’مزید دباؤ اعلان جنگ کے برابرہوگا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی کوریا نے اقوام متحدہ کی اس قرار داد کو مسترد کر دیا ہے جس میں اس کے مبینہ ایٹمی تجربہ پر تنقید کرتے ہوئے اس پر فوجی اور معاشی پابندیاں لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ سنیچر کو منظور کی جانے والی قرارداد میں سکیورٹی کونسل کے تمام پندرہ ارکان نے اس کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے مندوب (پاک گل یون) نے قرارداد پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سب کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہے اور اب شمالی کوریا پر مزید دباؤ اس کے خلاف اعلان جنگ کے مترداف ہوگا۔ امریکی صدر جارج بش نے، جنہیں روس اور چین کی طرف سے اعتراضات کے بعد اپنے رویے میں نرمی پیدا کرنا پڑی ہے، قرارداد پر اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں تجویز کی گئی پابندیوں سے لگتا ہے کہ دنیا متحد ہے۔ قرارداد پر رائے شماری کے بعد چین نے کہا تھا کہ وہ شمالی کوریا میں آنے اور وہاں سے باہر جانے والے سامان کی جانچ پڑتال کے حق میں نہیں ہے۔ یاد رہے کہ قرارداد کی ایک شق کے تحت اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ مال کی جانچ پڑتال کریں گے، بلکہ جاپان نے تو کہا ہے کہ وہ اپنے طور پر کچھ اضافی پابندیاں بھی لگا سکتا ہے۔ اس سے قبل جاپان اور جنوبی کوریا نے سلامتی کونسل کی طرف سے شمالی کوریا پر پابندیاں عائد کرنے کا خیر مقدم کیا۔ جاپان کے وزیراعظم شنزو ابے نے کہا کہ دنیا نے شمالی کوریا کو ایک سخت پیغام دیا ہے کہ اس کے جوہری پروگرام کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے سنیچر کو ایٹمی دھماکے کی سزا دینے کے لیے شمالی کوریا پر پابندیاں نافذ کی تھیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ ان پر نفاذ کے لئے طاقت استعمال نہیں کی جائیگی۔ روس کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا اپنے جوہری پروگرام سے متعلق چھ فریقی بات کو جاری رکھنا چاہتا ہے۔ پابندیوں کے نفاذ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے شمالی کوریا سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنا ایٹمی پروگرام ترک کر دے۔ ان پابندیوں کے تحت شمالی کوریا کو کسی ایسے مواد تک رسائی حاصل نہیں ہو گی جو اسے اس کے جوہری یا میزائل پروگرام میں مدد دے سکے۔ یہاں تک کہ شمالی کوریا کو روایتی ہتھیاروں کے حصول کی بھی اجازت نہیں ہو گی۔اس کے علاوہ شمالی کوریا سے آنے اور شمالی کوریا کو جانے والے تمام سامان کی تلاشی لی جائے گی۔ تاہم روس اور چین کی مخالفت کی وجہ سے اس قرار دادا میں یہ بات شامل نہیں ہے کہ ان پابندیوں کو نافذ کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا جائے گا۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر جان بولٹن کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود پیانگ یانگ کو جوہری پروگرام کے بارے میں ایک سخت پیغام ملے گا۔ اقوام متحدہ میں قرارداد کا مسودہ دو روز قبل امریکی سفارتکاروں نے تقسیم کیا تھا۔ |
اسی بارے میں جوہری دھماکوں کی تصدیق14 October, 2006 | آس پاس شمالی کوریا پر پابندیوں کا مسودہ12 October, 2006 | آس پاس ’شمالی کوریا کو کیسے سزا دیں‘09 October, 2006 | آس پاس ’فوجی کارروائی کا راستہ کھلا ہے‘10 March, 2006 | آس پاس اقوام متحدہ: بولٹن سفیر مقرر01 August, 2005 | آس پاس جان بولٹن پر ووٹنگ ملتوی27 May, 2005 | آس پاس صدر بش کو دھچکا: بولٹن ’نامنظور‘13 May, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||