افغان پاک تو تو میں میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور افغانستان کے درمیان ’تو تو، میں میں’ کا ایک نیا دور آج کل اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ پھر سے جاری ہے۔ ایک مرتبہ پھر زبانی حملے افغان صدر حامد کرزئی کی جانب سے ہو رہے ہیں۔ پہلے پہل افغان صدر حامد کرزئی لپٹے لپٹے الفاظ میں تنقید کیا کرتے تھے لیکن اب سفارتی آداب کو ملحوظ خاطر نہ رکھتے ہوئے انہوں نےکُھلے بندوں پاکستانی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ بات وہی پرانی ہے کہ پاکستان طالبان کی مدد کر رہا ہے، تمام قتل و غارت کا ذمہ دار وہ ہے اور افغان عوام کو اپنا غلام بنانا چاہتا ہے۔ سیاسی تجزیہ نگار اسے حامد کرزئی کی جانب سے افغان صدر کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد سے اب تک کے انتہائی شدید حملے قرار دے رہے ہیں۔ ان کا سخت الفاظ کا انتخاب بھی کافی حیران کن ہے۔ بعض کے خیال میں یہ ان کی مایوسی کی عکاسی کرتا ہے جبکہ کئی دیگر کے بقول اس طرح وہ اپنی پالیسیوں کی ناکامی سے توجہ ہٹانے کے لیئے یہ الزام تراشی کر رہے ہیں۔ اس انتہائی سخت لب ولہجے کی بظاہر ایک وجہ اس سال موسم سرما کی آمد کے باوجود طالبان کی جانب سے کارروائیوں میں کمی کا نہ آنا ہوسکتی ہے۔ ماضی میں سرد موسم کی وجہ سے طالبان کارروائیوں میں کمی اور موسم بہار کی آمد پر ان میں دوبارہ تیزی کا رجحان دیکھا جاتا رہا ہے۔ لیکن اس مرتبہ صورت حال قدرے مختلف ہے۔
اس سے طالبان تحریک کی جنگی حکمت عملی میں اب قدرے تبدیلی کے اشارے ملتے ہیں۔ افغان حکومت پر دباؤ قائم رکھنے کی خاطر وہ اب سینکڑوں کی تعداد میں کسی ہدف کو نشانہ نہیں بناتے بلکہ صرف ایک خودکش حملہ آور بھیج دیتے ہیں۔ ان کے اہداف بھی گورنر ہاؤس جیسے اہم مقامات ہیں جہاں بڑے جانی نقصان کا امکان ہمیشہ زیادہ رہتا ہے۔ بڑے گروپ کی صورت میں اتحادی افواج کی جانب سے طالبان کو فضاء سے نشانہ بنایا جانا بھی آسان تھا۔ اس طرز لڑائی سے طالبان کے علاوہ عام شہری بھی بڑی تعداد میں لقمہ اجل بن رہے تھے۔ خودکش حملے اس صورتحال سے بچنے کا طالبان کے لیئے سب سے آسان حل ہے۔ اور وہ اس کا بھرپور فائدہ بھی اٹھا رہے ہیں۔ اس برس ایک اندازے کے مطابق سو سے زائد خودکش حملے ہوچکے ہیں۔ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ اس جنگی حکمت عملی کی تبدیلی سے بظاہر افغان حکومت سرپٹا گئی ہے۔ افغان حکومت کی جانب سے تازہ تنقید کے لیئے بنیادی بارود امریکی تھنک ٹینک انٹرنیشنل کرائسس گروپ کی رپورٹ اور امریکی اخبارات میں ان خبروں کی اشاعت نے مہیا کیا کہ پاکستان کے قبائلی علاقے وزیرستان میں امن معاہدے کے بعد وہاں طالبان کا راج قائم ہوگیا ہے۔ اس کے بعد سے پاکستان کو الزامات نے پھر سے گھیر لیا جن سے جان چھڑانا اس کے لیئے بظاہر ناممکن ثابت ہو رہا ہے۔ بات اتنی ہے کہ پاکستان میں افغان طالبان موجود ہیں۔ اس سے انکار ناممکن ہے۔ خود اپنے دفاع میں وزارت خارجہ کے ترجمان نے جو تازہ بیان دیا ہے اس میں ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے پانچ سو طالبان گرفتار کیئے جن میں سے اکثر کو افغانستان کے حوالے کیا جا چکا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ ادھر موجود ہیں تبھی پکڑے جا رہے ہیں۔ اب یہ نہیں معلوم کہ ایسے کتنے مزید طالبان یہاں موجود ہیں۔ دوسری طرف شمالی وزیرستان میں القاعدہ کے تقریبا سو افراد کی موجودگی کی بھی حکومت تصدیق کرتی ہے۔ افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان میں طالبان ترجمان کے ذرائع ابلاغ سے رابطوں سے بھی شکوک و شبہات کا جنم لینا یقینی ہے۔ ماضی میں ایک ایسے ہی ترجمان کی کراچی سے گرفتاری سے ان خدشات کو مزید تقویت ملتی ہے۔ اگر وہ افغانستان میں لڑ رہے ہیں تو وہیں کا میڈیا ان کے لیئے پاکستان کی نسبت زیادہ اہم ہے۔ اس کے علاوہ ان طالبان اور غیرملکیوں کی ملک میں بدستور موجودگی تک پاکستان کا ان الزامات سے چھٹکارا مشکل ہے۔ پاکستان کا وہی حال ہے جو کمبل اور ریچھ کی کہانی میں لالچی شخص کا ہوا۔ پاکستان نے اچھے حلیف کی صورت میں طالبان کی ماضی میں مدد کی لیکن اب وہی مدد اس کے لیئے تمام زندگی کا طعنہ بن چکا ہے۔ پاکستان کچھ بھی کر لے شاید یہ داغ اس سے نہیں ہٹ پائے گا۔ ایک اور مسئلہ وزیرستان بنا ہوا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی رسد نہ ہونے کی وجہ سے وہاں کے حالات کسی کو معلوم نہیں۔ ایسے میں طالبان اور غیرملکیوں کے وہاں آزادادنہ گھومنے، ان کی رٹ کے چلنے اور تربیتی مراکز کی موجودگی کی افواہیں سچ معلوم ہوتی ہیں۔ پاکستان ان سب الزامات کی بار بار تردید کرتے کرتے شاید تھک چکا ہوگا تاہم الزامات کی صحت پر بظاہر کوئی اثر نہیں پڑ رہا ہے۔
ان روز روز کے الزامات سے چھٹکارا پانے کے لیئے پاکستان کو شفافیت کا انتخاب کرنا ہوگا۔ اسے میڈیا اور ہر کسی کو قبائلی علاقوں میں جانے کی اجازت دینا ہوگی تاکہ لوگ خود دیکھ سکیں کہ آیا وہاں طالبان اور القاعدہ کا وجود ہے یا نہیں۔ صرف اسی طرح پاکستان کی شبیہہ بہتر ہوسکتی ہے۔ دوسری جانب افغان حکومت کو بھی پاکستانی حکام کا یہ مشورہ ماننا پڑے گا کہ انہیں طالبان کے ساتھ مل بیٹھ کر اس مسئلے کا حل ڈھونڈنا ہے۔ پانچ برس سے جاری طاقت کے استعمال سے معاملہ یقینا حل نہیں ہوا تو اب مذاکرات کو بھی موقع دیا جانا چاہیے۔ افغان حکومت طالبان سے مذاکرات کے لیئے بظاہر تیار ہے لیکن اس کے لیئے اسے طالبان کی چند شرائط بھی ماننا ہوں گی یعنی طالبان کا یہ موقف کہ وہ موجودہ حکومت کو تسلیم نہیں کرتے اور غیرملکی افواج کو ملک سے جلد نکلنا ہوگا۔ کچھ لے اور کچھ دے کی پالیسی ہی شاید افغان قضیے کا حل ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||