قدیر خان: علاج کے لیئے کراچی منتقل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان حکومت نے بدھ کے روز جاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہے کہ نظر بند جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو آپریشن کے لیئے کراچی کے آغا خان ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ ان کے مثانے کے کینسر کا آپریشن کیا جا سکے۔ فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ بائیس اگست کو ڈاکٹر خان کے مثانے میں کینسر کی تشخیص ہوئی تھی اور اس کے بعد ان کے علاج کے لیئے فوجی اور سویلین ہسپتالوں کے ماہر ڈاکٹرز پر مشتمل ایک بورڈ تشکیل دیا گیا تھا۔ بیان کے مطابق ڈاکٹر خان کے ذاتی معالج سمیت تمام ڈاکٹرز نے متفقہ طور پر تجویز کیا ہے کہ ان کا آپریشن کیا جائے اور اس غرض سے بہت جلد انہیں کراچی لے جایا جارہا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کیونکہ ’ ڈاکٹر خان کی صحت عوامی دلچسپی کا معاملہ ہے اس لیئے حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ انہیں بہترین طبی سہولیات فراہم کرے۔‘ بیان کے مطابق آپریشن کرنے کے لیئے ڈاکٹر خان اور ان کے اہل خانہ کی رضامندی حاصل کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو جوہری پھیلاؤ کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث ہونے کے اقرار کے بعد فروری سن دو ہزار چار میں وزیراعظم کے مشیر کے عہدے سے برطرف کر کے کئی ساتھیوں سمیت حراست میں لےلیا گیا تھا۔ ڈاکٹر خان نے ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو جوہری ٹیکنالوجی منتقل کرنے کا ریاستی ٹی وی چینل پر اعتراف کیا تھا۔ بعد میں ڈاکٹر خان نے صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کی اور معافی کی درخواست کی جو صدر نے قبول کرلی تھی۔ اس معافی کے بعد ان کے ساتھیوں کو رہا کردیا گیا تھا لیکن ڈاکٹر خان اس وقت سے فوج کے سخت پہرے میں اپنے گھر میں نظر بند ہیں۔ اس دوران بین الاقوامی جوہری ادارے کے اہلکاروں یا امریکی تفتیش کاروں کو ڈاکٹر قدیر سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ | اسی بارے میں ڈاکٹر قدیر خان: کینسر کی تشخیص22 August, 2006 | پاکستان ڈاکٹر قدیر خان کے راز صیغۂ راز میں26 May, 2006 | پاکستان ڈاکٹر خان سے ملاقات23 August, 2006 | پاکستان ’کے آر ایل‘ کے ڈاکٹر فاروق نظر بند29 April, 2006 | پاکستان ’جوہری پھیلاؤ کی تحقیقات بند‘02 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||