BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 October, 2006, 10:42 GMT 15:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نیا ہسپتال، سکول کی تعمیر اور سکینہ مائی‘
مختار مائی بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے لیے اپنے خیالات اور اپنے صبح و شام کی تفصیلات ایک ڈائری کی شکل میں قلم بند کر رہی ہیں۔ یہ اسی سلسلے کی اگلی کڑی ہے۔ آپ مختار مائی کے نام اپنے پیغامات اسی صفحے کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔



انیس اگست، دو ہزار چھ
ہم لوگ قریبی تحصیل علی پور گئے جہاں ہم فی الحال صرف ڈسپنسری بنا رہے ہیں۔ کیوں کہ ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ بڑا کلینک یا ہسپتال بنا سکیں۔ بہرحال پچھلے سال مسٹر جیک کیلفورنیا سے میروالہ تشریف لائے تھے۔ انہوں نے ہسپتال کے لیے دو ڈھائی ہزار ڈالر جمع کر کے ’مرسی کورس‘ کو بھیجا ہے اور کہا ہے کہ چاہے ایک کمرہ ہی کیوں نہ بنے، بنا دیں۔ تو اسی ہسپتال کے کمرے کا سامان خریدنے گئے اور کچھ سامان وغیرہ خریدا۔


بیس اگست، دو ہزار چھ

ہم ڈی جی خان گئے جہاں میری دوست نسیم اختر کی کزن کی بارات سکھر سے ڈی جی خان آئی۔ میں نے اکثر شادیوں پر جانا بالکل چھوڑ دیا ہے۔ میرا دل ہی نہیں کرتا۔ مگر مجھے میری دوست کی خاطر جانا پڑا۔ رات گئے ہم لوگ واپس گھر آگئے۔


اکیس اگست، دو ہزار چھ

سکول ابھی پرائمری ہے اور ہائی سکول کی بلڈنگ مکمل ہونے کے مراحل میں ہے۔ پچھلے سال جب میں نے ہائی کورٹ میں کیس ہارا تو ٹینشن میں اسلام آباد اپنا کیس سپریم کورٹ دائر کرنے کے سلسلے میں گئی۔ وہاں ڈاکٹر فرزانہ باری صاحبہ نے کہا کہ کوئی آپ کے علاقے کے لیے سکول دینا چاہتا ہے۔

انہوں نے میری ملاقات سینیٹر چوھدری انوار بیگ سے کروائی۔ انہوں نے بتایا کہ دبئی میں کوئی صاحب آپ کو سکول بنا کر دینا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد انوار بیگ صاحب نے ملتان سے کچھ لوگ بھیجے، جنہوں نے جگہ وغیرہ دیکھی اور نقشہ وغیر بھی بنایا۔ جگہ کم تھی تو میں نے اپنے گھر کا صحن بھی سکول کے لیے دے دیا۔

پچھلے سال امین فہیم صاحب نے مجھے اسلام آباد بلا کر میڈیا کے سامنے سات لاکھ کا چیک دیا۔ جس کا ڈائریکٹ معاہدہ علی ایسوسی ایٹ ملتان سے کیا جا چکا تھا۔ وہ چیک میں نے انہیں دے دیا ۔ اب آٹھ ماہ سے یہ سکول بن رہا ہے جس کے کل چھ کمرے، ایک برامدہ جس پر انتہائی ناقص میٹیریل اور انتہائی سست روی سے کام جاری ہے۔ دبئی سے محمد حسین خان صاحب نے 6 لاکھ روپے کی خطیر رقم یقیناً بھیجی جو ایک بڑی اور معیاری بلڈنگ کے لیے مناسب ہے مگر صرف چھ کمروں پر مشتمل سادہ سی بلڈنگ بنائی جا رہی ہے۔ مگر پچھلے آٹھ ماہ سے ٹھیکیدار اور کمپنی والوں نے ہمیں ذلیل و خوار کر رکھا ہے۔ ایک ہفتہ کام کرتے ہیں اور ایک ایک ماہ غائب رہتے ہیں۔ جس سے میرا گھر اور سکول بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ اسی مسئلے میں میں نے امین فہیم صاحب سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ میں معلومات لے کر آپ کو بتاؤں گا۔ ابھی تک کچھ واضح نہیں ہو سکا ہے۔ جس سے میں خاصی پریشان ہوں۔


بائیس اگست، دو ہزار چھ

ہم نے رحیم یار خان جانے کا پروگرام فائنل کیا کیوں کہ ہمیں سکینہ مائی، جن کی قبر سے میت نکال کر بےحرمتی کی گئی تھی، کے اہل خانہ اور اہل علاقہ سے اظہار یکجہتی کے لیے ہر صورت جانا تھا۔ چنانچہ ہم نے تئیس اگست کو جانے کا پروگرام فائنل کیا۔

کامران، پاکستان
میرے خیال میں مختار مائی بہت اچھا کام سرانجام دے رہی ہیں۔ انہیں اپنا کام جاری رکھنا چاہیے۔

سید علی، امریکہ
تعلیم سارے مسئلے کا حل ہے اور آپ کی سکول بنانے کی تمنا ایک بہت اچھی کوشش ہے۔ آپ کوشش کریں کہ اپنی کوئی ویب سائٹ بنائیں اور اس میں آن لائن ڈونیشن کا فیچر ہو۔ آپ کے لیے دعا گو۔۔۔

ساد اللہ جان، کولکتہ، بھارت
بہت خوب۔۔۔

حیدر بنگش، کوئٹہ
مختار مائی آپ جیسا دنیا میں کوئی نہیں۔ مگر ظاہر ہے کہ صدر مشرف اور ہمارے ملک کے عدالتی نظام نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔

شیرجان مجاہد، پشاور
مختار مائی نے اپنی قوم اور ملک کے لیے بہت کام کیا ہے اور ہمیں ان پر فخر ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں عورتوں کا آواز اٹھانا ناممکن سا لگتا تھا وہاں مختار مائی نے جو کچھ کر دکھایا قابل تعریف ہے، وہ بھی جب حکومت سے انہیں بالکل حمایت حاصل نہیں ہوئی۔ ہمم سب کو امید ہے کہ آپ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گی۔

محمد راشد، فیصل آباد
یہ بہت ہی اہم موضوع ہے۔

بلال، دبئی
آپ بہت ہی بہادر اور ہمت والی ہیں۔ آج ہمارے ملک میں آپ ہی سچی خاتون لیڈر ہیں اور مجھے آپ پر فخر ہے۔


پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
مائی بلاگمائی بلاگ
’کچے مٹی کے گھر بنانا، گڑیوں سے کھیلنا‘
مختار مائیمائی بلاگ
’ظلم پر خاموش رہنا ظلم ہے‘
مائی بلاگمائی بلاگ
’جاگیرداروں اور عدالتی محافظوں سے شکوے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد