BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 08 December, 2006, 23:44 GMT 04:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’افغان رہنما تحمل سے کام لیں‘
خورشید قصوری کے دورے کے بعد حامد کرزئی نے ایک سخت بیان جاری کیا ہے
پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید قصوری نے کہا ہے کہ افغانستان میں جاری تشدد کو تحمل، باہمی اعتماد اور مشترکہ حکمت عملی سے روکا جاسکتا ہے۔

کابل کے دورے سے واپسی پر بی بی سی اردو سروس کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حامد کرزئی کی طرف سے دونوں طرف کے قبائل کا جرگہ منعقد کرانے کی تجویز پر پاکستان نے اپنی سفارشات افغان حکومت کے حوالے کردیں ہیں۔

تاہم موجودہ دورے کے دوران افغان رہنماؤں سے ہونے والے مذاکرات پر انہوں نے کہا کہ وہ اس بات پر متفق ہو گئے ہیں کہ پاکستان میں کوئی ایسا طریقہ کار وضح کیا جائے جو صدر حامد کرزئی کی طرف سے پیر گیلانی کے کمیشن سے رابطے میں رہے۔

پاکستانی وزیر خارجہ کے دورے کےفوری بعد حامد کرزئی کی طرف سے بیان پر کہ ’ان کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے‘ انہوں (خورشید قصوری) نے کہا کہ تشدد اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تحمل اور مشترکہ حکمت عملی سے کام لینا ہوگا۔

خورشد قصوری نے کہا کہ دورے کے دوران انہوں نے صدر کرزئی سمیت تمام افغان رہنماؤں سے یہ سوال پوچھا کہ پاکستان کے افغانستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کا کیا ممکنہ ’موٹیو‘ یا مقصد ہوسکتا ہے؟

پاکستان میں اب بھی تیس لاکھ افغان مہاجرین ہیں

انہوں نے کہا کہ اس سوال کا کسی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ خورشید قصوری نے کہا پاکستان اپنی اقتصادی ترقی کی رفتار کو قائم رکھنے کے لیے افغانستان میں عدم استحکام کے بارے میں سوچ نہیں سکتا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ سال تین اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر کی براہ راست سرمایہ کاری ہوئی ہے اور توقع ہے کہ یہ اس سال بڑھ کر پانچ ارب ڈالر کی ہوجائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اقتصادی ترقی کی اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ خطے میں استحکام اور خاص طور پر افغانستان میں استحکام اور امن و امان قائم رہے۔ انہوں نے کہا کہ وسط ایشیائی ریاستوں تک پہنچنے کے لیے افغانستان، پاکستان کے لیے واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی دہشت گردی ہورہی ہے جس کا مطلب ہے کہ ریاست سے ماورا کچھ عناصر ہیں جو خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان سرحد کے آر پار ہونے والی غیر قانونی نقل و حرکت کے بارے میں انہوں نے کہا اس کا ایک عنصر پاکستان میں موجود تیس لاکھ افغان مہاجرین بھی ہیں، جن کی نظریں ہمیشہ اپنے وطن کی طرف لگی رہتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ، امریکہ اور یورپی یونین سے بھی ان مہاجرین کو واپس بھیجنے کے بارے میں بات کی ہے۔

سرحد کے آرپار ہونے والی نقل و حرکت روکنے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بہت سے اقدامت کیئے ہیں جن میں ستانوے کے قریب نئی چوکیوں کا قیام اور شمالی وزیرستان میں قبائل کے ساتھ معاہدہ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں قبائل کے ساتھ معاہدے میں سرحد کے آر پار نقل وحرکت کو روکنا بنیادی نقطہ ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد