’ظلم کے خلاف لوہے کی دیوار بن جائیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہمارے بھائی ندیم سعید اور ان کی فیملی ہمارے پاس آئے۔ بہت دنوں سے وہ پروگرام بنا رہے تھے کہ میرے گھر چکر لگائیں، کیونکہ انہوں نے چھ ماہ کے لیے لندن چلے جانا ہے جہاں پر انہوں نے اپنا بی بی سی کا تربیتی کورس کرنا ہے۔ کئی ہفتوں سے انہیں بلا رہی تھی بالآخر وہ آگئے۔ رات گئے تک ان سے مختلف موضوعات پر بات چیت ہوتی رہی۔ انہوں نے سکول کے متعلق پوچھا۔ ان کے ننھے منے بیٹوں ولی مصطفیٰ اور دایان مصطفیٰ نے میرے گھر کو خوب رونق بخشی۔
خیر نسیم نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزالہ بی بی اور اس کی ماں کو بدمعاشی، دھونس، دھمکی اور طاقت کے زور پر گھر سے اٹھا لیا گیا۔ طاقت کے نشے میں دھت معاشرے کے یہ ناسور کب تک ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزت، انا، عصمت اور غیرت کو زخمی کرتے رہیں گے؟ لہذا ہمارے لیے بھاری ذمہ داریاں اور لمحہ فکریہ ہے۔ فرد کے تحفظ کی ریاست کی ذمہ داری، اعلٰی اداروں اور قانونی اداروں کی ذمہ داریاں ہمیں اپنے معاشرے میں نظر نہیں آتیں۔ اپنے حق کے لیے لڑنا اور آپ کا بیدار ہونا لازمی ہے۔ مجھ میں ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی کیوں کہ اس طرح کے دکھ میری روح کو زخمی کر دیتے ہیں ۔ بہرحال میں نے لوگوں کو کہا کہ میں ہر مظلوم کے ساتھ ہوں۔ میں نے بھی لوگوں سے بات کی کہ ہمارے حالات کوئی اور نہیں بدلنے آئے گا۔ جہاں ظلم ہوگا ہم سب مل کر لوہے کی دیوار بن کر ڈٹ جائیں تو ہم خوداپنےحالات بدل سکتے ہیں۔ کبیروالہ میں مجھے سب سے معیوب بات یہ لگی کہ مردوں کی اچھی خاصی تعداد میں عورت ایک بھی نہ تھی۔ غزالہ بی بی ایک پڑھی لکھی لڑکی ہے بلکہ اس دن وہ اپنی ماسٹرز کی ڈگری مکمل کر کے گھر گئی تھی۔ مخالف پارٹی نے غزالہ بی بی کے چچا پر یہ الزام لگا کر اٹھا لیا کہ اس نے ان کی کوئی عورت بھگائی ہے۔ بہرحال یہ کہاں کا انصاف ہے کہ چچا کی سزا بھتیجی کو ملے؟ مگر یہاں اکثر ہوتا رہتا ہے۔ پھر ہم رات گئے واپس گھر آگئے۔
ہم معمول کے مطابق مختلف مسائل لے کر آنے والے لوگوں کا کام اور اپنے سکول جس میں سہ ماہی ایگزام کے لیے پیپرز کا بنانا، چھپائی کرانا اور اپنی تنظیم کے پروپوزل بنانے میں مصروف رہے اور ساتھ میں کینیڈا سے دعوت نامے موصول ہو چکے تھے جہاں آٹھ تاریخ کو ہمیں پہنچنا تھا۔ اس کی بھی کچھ تھوڑی بہت تیاری کرنا تھی۔ شام پانچ بجہ میرے موبائل پر میسج کی گھنٹی بجی۔ نسیم نے فوراً مسیج پڑھا اس میں ایک درد ناک پیغام تھا کہ ندیم بھائی کے بڑے بھائی کی ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں بہت زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے موت واقع ہو چکی ہے۔ نسیم نے فوراً ندیم بھائی کا نمبر ملایا تاکہ ان سے بات کی جا سکے مگر نمبر بزی تھا۔ خیر مسلسل ٹرائی کے بعد ندیم بھائی سے بات ہوئی۔ وہ خاصے پریشان اور گھبرائے ہوئے تھے۔ ان سے صحیح بات نہیں ہو پا رہی تھی اور وہ ڈیرہ اسماعیل کے لیے روانہ تھے۔ میں نے ان سے افسوس کیا۔ نسیم نے بھی۔
صبح چار بجے میں اور نسیم ملتان کے لیے روانہ ہو پڑے۔ نو بجے ہمیں کراچی کے لیے فلائی کرنا تھا۔ ساڑھے دس بجے کے قریب ہم کراچی پہنچ گئے۔ پورا دن ہمیں کراچی گزارنا تھا اور رات میں ہماری فلائٹ تھی۔ کراچی میں وہ دن مجھے یاد آیا۔ پچھلے سال جب ہم بیگم جمشید مارکر کے گھر گئے۔ انہوں نے ہمیں بلایا تھا کہ ان سے کسی نے میرے سکول کے لیے یو کے سے امداد دینے کے لیے کہا تھا۔ ان سے میں ملی تھی۔ بہرحال ان کو میں نے سکول کے لیے دو یا تین سالہ بجٹ ایک پروپوزل کی صورت میں بھیجا تھا مگر وہ امداد آج تک نہ ملی۔ جس کے بارے میں چند ہفتے قبل معلوم ہوا تھا کہ اس وقت کی وومن منسٹر اور وزیراعظم کی مشیر برائے خواتین بیگم نیلوفر بختیار صاحبہ نے ایسا ہونے نہ دیا۔ وہ ایک الگ کہانی ہے مگر میرا سکول آج بھی اللہ کی رحمت سے اچھا خاصا چل رہا ہے۔ لیکن یہ خیال مجھے اکثر تکلیف تو دیتا ہے کہ کیا یہ سکول پاکستان کے پسماندہ علاقے میں سہی مگر میرے پاکستان کا حصہ تو ہے۔
سات تاریخ کو ہم لندن، لندن سے ٹورانٹو پہنچے۔ وہاں ہم ڈیلٹا چیزیا ہوٹل گئے۔ ہم بہت تھک چکے تھے، بستر میں جاتے ہی نیند کی آغوش میں چلے گئے۔ کھانے کے لیے کہا گیا۔ ہم نے کھانا ہوٹل میں ہی منگوا لیا کیوں کہ ہم کھانا صرف پاکستانی ریسٹورنٹ یعنی اپنا دیسی کھانا ہی کھاتیں ہیں۔ کھانا بھی ٹیبل پر رکھ کر سوتی رہیں۔ رات میں ڈنر میڈیٹرا ریسٹوران میں تھا مگر ہم تھکاوٹ کی وجہ سے ادھر ڈنر پر نہ جا سکیں۔ اپنے رہائشی ہوٹل سے ہی کھانا کھا کر سو گئیں۔
’آئی آئی ایف ایف فلم میکرز بریک فاسٹ دی فیئرمونٹ رائل یورک ہول‘ اس کے بعد ’ٹورانٹو وومن کال فور ایکشن جینڈر سٹڈیز انسٹیٹیوٹ‘ میں میٹنگ تھی۔ پھر شام میں ڈاکومینٹری کی پہلی پبلک سکرینگ تھی۔ رات سکرینگ میں ہم صرف پانچ منٹ بیٹھے۔ اس کے بعد میں اور نسیم میوزیم سے باہر آگئے اور کوئی آدھے گھنٹے باقی مووی دیکھی۔ سچ تو یہ ہے کہ اس ڈاکیومینٹری کا ابتدائی حصہ دیکھنے کی مجھ میں ہمت نہیں ہوئی۔ وہ حالات و واقعات میرے لیے بہت اذیت ناک ہیں۔ اگرچہ دکھ سکھ زندگی کا حصہ ہیں اور جاری و ساری ہیں لیکن کچھ چیزیں مجھے پہلے سے زیادہ دکھی کر دیتی ہیں۔
نبیلہ عنبر خان، العین نصرت انجم، پاکستان محمد اعجاز، اٹلی ظہیر منہاس، کوٹلی شاہدہ اکرم، ابو ظہبی عامر گجر، رحیم یار خان محمد نسیم، پرتگال علی عدنان، دبئی ناصر احمد، بہاول نگر جاویر اقبال عوان، کراچی ملک ایوب، اسلام آباد |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||