مشرف اور کرزئی بش کی ٹیبل پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی صدر پرویز مشرف لندن سے وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ اپنے مصروف دورے میں مشرف نے اقوام متحدہ میں ایک ہفتہ گزارا، صدر بش سے ہاتھ ملائے اور یہ کہہ کر صدر حامد کرزئی کو مشتعل کردیا کہ طالبان کو وہ قابو نہیں کرسکتے۔ صدر بش نے امن کے مذاکرات کار کاکردار ادا کرتے ہوئے دونوں صدور کو عشائیے پر مدعو کیا۔ تینوں صدور ایک میز پر جمع ہوئےیعنی دہشتگردی پر بات چیت کے لیئے تین جنگجو بش، مشرف اور کرزئی ایک ساتھ۔ اگرچہ بش سب سے زیادہ ’طاقتور‘ رہنما تھے لیکن کرزئی کی سیاسی تاریخ طویل ہے۔ کرزئی کا خاندان نسل در نسل سیاست سے منسلک رہا ہے۔ ان کے آباؤ اجداد افغان شاہوں کو مشوروں سے نوازا کرتے تھے۔ کرزئی کے والد قبائلی سردار تھے۔ انہیں 1999 میں طالبان نے ہلاک کردیا اور یوں کرزئی کو بدلہ لینے کے لیئے ان کے پیچھے چھوڑ دیا۔ دوسری جانب صدر بش کوئی سردار تو نہیں لیکن امریکہ کے معیار کے مطابق اگر وہاں کوئی’شاہی اطوار‘ کا حامل ہوسکتا ہے تو وہ صدر بش ہیں۔ سابق امریکی صدر کے بیٹے، امریکی سینیٹر کے پوتے اور ریاستی گورنر کے بھائی۔ اور آخر میں مشرف۔ جن کے لیئے دولت کی نسبت اقتدار ایک نئی چیز ہے۔ ایک مہاجر بچہ اور ایک اکاؤنٹنٹ کا بیٹا، جس نے خاندان کے ’اثر و رسوخ‘ کے بغیر ہی ترقی کی منازل طے کیں اور بالآخر فوجی بغاوت کے ذریعے ملکی اقتدار پر قابض ہوئے۔ امریکہ کے دورے کے دوران امریکی ٹی وی پر مشرف چھائے رہے، حتٰی کہ اپنی کتاب کی تشہیر کے لیئے ایک مزاحیہ چینل نے بھی ان کا انٹرویو کرڈالا۔ لیکن تینوں صدور کے میز پر جمع ہونے تک مشرف دفاعی لبادہ اوڑھ چکے تھے۔ حامد کرزئی نے واضح طور پر پاکستان پر طالبان کی حمایت کا الزام لگایا۔ اور بش کی یقین دہانی کے باوجود کئی امریکی اہلکار یہی سمجھتے ہیں کہ کرزئی ٹھیک کہتے ہیں۔
مشرف کا مسئلہ یہ ہے کہ تمام فوجی آپریشنز کے باوجود پاک افغان سرحدی علاقے پر کنٹرول حاصل کرنا ناممکن ہے۔ افغانستان میں کئی سکیورٹی ماہرین کا خیال ہے کہ اسامہ بن لادن بھی وہیں کہیں چھپے ہیں۔ اس علاقے میں جانے کی اجازت لینا آسان نہیں لیکن کسی طرح میں نے یہ ممکن بنا ہی لیا۔ یہ ایک مختلف دنیا تھی جہاں شراب، عورت اور گانوں کے بجائے افیون، مسلح افراد اور عبادت عام ہے۔ مرد بات نہیں کرنا چاہتے، عورتیں گھروں میں پوشیدہ ہیں اور سمگلر عام ہیں۔ یہ لوگ زمانہ قدیم سے تعلق رکھتے ہیں۔ وزیرستان کے علاقے میں بڑے زمینی اور فضائی آپریشن کے باوجود فوج کو یہ تسلیم کرنا پڑا ہے کہ وہ قبائلیوں کو طاقت کے ذریعے نہیں زیر کرسکتے۔ بلکہ حال ہی میں حکومت نے قبائلیوں کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ کیا ہے۔ قبائلیوں کی جانب سے اتنی سخت مزاحمت کیسے ممکن ہوئی اور انہوں نے تبدیلی کی اس قدر مخالفت کیوں کی۔ شاید تعلیم کی کمی اس کا ایک سبب ہو۔ پاکستان کے بیشتر قبائلی غیر تعلیمیافتہ ہیں۔ ایسے ہی ایک علاقے میں نواب کی حکمرانی تھی جو دراصل ایک چھوٹی سی سلطنت کا بادشاہ تھا۔ ایک سول سرونٹ نے نواب بگٹی سے کہا تھا’میرے پاس اچھی خبر ہے۔ حکومت نے آپ کے علاقے میں سکول کھولنے کے لیئے فنڈز مختص کیئےہیں‘۔ نواب نے جواب دینے میں دیر نہیں لگائی ’میں سکول نہیں کھولنا چاہتا۔ کل آنا میں بتاؤں گا کہ میں ایسا کیوں چاہتا ہوں‘۔ اگلے روز نواب نے اپنے مہمان کو ایک بندوق دی۔ ’ہم بطخ کے شکار پر جارہے ہیں۔ کچھ ہی دیر بعد نواب بطخوں کا شکار مکمل کرچکے تھے۔ یہ بطخیں برف کی طرح سرد پانی کے حوض میں چھوڑ دی گئیں۔ پھر انہوں نے سیٹی بجائی۔ یہ ایک حکم تھا۔ جو لوگ شکار پر ان کے ساتھ تھے وہ برفیلے پانی میں کود گئے اور بطخیں جمع کرنے لگے۔ پھر گیلے شلوار قمیض کے ساتھ وہ بطخیں نواب کے معائنے کے لیئے لانے لگے۔ نواب اپنے مہمان کی طرف مڑے۔ ’مجھے تمھیں مایوس کرنے کا افسوس ہے۔ لیکن کیا تمھارے خیال میں اگر یہ لوگ سکول گئے ہوتے تو یوں میرے حکم کی تعمیل کرتے۔ سکول کا خیال دل سے نکال دو‘۔ | اسی بارے میں امریکہ پاک۔افغان مذاکرات کا میزبان27 September, 2006 | آس پاس بش کی مشرف اور کرزئی کو دعوت27 September, 2006 | آس پاس ’جہادی قوتوں کو تقویت ملی ہے‘27 September, 2006 | آس پاس ’مشرف کے بیان پر افسوس ہے‘14 September, 2006 | آس پاس افعانستان میں بڑے آپریشن کا آغاز16 September, 2006 | آس پاس ’عراق،افغانستان سے واپسی ٹھیک نہیں‘26 September, 2006 | آس پاس مشرف کے بیان پر کینیڈا میں بحث28 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||