا تا وقت کہ اقوام متحدہ پاکستان کو ان تنظیموں پر پابندی لگانے کا نہیں کہتی۔ | اسی بارے میں ’کے آر ایل‘ کے ڈاکٹر فاروق نظر بند29 April, 2006 | پاکستان ’سینٹریفیوجز اقوامِ متحدہ کےحوالے‘26 May, 2005 | پاکستان IAEA کی تحقیق: پاکستان بھی شریک22 August, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||