BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Friday, 08 September, 2006, 13:21 GMT 18:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وڈیروں، جاگیرداروں اور عدالتی محافظوں سے شکوے

مختار مائی بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے لیے اپنے خیالات اور اپنے صبح و شام کی تفصیلات ایک ڈائری کی شکل میں قلم بند کر رہی ہیں۔ یہ اسی سلسلے کی اگلی کڑی ہے۔ آپ مختار مائی کے نام اپنے پیغامات اسی صفحے کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔


بائیس جولائی دو ہزار چھ
طیبہ جو مسلم امریکی ہیں، مجھے ملنے میرے گاؤں میروالہ اپنی امی کے ہمراہ آئیں۔ دن بھر سکول کی سرگرمیوں میں مصروف رہے۔ شام میں تحصیل علی پور کی نواحی بستی میں ایک شادی تھی۔ میں تو شادی وغیرہ میں جانا زیادہ پسند نہیں کرتی مگر مہمانوں کو اپنے رسم و رواج دکھانے کی غرض سے لے گئی کہ وہ اس ہلکی پھلکی تقریب میں ریلیکس محسوس کریں گے۔ میں نے سکیورٹی والوں کو کہا کہ چلیں تو انہوں نے کہا کہ ہمیں اوپر سے حکم ملا ہے کہ صرف ایک گارڈ آپ اپنی گاڑی میں بٹھا کر لے جائیں تو ٹھیک ہے ورنہ کوئی سکیورٹی نہیں ہے۔ ہمارے ایس پی صاحب کا حکم ہے۔ میں نے کہا، جی ٹھیک ہے۔ گاڑی میں جگہ بھی نہیں۔ لہٰذا سکیورٹی ہمارے ساتھ نہ گئی۔ خیر ہم لوگوں نے شادی کی تقریب میں شرکت کی۔ رات گئے گھر واپس آ گئے۔ تقریباً رات کے گیارہ بجے، جتوئی تھانہ سے ایک انسپکٹر آیا۔ اس نے ہاتھ میں ایک کاغذ پکڑا ہوا تھا کہ آپ اس پر سائن کر دیں۔ جس کا لبِ لباب بھی وہی تھا کہ ہم آپ کو سکیورٹی کے لیے صرف ایک گارڈ فراہم کر سکتے۔ میں نے اس کاغذ پر سائن نہیں کیئے اور کہا کہ ٹھیک ہے۔ اسی رات تقریباً ایک بجے میری دوست نسیم کو ایمرجنسی اپنے گھر جانا پڑا جہاں اس کی بہن سیریس کنڈیشن میں تھی۔ نسیم اپنی بہن کو رات میں ملتان لے کر چلی گئی مگر میں پوری رات سو نہ سکی۔ نسیم کو فون کرتی رہی اور خیریت معلوم کرتی رہی۔ دن میں طیبہ وغیرہ لوگ واپس چلے گئے۔ پھر کچھ اور لوگ آ گئے جیسا کہ معمول کے مطابق دن میں میرے پاس مختلف تعداد میں لوگ آتے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا کام کر دیں۔ صدر مشرف صاحب سے کہہ دیں، وزیرِاعظم کو کہہ کر گورنر کو کہیں تو فوراً ہمارا کام ہو جائے گا۔ مگر میں انہیں سمجھاتی ہوں کہ میں بھی آپ لوگوں کی طرح ایک عام انسان ہوں۔ یہ مجھ سے پوچھیں کہ مجھے لوگوں کے مسائل کی خاطر ڈٹ کر لڑنے کے لئے کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ صرف میں ہی جانتی ہوں۔ دوپہر تین بجے نسیم اختر کا فون آیا کہ اس کی بہن کے میجر آپریشن کے لئے ڈاکٹروں کے لئے کہہ دیا ہے۔ میں پریشان ہوئی۔


تئیس جولائی دو ہزار چھ
ملتان کے لئے روانہ ہوئی تو دوبارہ پولیس کو سکیورٹی کے لئے کہا۔ مگر انہوں نے کہا کہ ہم مجبور ہیں، آپ کو سکیورٹی نہیں دے سکتے ہیں۔ میں بغیر سکیورٹی کے ملتان چلی گئی۔ وہ رات میں نے اپنی دوست نسیم کے ہاں ملتان میں گزاری۔ صبح ہم ڈاکٹر نسیم ملک سے ملے اور شمشاد بی بی سے متعلق بات کی کہ اس کے علاج معالجے میں کچھ ہماری مدد کریں۔ شمشاد بی بی وہ لڑکی ہے جس کے ساتھ پچھلے سال اوچ شریف میں 6 سات بندے جنسی زیادتی کر کے ایک گہرے کنوئیں میں پھینک گئے تھے۔


