افغانستان کے لیے ارسطو نے کیا کیا تھا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگر پندرہ سواریاں پوری ہوئیں تو کل جہاز چلے گا ورنہ نہیں۔ افغانستان کی قومی ایئرلائن آریانہ کے دفتر میں موجود ریسپشنسٹ نے جب ہمیں یہ بتایا تو میں نے اور بی بی سی عربی سروس کے کفایت اللہ نبی خیل نے سڑک کے راستے ہی کابل سے مزار شریف جانے کا فیصلہ کر لیا۔ اور اس سے بہتر فیصلہ شاید میں نے زندگی میں پہلے کبھی نہ کیا ہو۔ سنگلاخ چٹانوں کے بیچوں بیچ گزرتی سڑک اور اس پر پڑتی برف۔ وادیاں آہستہ آہستہ وسیع ہوتی جاتی ہیں، چٹانیں پہاڑوں میں اور پہاڑ ٹیلوں میں تبدیل ہوتے جاتے ہیں اور آخر میں دور دور تک پھیلا دشت۔ اور ہاں کہیں کہیں راستے میں تباہ شدہ ٹینک اور کلسٹر بموں کے شیل۔ میں گیارہ ہزار فٹ پر بنی اسی سالنگ ٹنل سے گزری جسے روسیوں کے لیے کابل تک پہنچنے کا اہم راستہ سمجھا جاتا تھا۔ روس کے ساتھ جنگ کے دوران یہ ٹنل بند کرنے کے کافی کوشش کی گئی اور کہتے ہیں ایک دفعہ تو مجاہدین کے غیر ملکی آقاؤں نے انہیں یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ ایک ٹرک میں بارود بھر کر اس کو ٹنل کے اندر اڑا دیں لیکن اس میں ٹرک ڈرائیور کی جان بھی جاتی۔ افغانیوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ خود کشی کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔ بی بی سی کابل کے پائندہ سرگند نے مجھے بتایا، ’پچھلے مہینے کابل میں جس نے خود کش حملہ کیا تھا میں نے اس کی لاش دیکھی تھی۔ وہ صرف سترہ سال کا تھا۔‘ روس کے ساتھ لڑائی کے دوران امریکیوں کو اس بات پر بھی حیرت ہوتی تھی کہ مجاہدین سڑکیں اور پل تباہ کیوں نہیں کرتے۔ مجاہدین کہتے تھے ایسا کرنے سے افغانستان کی عوام کو تکلیف ہوتی ہے۔ وہی مجاہدین جب آپس میں لڑتے ہوئے کابل پر چڑھ دوڑے تو انہوں نے افغانستان کی عوام پر گولے برسائے۔ کہتے ہیں طالبان کی حکومت کے دوران امن و امان کی صورت حال بہت اچھی تھی لیکن کابل سے نکلتے ہوئے ہم نے انگوروں کے وہ باغ اور ان کے پاس بنے وہ گھر بھی دیکھے جو طالبان نے یہ کہہ کر تباہ کر دیئے کہ وہاں چھپ کر ان کے دشمن ان پر حملہ کرتے ہیں۔ پتہ نہیں ہماری فطرت میں اتنا تضاد کیوں ہے؟ اوپر سلنگ کے پہاڑوں پر برف پڑ رہی تھی، نیچے کابل میں دریا سوکھا ہوا تھا۔ کہتے ہیں جب سکندر اعظم اس علاقے پر حکومت کرتا تھا تو یہ علاقہ بنجر نہیں تھا۔ یہاں باغ تھے، انار اور پھول اگتے تھے اور ندیاں بہتی تھیں۔ پھر کہیں سے ایک دیو برآمد ہوا اور اس نے سب کچھ تباہ کر دیا۔ سکندر اعظم نے سب وزیروں سے مشورہ کیا لیکن کسی کو کچھ سمجھ نہیں آیا۔ پھر اس نے مشہور فلسفی ارسطو سے مدد مانگی۔ ارسطو نے ایک بڑا سا آئینہ تیار کیا اور اسے ایک گھوڑا گاڑی پر نصب کر کے دیو کی طرف دوڑا دیا۔ دیو نے جب اس میں اپنا عکس دیکھا تو وہ زور سے چیخا اور وہیں پر ڈھیر ہو گیا۔ ارسطو نے بعد میں بتایا کہ وہاں کے رہنے والوں کے اعمال اور لالچ کی وجہ سے یہ دیو وجود میں آیا تھا۔ ارسطو نے وہاں کے لوگوں کو ان ہی کا چہرا دکھایا تھا۔
|
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||