’نیا ہسپتال، سکول کی تعمیر اور سکینہ مائی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مختار مائی بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے لیے اپنے خیالات اور اپنے صبح و شام کی تفصیلات ایک ڈائری کی شکل میں قلم بند کر رہی ہیں۔ یہ اسی سلسلے کی اگلی کڑی ہے۔ آپ مختار مائی کے نام اپنے پیغامات اسی صفحے کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
ہم ڈی جی خان گئے جہاں میری دوست نسیم اختر کی کزن کی بارات سکھر سے ڈی جی خان آئی۔ میں نے اکثر شادیوں پر جانا بالکل چھوڑ دیا ہے۔ میرا دل ہی نہیں کرتا۔ مگر مجھے میری دوست کی خاطر جانا پڑا۔ رات گئے ہم لوگ واپس گھر آگئے۔
سکول ابھی پرائمری ہے اور ہائی سکول کی بلڈنگ مکمل ہونے کے مراحل میں ہے۔ پچھلے سال جب میں نے ہائی کورٹ میں کیس ہارا تو ٹینشن میں اسلام آباد اپنا کیس سپریم کورٹ دائر کرنے کے سلسلے میں گئی۔ وہاں ڈاکٹر فرزانہ باری صاحبہ نے کہا کہ کوئی آپ کے علاقے کے لیے سکول دینا چاہتا ہے۔ انہوں نے میری ملاقات سینیٹر چوھدری انوار بیگ سے کروائی۔ انہوں نے بتایا کہ دبئی میں کوئی صاحب آپ کو سکول بنا کر دینا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد انوار بیگ صاحب نے ملتان سے کچھ لوگ بھیجے، جنہوں نے جگہ وغیرہ دیکھی اور نقشہ وغیر بھی بنایا۔ جگہ کم تھی تو میں نے اپنے گھر کا صحن بھی سکول کے لیے دے دیا۔ پچھلے سال امین فہیم صاحب نے مجھے اسلام آباد بلا کر میڈیا کے سامنے سات لاکھ کا چیک دیا۔ جس کا ڈائریکٹ معاہدہ علی ایسوسی ایٹ ملتان سے کیا جا چکا تھا۔ وہ چیک میں نے انہیں دے دیا ۔ اب آٹھ ماہ سے یہ سکول بن رہا ہے جس کے کل چھ کمرے، ایک برامدہ جس پر انتہائی ناقص میٹیریل اور انتہائی سست روی سے کام جاری ہے۔ دبئی سے محمد حسین خان صاحب نے 6 لاکھ روپے کی خطیر رقم یقیناً بھیجی جو ایک بڑی اور معیاری بلڈنگ کے لیے مناسب ہے مگر صرف چھ کمروں پر مشتمل سادہ سی بلڈنگ بنائی جا رہی ہے۔ مگر پچھلے آٹھ ماہ سے ٹھیکیدار اور کمپنی والوں نے ہمیں ذلیل و خوار کر رکھا ہے۔ ایک ہفتہ کام کرتے ہیں اور ایک ایک ماہ غائب رہتے ہیں۔ جس سے میرا گھر اور سکول بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ اسی مسئلے میں میں نے امین فہیم صاحب سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ میں معلومات لے کر آپ کو بتاؤں گا۔ ابھی تک کچھ واضح نہیں ہو سکا ہے۔ جس سے میں خاصی پریشان ہوں۔
ہم نے رحیم یار خان جانے کا پروگرام فائنل کیا کیوں کہ ہمیں سکینہ مائی، جن کی قبر سے میت نکال کر بےحرمتی کی گئی تھی، کے اہل خانہ اور اہل علاقہ سے اظہار یکجہتی کے لیے ہر صورت جانا تھا۔ چنانچہ ہم نے تئیس اگست کو جانے کا پروگرام فائنل کیا۔ کامران، پاکستان سید علی، امریکہ ساد اللہ جان، کولکتہ، بھارت حیدر بنگش، کوئٹہ شیرجان مجاہد، پشاور محمد راشد، فیصل آباد بلال، دبئی |
اسی بارے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||