بش کی مشرف اور کرزئی کو دعوت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر بش جنرل پرویز مشرف اور افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات کر رہے ہیں اور دونوں رہنماؤں کو وائٹ ہاؤس میں مدعو کیا ہوا ہے۔ اس سے پہلے صدر بش نے گزشتہ روز بھی افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات سے ملاقات کر چکے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس ملاقات کا اہم ترین موضوع افغانستان میں طالبان کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں تھا لیکن اس ملاقات کے بعد صدر کرزئی نے کہا تھا کہ صدر مشرف اور ان کے درمیان کوئی کشیدگی نہیں ہے۔ امریکی صدر اسی موضوع پر تین روز پہلے پاکستان کے فوجی صدر جنرل مشرف سے بھی بات چیت کرچکے ہیں۔ اس دوران دونوں رہنما دہشت گردی کے حوالے سے ایک دوسرے کو ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کرنے کا الزام دے چکے ہیں اور خاص طور پر صدر کرزئی یہ تک کہہ چکے ہیں کہ پاکستان اپنی آستین میں سانپ پال رہا ہے جو اسے بھی نقصان پہنچائیں گے۔
اس طے شدہ ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر بش نہ کہا ہے کہ ’ میرے لیے یہ بات خاصی دلچسپ ہوگی اور میں دونوں رہنماؤں کے تیور دیکھ کر اندازہ کروں گا کہ دونوں میں کتنی کشیدگی ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ویسے میری دونوں رہنماؤں سے جو گفتگو ہوئی ہے اس سے تو میں نے اس پر اتفاق رائے پایا ہے کہ مشترکہ مقاصد تبھی حاصل ہو سکتے کہ ہم مل کر کام کریں‘۔ | اسی بارے میں پاکستان سانپ پال رہا ہے: کرزئی26 September, 2006 | آس پاس ہلاکتوں پر حامد کرزئی کی تنقید22 June, 2006 | آس پاس حامد کرزئی: فوجی کارروائی ناکافی ہے 20 September, 2006 | آس پاس ’امریکہ آنکھیں بند نہ کرے‘ 20 September, 2006 | آس پاس بش کے الفاظ پر مسلمان مشتعل13 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||