چوبیس جولائی دو ہزار چھ
تحصیل جتوئی سے ایک مائی آئی۔ اس کے بیٹے کو اس کے شوہر نے اپنے بھانجوں کے ساتھ مل کر قتل کروا دیا تھا۔ پہلے مجھے اس عورت کی اس بات پر یقین بھی نہیں آیا اور مجھے حیرت ہوئی کہ باپ کا یہ گھناؤنا کھیل کس قدر قابلِ مذمت اور دردناک ہے۔ تین دن تحقیقات کے بعد یہ واضح ہوا کہ واقعی باپ نے قتل کروایا ہے۔ تاحال باپ گرفتار نہیں ہوا۔


پچیس جولائی دو ہزار چھ
دوپہر میں شمشاد بی بی کے گھر گئی اور اسے ملتان ڈاکٹر کے پاس لے گئی۔ ڈاکٹر بھی اسے دیکھ کر پریشان ہوئی۔ خیر ڈاکٹر صاحبہ نے کہا کہ میں اس کا زخم ٹھیک کرنے کی کوشش کروں گی۔


چھبیس جولائی دو ہزار چھ
میری بہن جمال کی سات سال پہلے کینسر کے مرض سے موت ہوئی تھی۔ آج اس کی برسی ہے۔ مجھے اپنی بہن کی تکلیف، گزرے ہوئے دکھوں کے وہ دن، اپنے پرائیوں کے رویے، اپنی بے بسی کا وہ دور یاد آتا ہے تو میری روح زخمی ہو جاتی ہے۔

میں اپنی سوچوں میں گم بیٹھی تھی کہ میرے چھوٹے بھائی عبدالشکور نے آواز دی میری کزن یعنی خالہ کی بیٹی نسرین نے گھریلو ناچاقی کی وجہ سے خودکشی کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کو میں نے فٹا فٹ ہاسپٹل بھجوا دیا۔ مگر کئی سوچوں نے مجھے گھیر لیا کہ کب تلک یہ سمجھوتوں کے بندھن چلتے ہیں۔
ہمارے ہاں بیٹیوں سے پوچھے بتائے بغیر رشتے ناطے طے کر دیئے جاتے ہیں۔ جبکہ اکثریت بعد میں ناکامی سے دوچار ہوتی ہے۔ میری کزن نسرین کا بھی کچھ یہی مسئلہ ہے۔


ستائیس جولائی دو ہزار چھ
آج کی صبح رحیم یار خان کے ایک گاؤں دشتی قبلہ سے ایک لڑکی کو کاروکاری کے الزام میں قتل کرنے کی کوشش کی گئی مگر وہ خوش قسمتی سے بچ گئی۔ اس لڑکی کے سر میں کلہاڑیوں سے تین کاری وار ہوئے۔ ایک بازو اور ایک کمر پر بھی کیا گیا۔ اب وہ میرے گھر میں ہے۔ انشااللہ تعالیٰ اس کو انصاف ضرور ملے گا ورنہ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں تو اس کو انصاف حاصل کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔


تیس جولائی دو ہزار چھ
آگاہی سیمینار، ’خواتین کے قانونی حقوق‘، مختار مائی وومن ویلفیئر آرگنائزیشن کے تحت کرانا تھا۔ اسی کی تیاریوں میں ہم لوگ مصروف ہوگئے اور معمول کے مطابق لوگ اپنے مسائل لے کر آتے رہے۔


اکتیس جولائی دو ہزار چھ
آگاہی سیمینار میں عورتوں کے حقوق پر لوگوں نے اظہارِ خیال کیا۔ کمیشن برائے انسانی حقوق کے ایڈووکیٹ راشد رحمان صاحب اور ایڈووکیٹ جام ریاض صاحب، ووکیشنل سینٹر کے سربراہ عثمان وغیرہ نے خطاب کیا۔ میری دوست نسیم اختر نے روائتی اور حسبِ معمول وڈیروں، جاگیرداروں اور عدالتی محافظوں سے بہت سارے شکوے کیئے۔ جو بات مجھے اچھی لگی وہ یہ تھی کہ ’ ایک وہی تو وکیل تھا، قاعداعظم محمد علی جناح، جنہوں نے پاکستان بنایا‘۔ میں نے تمام مہمانوں کی تشریف آوری کا شکریہ ادا کیا اور آخر میں سکول کی بچیوں نے ملی نغمہ پیش کیا:
’ اس پرچم کے سائے تلے، ہم ایک ہیں، ہم ایک ہیں‘



یہ ڈائری قلم بند کرنے میں مختار مائی کی ساتھی نسیم اختر نے ان کی مدد کی ہے۔


آپ کے پیغامات

محمد علی، کوئٹہ
یہ پہلا موقع ہے کہ میں مختار مائی کی ڈائری پڑھ رہا ہوں۔ ان کا کام قابل تعریف ہے اور میں ایک انسان ہونے کی حیثیت سے ان کی سپورٹ کرتا ہوں۔ مختار مائی کو ہمارے اس پیارے ملک پاکستان سے کاروکاری کو ختم کرنے کے لیے محنت کرنی ہوگی۔ میری نیک تمنائیں آپ کے ساتھ ہیں۔

علی رضا، امریکہ
مختار مائی پورے پاکستانی قوم کے لیے ایک بےمثال رہنما ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ اللہ ان کو اپنے نیک کام میں کامیاب کرے، انشااللہ۔

محمد عاظم، پاکستان
وہ بہادر خاتون ہیں۔ میں خوش ہوں کہ وہ غریبوں کی مدد کر رہی ہیں۔

نادر واصف حمید، ملتان
مختار صاحبہ آپ نے ظالموں کے خلاف آواز اٹھا کر ان کے خلاف جو جنگ شروع کی ہے اس میں اللہ آپ کو کامیاب کرے، امین۔ میں آپ سے گزارش کرنا چاہوں گا کہ آپ اپنے اس کام کو پورے پاکستن میں جاری رکھیں۔ آپ مظلوموں کا ساتھ دینگی تو اللہ آپ کی مدد کرے گا۔ میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں اور میں آپ کی عظمت کو سلام کرتا ہوں۔

علیم لطیف، آسٹریلیا
پاکستان کے دیہاتوں میں اس جہالت کے نظام کو بدلنے کے لیے انقلاب کی سخت ضرورت ہے۔ آپ جیسے لوگ یہ تبدیلی لا سکتے ہیں۔ آپ لوگ ہر دیہات میں اپنے نمائندے مقرر کریں تاکہ عام خواتین ان کے ذریعے اپنی پریشانیاں حکام تک پہنچا سکیں۔ اور آپ لوگ خود اس چیز کو یقینی بنائیں کہ حکام کو آپ کے نمائندوں کے پیش کردہ معاملات پر فوری ایکشن ہو۔ آپ اچھا کام کر رہی ہیں لیکن بدقسمتی سے پاکستانی دیہاتوں کی ضرورت اس سے کئی زیادہ ہے۔

نیلوفر نور، امریکہ
مجھے آپ پر فخر ہے۔ میں ایک سوشل ورکر ہوں اور ایک دن میری بیٹی نے مجھ سے پوچھا کہ دادی کہتی ہیں کہ پاکستان میں جنسی زیادتی نہیں ہوتی۔ میں نے اسے بتایا کہ اگر پاکستان میں جنسی زیادتی نہیں ہوتی تو اس کے خلاف قانون کیوں بنائے گئے ہیں۔ آپ نے بہت اچھا کام کیا ہے اور آپ میں اس جنگ کا حوصلہ ہے۔ آپ کے ساتھ برا ہوا اور جو لوگ آپ سے کہتے ہیں کہ اس حولناک واقعہ کو بھول جاؤ تو کیا اگر ان لوگوں کے ساتھ یا ان کے کسی پیارے کے ساتھ اسی قسم کا حادثہ ہو تو کیا وہ یہ سب بھول سکیں گے۔ لوگ آپ پر اس لیے تنقید کرتے ہیں کیوں کہ خود ان میں حوصلہ اور جرات نہیں ہے۔

تصور اقبال، دبئی
مس مائی میں آپ کا بہت احترام کرتا ہوں۔ میرے خیال سے آپ ایک بہت ہی نڈر خاتون ہیں۔ میری نیک تمنائیں آپ کے ساتھ ہیں۔ اللہ آپ کو مزید عزت دے۔

محمد سلطان، پاکستان
میری رائے ہے کہ وہ ایک بہت زبردست کام کر رہی ہیں۔ پاکستان کو جو مسئلہ درپیش ہے وہ ہے باربریت۔ لیکن یہ اسلامی ثقافت نہیں۔ پاکستانی عوام کو اس غیر انسانی فعل سے جو کہ اسلامی تہذیب اور پاکستانی ثقافت کو نقصان پہنچا رہا ہے سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہیے۔ صرف خواتین ہی نہیں بلکہ مرد بھی اس باربریت کا شکار ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ مختار مائی کو زندگی کے ہر معاملے میں ان کی مدد کرے اور ان کو ان کے مقاصد میں کامیاب کرے۔

ایم حنیف عمر، دبئی
میں مختار مائی کا بلاگ پڑھ رہا ہوں اور مجھے بہت خوشی ہے کہ وہ غریبوں کے لیے اتنا اچھا کام کر رہی ہیں۔ اللہ انہیں لمبی عمر عطا کرے۔

عبدالمنان، پاکستان
پاکستان میں بہت سارے علاقے ایسے ہیں جہاں سرداری نظام چلتا ہے۔ پہلے یہ نظام ختم ہونا چاہیے اور دوسرا یہ کہ ہماری ترقی اور خوشی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہماری پولیس ہے۔ سب سے پہلے عورت کے حقوق کو مدنظر رکھا جائے۔ پاکستان میں جتنے حقوق مردوں کو ملے ہیں اس سے زیادہ حقوق عورتوں کو ملنے چاہیے۔ ہمارے ملک کی 45 فیصد منسٹر عورتیں ہونی چاہیے۔ بس میں یہی کہوں گا۔

خان محسن، رحیم یار خان
یہ حقیقت ہے کہ آپ عورتوں کے لیے مضبوط علامت بن کے سامنے آئی ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ صدیوں کی گھٹن کے بعد اس علاقے میں کسی نے تو جاگنے کی ہمت کی۔ میں یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ آپ اپنی این جی او کی کوئی شاخ یا کوئی نمائندہ اس علاقے میں ضرور منتخب کریں، جہاں قبائل خواتین کے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں۔ میں آپ کو آفس اور مالی طور پر مدد کرنے کے لیے تیار ہوں۔ آپ میری بہن ہیں اور اپنی کاوش سے اس علاقے کی خواتین کو بھی اٹھنے کا حوصلہ دیں۔

حیدر، اسلام آ باد
ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمیں پاکستان میں عورتوں کے لیے ایک اچھا ماحول قائم کرنے کی ضرورت ہے۔

شاہدہ اکرم، ابو ظہبی
مختار جی مجھے یقین نہیں آتا کہ عورت کو کمزور، نازک اور ایک بالکل نرم و نازک چیز سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ لیکن آپ کو دیکھ کر ان سب باتوں پر یقین نہیں رہتا کہ ایک بظاہر کمزور وجود میں اللہ نے اتنی ہمت دے دی ہے، جو فولاد سا جگر رکھتی ہے۔ دوسری طرف جب آپ کی باتیں پڑھتی ہوں تو دل خون ہو کر آنکھوں کے راستے بہہ نکلتا ہے۔ اپنے رب سے آپ کی ہمت اور طاقت کی ہر دم دعا ہے۔

محمد عامر، برطانیہ
میں پاکستان کے ایک چھوٹے سے شہر سے تعلق رکھتا ہوں۔ میں نے اپنی ساری تعلیم پاکستان میں ہی حاصل کی لیکن اب ایم ایس سی کر کے برطانیہ میں ایک کمپنی میں کام کرتا ہوں۔ میں اکثر آپ کے بلاگز پڑھتا ہوں اور مجھے آپ پر بہت ناز ہے۔ میں آپ کی عظمت کو سلام پیش کرتا ہوں کہ آپ اتنے اندھیرے میں روشنی کا دیہ جلائے ہوئے ہو۔

عبدالرحمٰن، کوئٹہ
اس سرداری اور جاگیردارانہ نظام نے ہمارے معاشرے کو آلودہ کر دیا ہے۔ یہ غریب لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں اور قانون توڑتے ہیں۔ ہمارے ہاں با اثر لوگ قانون سے بالاتر ہیں اور ان پر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا۔ کوئی بھی ملک قانون کی پابندی کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا اور یہی مسئلہ ہمارے ملک کو درپیش ہے۔


پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
مائی بلاگمائی بلاگ
’ظلم کو علم سے ختم کرنا میرا ایمان ہے‘
مائی بلاگمائی بلاگ
پولینڈ سفر نامہ:’کبھی پیچھے نہیں ہٹوں گی‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد