بش کے الفاظ پر مسلمان مشتعل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد کے دنوں میں صدر بش نے اپنے بیان میں کہنے کی کوشش کی تھی کہ ’مسلمان بذات خود امریکہ کے دشمن نہیں‘۔ لیکن پانچ سال گزرنے کے بعد صدر بش نے جو بیان دیا وہ امریکی مسلم رہنماؤں کے مطابق اتنا ’محتاط‘ نہیں ہے۔ مسلمان حلقے بش کی جانب سے استعمال کیئے گئے ’اسلامک فاشِسٹ‘ کے الفاظ پر کافی برہم ہیں۔ یہ الفاظ بش نے حزب اللہ اور مبینہ طیارہ سازش کرنے والوں کے لیئے استعمال کی ہے۔ امریکہ کی مسلم پبلک افیئرز کونسل کے نیشنل ڈائریکٹر احمد یونس کا کہنا ہے کہ ان الفاظ کے استعمال سے اس نظریے کو تقویت ملتی ہے کہ اسلام اور مغرب میں ثقافتوں کا تصادم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پرتشدد افراد کا تعلق مذہب سے جوڑنا غلط ہے۔ ’فاشسٹ ہونے کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ پیغمبر اسلام اور قرآن میں صاف طور پر بتایا گیا ہے کہ ایسی سرگرمیاں مسلمانوں کے لیئے جائز نہیں‘۔ صدر بش نے یہ الفاظ اس ہفتے کئی مواقع پر استعمال کیئے ہیں۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ’دہشتگرد اپنا جہادی پیغام پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں جو اسلامی بنیاد پرستی اور اسلامک فاشزم پر مبنی ہے‘۔ دوسرے بیان میں انہوں نے کہا کہ ’اسلامک فاشزم ایک نظریہ ہے جو حقیقت ہے‘۔ برطانیہ میں مبینہ طیارہ سازش کے سلسلے میں گرفتاریوں پر بھی ان کا کہنا تھا کہ ’اسلامی فاشسٹ ہم جیسے آزادی پسند لوگوں کو ختم کرنے کے لیئے ہر ممکن طریقہ استعمال کرنے کے لیئے تیار ہیں‘۔
اس بیان کے بعد امریکی۔اسلامک تعلقات کی کونسل نے بش کو ایک شکایتی خط لکھا ہے۔ ادارے کے چیئر مین پرویز احمد نے مسلمانوں کے لیئے ایسے الفاظ کے استعمال کی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان الفاظ سے اس تصور کو اہمیت مل جاتی ہے کہ ’دہشتگردی کے خلاف جنگ دراصل اسلام کے خلاف جنگ ہے‘۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے اس شکایت کا کوئی جواب یا وضاحت نہیں دی ہے۔ احمد یونس کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں بش کی جانب سے ان الفاظ کا استعمال ایک غلطی ہے۔ ’فاشزم کو مسلمانوں کا نظریہ قرار دینا گمراہ کن ہے‘۔ مشی گن میں مسلم کمیونٹی کی ایک سرگرم کارکن زینب چامی کا کہنا ہے کہ ’بش انتظامیہ کو ایک نیا لفظ مل گیا ہے جو لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لیئے استعمال کیا جائے گا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے الفاظ کےاستعمال سے مسلمانوں کے بارے میں امریکیوں کی رائے متاثر ہوگی۔ احمد یونس کے مطابق یہ الفاظ ان جدت پسند مسلمانوں کی رائے بھی تبدیل کرسکتے ہیں جو شدت پسندی سے نمٹنے کے لیئے حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کررہے ہیں۔ امریکہ میں گیلپ کے ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ ہر پانچ امریکیوں میں سے دو مسلمانوں کے خلاف تعصب کا شکار ہیں۔ | اسی بارے میں کیا کیا ہوا اور کیا کیا کیا گیا؟10 August, 2006 | آس پاس ’القاعدہ منصوبہ جیسا لگتا ہے‘10 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||