’پاکستان ہمیں غلام بنانا چاہتا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان صدر حامد کرزئی نے پاکستان پر سخت تنقید کی ہے کہ اس نے افغانستان میں تشدد جاری رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ پاکستان کو اب بھی امید ہے کہ وہ افغان عوام کو ’غلام‘ بنا لے گا۔ سرحد پر ہونے والے حملوں کے تناظر میں صدر حامد کرزئی کا یہ سب سے سخت بیان ہے۔ جنوبی شہر قندھار کے دورے کے دوران انہوں نے نیٹو کی سربراہی میں لڑنے والی فوج پر بھی تنقید کی وہ عام شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ ان کے اس بیان کے فوراً بعد نیٹو فوج کے ہاتھوں ایک اور عام شہری ہلاک ہو گیا ۔ تاہم نیٹو نے فوراً غلطی کی معافی مانگ لی۔ حامد کرزئی نے کہا کہ ’پاکستان نے ہمیں غلام بنانے کی امید ختم نہیں کی ہے۔ لیکن وہ یہ نہیں کر سکتا‘۔ ’ہمارے خلاف یہ ظلم پاکستان کے عوام کی طرف سے نہیں ہے بلکہ پاکستان کی حکومت کی طرف سے ہے‘۔ کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق طالبان جنگجو سرحد عبور کر کے ایک دوسرے ملک میں آ جا سکتے ہیں اور یہ تشویش بھی بڑھ رہی ہے کہ پاکستان کے علاقے وزیرستان میں مزاحمت کار اپنی طاقت میں اضافہ کر رہے ہیں۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان تسلیم اسلم نے صدر کرزئی کے بیان کی براہ راست تردید تو نہیں کی لیکن انہوں نے یہ ضرور کہا کہ افغانستان میں تشدد کی جڑھیں اس کی سرحد کے اندر موجود ہیں اور وہیں ڈھونڈنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ’بنیادی طور پر افغانستان کے مسائل افغانستان کے اندر ہیں اور وہیں حل کرنے چاہیئں۔ طالبان افغانستان کے اندر کارروائیاں کر رہے ہیں‘۔ | اسی بارے میں دراندازی سے تنگ آچکے ہیں: کرزئی08 December, 2006 | آس پاس ’وزیرستان معاہدے پر تحفظات ہیں‘06 October, 2006 | آس پاس افغان صورتحال پر کرزئی دکھی11 December, 2006 | آس پاس نیٹو بمباری: درجنوں افغان ہلاک27 October, 2006 | آس پاس افغانستان پر حملے کے پانچ سال 15 October, 2006 | آس پاس مشرف اور کرزئی بش کی ٹیبل پر01 October, 2006 | آس پاس باہمی اختلافات دور کریں: بش28 September, 2006 | آس پاس پاکستان سانپ پال رہا ہے: کرزئی26 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||