BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 08 October, 2006, 00:55 GMT 05:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرحد کے آرپار پختونوں کا جرگہ
جرگے کا مقصد پختونوں کی روائتی قیادت کو بحال کرنا ہے۔
افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ وہ طالبان کی کارروائیوں کو روکنے کے لیئے پاکستان اور افغانستان کے پختون قبائل کا ایک جرگہ بلانا چاہتے ہیں۔

طالبان کا تعلق زیادہ تر افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر رہنے والے پختون قبائل سے ہے اور اس مسئلہ کو حل کرنے کے طریقہ کار پر افغانستان اور پاکستان کی حکومتوں میں اختلافات پائے جاتے ہیں جو دونوں حکومتوں کے درمیان شدید غلط فہیوں کا باعث بن رہے ہیں۔

حامد کرزئی کی خواہش ہے کہ اس سال کے آخر تک بلائے جانے والے جرگے میں وہ صدر مشرف کے ساتھ شرکت کریں۔

افغان وزراء کو خدشہ ہے کہ پختون جرگے سے پاکستان فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

حامد کرزئی نے احمد رشید کو ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ افغان معاشرے، افغان عمائدین، قبائلی سرداروں، مذہبی رہنماؤں اور افغان روحانی پیشؤاں اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے دانشوروں کا جرگہ بلایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ سرحد کے دونوں جانب بسنے والے پختون کے معاشرے کو بحال کیا جائے تاکہ خطے میں طالبانائزیش کے خطرے کو روکا جا سکے۔

کرزئی نے یہ تجویز بش اور مشرف کے ساتھ مشترکہ ملاقات میں بھی دی تھی

انہوں نے کہ پاکستان میں رہنے والے پختونوں کی روائیتی قیادت کو ایک منصوبے کے تحت رفتہ رفتہ ختم کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں ڈیڑھ سو کے قریب پختون رہنماؤں کی ہلاکت اس بات کا ایک واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کو صرف پختون معاشرے کو بحال کرکے کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا اگر پاکستان اس جرگے کے بارے میں نیک نیت ہے تو اس کے ذریعے دونوں ملکوں کے درمیان امن کے قیام میں مدد مل سکتی ہے۔

حامد کرزئی نے کہا کہ جرگے کا مطلب نمائند افراد کا اجتماع اور جو لوگ نمائندہ نہیں ہے ان کو وہاں نہیں بلانا چاہیے۔ انہوں نے کہا افغانستان میں غیر نمائندہ افراد کا جرگے میں آنا ممکن نہیں اور انہوں نے توقع ظاہر کی کہ پاکستان میں بھی ایسا ہی ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان دو ہزار چھ سو چالیس کلو میٹر لمبی سرحد ’ڈیورنڈ لائن‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا بہت پرانا مطالبہ ہے کہ افغانستان اس سرحد کو تسلیم کرلے۔

انہوں نے کہا کہ افغانوں کا موقف رہا ہے کہ یہ لائن انگریزوں نے بنائی تھی جس سے بہت سے پختون علاقے جو افغانستان کا حصہ تھے پاکستان میں شامل کر دیئے گئے۔

پاکستان پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ طالبان کو امداد مہیا کر رہا ہے

حامد کرزئی نے کہا کہ طالبان کی حکومت سمیت جسے پاکستان تسلیم کرتا تھا کسی بھی افغان حکومت نے اس سرحد کو تسلیم نہیں کیا۔

انہوں نے تجویز پیش کی کہ اقوام متحدہ کی زیر نگرانی ایک مشترکہ کمیش بنایا جا سکتا ہے جو اس جرگہ میں شرکت کرکے اس تنازعہ کو حل کرنے کے لیئے شرائط طے کرسکتا ہے۔

حامد کرزئی نے پختون جرگے کی تجویز صدر بش کی موجودگی میں صدر مشرف سے ہونے والی ملاقات کے دوران دی تھی۔

اطلاعات کے مطابق صدر مشرف اس تجویز کے حق میں نہیں تھے لیکن جب صدر بش نے اس تجویز کی حمایت کی تو صدر مشرف بھی اس سے متفق ہو گئے۔

حامد کرزئی اس جرگے میں عالمی برادری کو بھی شامل کرنا چاہتے ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ زیادہ تر مغربی ممالک اس پیچیدہ جرگے میں شامل نہیں ہونا چاہتے کیونکہ پاکستان اور افغانستان دونوں ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کے اتحادی ہیں اور دونوں کے ایک دوسرے مخاصمانہ تعلقات ہیں۔

تاہم بہت سے پختون افغانوں اور غیر پختون افغانوں نے اس جرگے کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ان کو خدشہ ہے کہ پاکستان ا س جرگے کے ذریعے طالبان کے نظریات کو شامل کرنے کی کوشش کرے گا۔

بہت سے افغان وزراء کا خیال تھا کہ پاکستان اس کو اپنے مفاد میں استعمال کرے گا۔

ایک وزیر نے کہا کہ اگر جرگے میں شامل پاکستانی پختونوں کے نمائندوں نے کرزئی حکومت اور امریکیوں کے خلاف جہاد کرنے کا اعلان کر دیا۔

افغان پارلیمان کے سپیکر یونس قانونی نے کہا کہ جرگے سے بہتر ہے کہ دونوں ملکوں کے پارلیمان کے ارکان کے درمیان ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا جائے۔

نیٹو کی مرتب کردہ ایک انٹیلیجنس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان نے قندھار میں لڑائی سے قبل دس لاکھ گولیاں میں اکھٹا کی تھیں۔ اس کے علاوہ طالبان نے دو ہزار راکٹ سے داغے جانے والے گرنیڈ اور ایک ہزار مارٹر چلائے۔ طالبان کے اس اسلحہ اور بارور کی قیمت ایک اندازے کے مطابق پچاس لاکھ ڈالر تھی جو رپورٹ کے مطابق بغیر کسی بیرونی امداد کے ممکن نہیں تھی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد