BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Monday, 20 November, 2006, 15:35 GMT 20:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ظلم کے خلاف لوہے کی دیوار بن جائیں‘

مختار مائی اپنے سکول میں
مختار مائی اپنے سکول میں


یکم ستمبر، دو ہزار چھ

ہمارے بھائی ندیم سعید اور ان کی فیملی ہمارے پاس آئے۔ بہت دنوں سے وہ پروگرام بنا رہے تھے کہ میرے گھر چکر لگائیں، کیونکہ انہوں نے چھ ماہ کے لیے لندن چلے جانا ہے جہاں پر انہوں نے اپنا بی بی سی کا تربیتی کورس کرنا ہے۔ کئی ہفتوں سے انہیں بلا رہی تھی بالآخر وہ آگئے۔ رات گئے تک ان سے مختلف موضوعات پر بات چیت ہوتی رہی۔ انہوں نے سکول کے متعلق پوچھا۔ ان کے ننھے منے بیٹوں ولی مصطفیٰ اور دایان مصطفیٰ نے میرے گھر کو خوب رونق بخشی۔


دو ستمبر، دو ہزار چھ

مختار مائی
صبح ہم نے اور ندیم بھائی کی فیملی نے ناشتہ کیا۔ ناشتے کے بعد سکول کا وزٹ کیا۔ ندیم بھائی مختلف کلاسز میں گئے ۔ اس کے بعد انہوں نے میری بی بی سی کے لیے لکھی جانے والی ڈائری سے متعلق ریکارڈنگ کی۔ تقریباً دو پہر میں ہم لوگ میری دوست نسیم کے گھر گئے جہاں ان کی والدہ سے ندیم بھائی اور بھابھی نے نسیم کی نانی کی وفات پر فاتحہ خوانی کی اور ہم وہاں سے ملتان کے لیے روانہ ہو گئے۔ ہمیں ضلع خانیوال کی تحصیل کبیروالہ میں غزالہ بی بی کے اغوا کیس میں شرکت اور حکام سے اس کی بازیابی کا مطالبہ کرنا تھا۔ ندیم بھائی اور ان کی فیملی کوگھر چھوڑ کر میں اور میری دوست نسیم کبیروالہ روانہ ہو گئے۔ کبیروالہ پہنچے تو وہاں لوگوں کا ایک بڑا ہجوم جمع تھا۔ کونسل چوک کبیروالہ میں لوگوں کی بھاری تعداد کی موجودگی اس بات کی تائید کررہی تھی کہ لوگ آہستہ آہستہ آگاہ ہو رہے ہیں کہ اپنے حق کے لیے انہیں خود جدوجہد کرنی ہے وگرنہ ان کے حالات کوئی نہیں بدلے گا۔

خیر نسیم نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزالہ بی بی اور اس کی ماں کو بدمعاشی، دھونس، دھمکی اور طاقت کے زور پر گھر سے اٹھا لیا گیا۔ طاقت کے نشے میں دھت معاشرے کے یہ ناسور کب تک ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزت، انا، عصمت اور غیرت کو زخمی کرتے رہیں گے؟ لہذا ہمارے لیے بھاری ذمہ داریاں اور لمحہ فکریہ ہے۔ فرد کے تحفظ کی ریاست کی ذمہ داری، اعلٰی اداروں اور قانونی اداروں کی ذمہ داریاں ہمیں اپنے معاشرے میں نظر نہیں آتیں۔ اپنے حق کے لیے لڑنا اور آپ کا بیدار ہونا لازمی ہے۔

مجھ میں ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی کیوں کہ اس طرح کے دکھ میری روح کو زخمی کر دیتے ہیں ۔ بہرحال میں نے لوگوں کو کہا کہ میں ہر مظلوم کے ساتھ ہوں۔ میں نے بھی لوگوں سے بات کی کہ ہمارے حالات کوئی اور نہیں بدلنے آئے گا۔ جہاں ظلم ہوگا ہم سب مل کر لوہے کی دیوار بن کر ڈٹ جائیں تو ہم خوداپنےحالات بدل سکتے ہیں۔ کبیروالہ میں مجھے سب سے معیوب بات یہ لگی کہ مردوں کی اچھی خاصی تعداد میں عورت ایک بھی نہ تھی۔

غزالہ بی بی ایک پڑھی لکھی لڑکی ہے بلکہ اس دن وہ اپنی ماسٹرز کی ڈگری مکمل کر کے گھر گئی تھی۔ مخالف پارٹی نے غزالہ بی بی کے چچا پر یہ الزام لگا کر اٹھا لیا کہ اس نے ان کی کوئی عورت بھگائی ہے۔ بہرحال یہ کہاں کا انصاف ہے کہ چچا کی سزا بھتیجی کو ملے؟ مگر یہاں اکثر ہوتا رہتا ہے۔ پھر ہم رات گئے واپس گھر آگئے۔


تین، چار، پانچ ستمبر، دو ہزار چھ

ہم معمول کے مطابق مختلف مسائل لے کر آنے والے لوگوں کا کام اور اپنے سکول جس میں سہ ماہی ایگزام کے لیے پیپرز کا بنانا، چھپائی کرانا اور اپنی تنظیم کے پروپوزل بنانے میں مصروف رہے اور ساتھ میں کینیڈا سے دعوت نامے موصول ہو چکے تھے جہاں آٹھ تاریخ کو ہمیں پہنچنا تھا۔ اس کی بھی کچھ تھوڑی بہت تیاری کرنا تھی۔ شام پانچ بجہ میرے موبائل پر میسج کی گھنٹی بجی۔

نسیم نے فوراً مسیج پڑھا اس میں ایک درد ناک پیغام تھا کہ ندیم بھائی کے بڑے بھائی کی ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں بہت زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے موت واقع ہو چکی ہے۔ نسیم نے فوراً ندیم بھائی کا نمبر ملایا تاکہ ان سے بات کی جا سکے مگر نمبر بزی تھا۔ خیر مسلسل ٹرائی کے بعد ندیم بھائی سے بات ہوئی۔ وہ خاصے پریشان اور گھبرائے ہوئے تھے۔ ان سے صحیح بات نہیں ہو پا رہی تھی اور وہ ڈیرہ اسماعیل کے لیے روانہ تھے۔ میں نے ان سے افسوس کیا۔ نسیم نے بھی۔


چھ ستمبر، سو ہزار چھ

صبح چار بجے میں اور نسیم ملتان کے لیے روانہ ہو پڑے۔ نو بجے ہمیں کراچی کے لیے فلائی کرنا تھا۔ ساڑھے دس بجے کے قریب ہم کراچی پہنچ گئے۔ پورا دن ہمیں کراچی گزارنا تھا اور رات میں ہماری فلائٹ تھی۔ کراچی میں وہ دن مجھے یاد آیا۔ پچھلے سال جب ہم بیگم جمشید مارکر کے گھر گئے۔ انہوں نے ہمیں بلایا تھا کہ ان سے کسی نے میرے سکول کے لیے یو کے سے امداد دینے کے لیے کہا تھا۔ ان سے میں ملی تھی۔ بہرحال ان کو میں نے سکول کے لیے دو یا تین سالہ بجٹ ایک پروپوزل کی صورت میں بھیجا تھا مگر وہ امداد آج تک نہ ملی۔ جس کے بارے میں چند ہفتے قبل معلوم ہوا تھا کہ اس وقت کی وومن منسٹر اور وزیراعظم کی مشیر برائے خواتین بیگم نیلوفر بختیار صاحبہ نے ایسا ہونے نہ دیا۔ وہ ایک الگ کہانی ہے مگر میرا سکول آج بھی اللہ کی رحمت سے اچھا خاصا چل رہا ہے۔ لیکن یہ خیال مجھے اکثر تکلیف تو دیتا ہے کہ کیا یہ سکول پاکستان کے پسماندہ علاقے میں سہی مگر میرے پاکستان کا حصہ تو ہے۔


سات ستمبر، سو ہزار چھ

سات تاریخ کو ہم لندن، لندن سے ٹورانٹو پہنچے۔ وہاں ہم ڈیلٹا چیزیا ہوٹل گئے۔ ہم بہت تھک چکے تھے، بستر میں جاتے ہی نیند کی آغوش میں چلے گئے۔ کھانے کے لیے کہا گیا۔ ہم نے کھانا ہوٹل میں ہی منگوا لیا کیوں کہ ہم کھانا صرف پاکستانی ریسٹورنٹ یعنی اپنا دیسی کھانا ہی کھاتیں ہیں۔ کھانا بھی ٹیبل پر رکھ کر سوتی رہیں۔ رات میں ڈنر میڈیٹرا ریسٹوران میں تھا مگر ہم تھکاوٹ کی وجہ سے ادھر ڈنر پر نہ جا سکیں۔ اپنے رہائشی ہوٹل سے ہی کھانا کھا کر سو گئیں۔


نو ستمبر، دو ہزار چھ

’آئی آئی ایف ایف فلم میکرز بریک فاسٹ دی فیئرمونٹ رائل یورک ہول‘ اس کے بعد ’ٹورانٹو وومن کال فور ایکشن جینڈر سٹڈیز انسٹیٹیوٹ‘ میں میٹنگ تھی۔ پھر شام میں ڈاکومینٹری کی پہلی پبلک سکرینگ تھی۔ رات سکرینگ میں ہم صرف پانچ منٹ بیٹھے۔ اس کے بعد میں اور نسیم میوزیم سے باہر آگئے اور کوئی آدھے گھنٹے باقی مووی دیکھی۔ سچ تو یہ ہے کہ اس ڈاکیومینٹری کا ابتدائی حصہ دیکھنے کی مجھ میں ہمت نہیں ہوئی۔ وہ حالات و واقعات میرے لیے بہت اذیت ناک ہیں۔ اگرچہ دکھ سکھ زندگی کا حصہ ہیں اور جاری و ساری ہیں لیکن کچھ چیزیں مجھے پہلے سے زیادہ دکھی کر دیتی ہیں۔


آپ کے پیغامات

نبیلہ عنبر خان، العین
میری دعا ہے کہ آپ جس مقصد کے لیے گھر سے نکلی ہیں اور اتنا کچھ برداشت کیا اللہ تعالٰی آپ کو اس کی جزا دے۔ ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔

نصرت انجم، پاکستان
مختار مائی مجھے آپ پر فخر ہے۔ آپ ایک عظیم اور بہادر خاتون ہیں۔ میں آپ کی خوشی اور کامیابی کے لیے دعاگو ہوں۔

محمد اعجاز، اٹلی
مختار مائی بہت اچھا کام کر رہی ہیں۔ اللہ ان کے کام میں برکت فرمائے۔ ہماری دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔

ظہیر منہاس، کوٹلی
آپ غریبوں کی مددگار ہیں۔ آپ اس سماجی کام کو جاری رکھیں۔ خدا اور ہم آپ کے ساتھ ہیں۔

شاہدہ اکرم، ابو ظہبی
آپ کی ڈائری باقاعدگی سے پڑھتی ہوں اور دعا کرتی ہوں کہ اللہ آپ جیسی ہمت اور طاقت ہر مظلوم لڑکی کو عطا کرے اور دنیا سے ان درندوں کا خاتمہ کرے جو انسان کو انسان بلکہ لڑکی کو انسان نہیں سمجھتے۔ ڈھیروں دعائیں۔

عامر گجر، رحیم یار خان
پاکستانی قوم کو آپ پر فخر ہے۔ آپ ایک عظیم اور دلیر خاتون ہیں۔ محنت کے ساتھ مزید اچھے کام کرتی رہیں۔ اللہ آپ کی مدد کرے۔

محمد نسیم، پرتگال
آپ ایک بہادر خاتون ہیں۔ اللہ آپ کی مدد کرے گا۔ بس ہوشیار رہیں اور کامیابی آپ کی ہوگی۔

علی عدنان، دبئی
مختار مائی آپ بہت زبردست کام کر رہی ہیں۔ اللہ ہم سب پر رحم کرے۔ یہ ایک اچھی بات ہے کہ پاکستانی عورتیں ایسے مسائل پر آواز بلند کر رہی ہیں۔

ناصر احمد، بہاول نگر
آپ ایک بہادر خاتون ہیں اور میں آپ کی دل کی گہرائیوں سے قدر کرتا ہوں۔ ہر پاکستانی عورت کو آپ کی طرح بہادر ہونا چاہیے۔ اگر کبھی آپ کو اس نیک کام کے لیے میری ضرورت پڑے تو مجھے اپنا ساتھی پائیں گی۔

جاویر اقبال عوان، کراچی
یقین کریں کی آپ کی ہمت نے مجھے بھی زندگی میں نئی راہیں دکھائی ہیں۔ میں آپ کی این جی او میں شامل ہونا چاہتا ہوں۔

ملک ایوب، اسلام آباد
میں آپ کے کام کو سراہتا ہوں۔ آپ اکثریت کی آواز ہیں۔ جو لوگ آپ کے خلاف ہیں وہ آج بھی آندھیرے میں رہ رہے ہیں۔ آپ ان لوگوں میں سے ہیں جو ایک قدم اٹھاتے ہیں تو اللہ انہیں دس قدم آگے لے جاتا ہے۔


پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
مختار مائیحج کیسے کراؤں؟
جب یہ کہا تو اس نے بد دعائیں دینا شروع کر دیں
مائی بلاگمائی بلاگ
’نیا ہسپتال، سکول کی تعمیر اور سکینہ مائی‘
مائی بلاگمائی بلاگ
’کچے مٹی کے گھر بنانا، گڑیوں سے کھیلنا‘
مختار مائیمائی بلاگ
’ظلم پر خاموش رہنا ظلم ہے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد