BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Thursday, 31 August, 2006, 13:50 GMT 18:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ظلم کو علم سے ختم کرنا ہے‘

مختار مائی بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے لیے اپنے خیالات اور اپنے صبح و شام کی تفصیلات ایک ڈائری کی شکل میں قلم بند کر رہی ہیں۔ یہ اسی سلسلے کی تیسری کڑی ہے۔ آپ مختار مائی کے نام اپنے پیغامات اسی صفحے کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔


سولہ جولائی دو ہزار چھ
صبح اتوار تھا۔ ہمارے سکول کی بچیوں نے ولسن لی کے اعزاز میں ایک فنکشن کا انتظام کیا تھا جس میں سکول کی بچیوں نے تلاوتِ کلامِ پاک، حمدِ باری تعالیٰ، نعت، ملی نغمے، ڈرامے اور ٹیبلو شو پیش کیئے۔ جب سکول کی بچیاں اس طرح کے پروگرام کرتی ہیں تو مجھے دلی خوشی ہوتی ہے۔ اس میں میں اپنے غم، کچھ بھول جاتی ہوں۔


سترہ جولائی دو ہزار چھ
میں اور دوست نسیم لاہور کے لیے روانہ ہوئے۔ وہاں مجھے اپنے وکیل اعتزاز احسن صاحب سے ملنا تھا۔


اٹھارہ جولائی دو ہزار چھ
صبح بارہ بجے میں اپنے وکیل اعتزاز احسن صاحب سے ملی اور کیس کے متعلق بات چیت کی۔ اس کے بعد ہم بیگم عطیہ عنایت اللہ صاحبہ کے گھر ان سے ملنے گئے۔ بیگم عطیہ عنایت اللہ نیک دل اور عورتوں کے دکھ درد کو محسوس کرنے والی خاتون ہیں۔ میں نے ان سے شمشاد بی بی کا ذکر کیا اور کہا کہ گورنمنٹ آف پنجاب اس کے علاج میں مدد کرے۔ میں نے ایک درخواست وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے نام بیگم عطیہ صاحبہ کو دی جس میں شمشاد بی بی کے علاج کی سفارش، پولیس پوسٹ کی بلڈنگ اور پولیس پوسٹ کنفرم کرنے کی سفارش کا ذکر تھا۔ اس درخواست کا کیا ہوگا؟ کچھ نہیں کہہ سکتی۔


انیس جولائی دو ہزار چھ
میں خبریں اخبار کے آفس میں گئی جہاں میں نے ضیا شاہد صاحب سے ان کی صحت سے متعلق خیریت معلوم کی۔ کافی دیر میں ضیا صاحب کے ساتھ بیٹھی رہی۔ ضیا صاحب بیماری کی وجہ سے کمزور اور ضعیف نظر آ رہے تھے۔ پہلے تو میں پہچان بھی نہ سکی۔ کافی دیر باتیں ہوتی رہیں۔ انہوں نے کہا مختار بی بی آپ اپنے مشن کو جاری رکھیں۔ سیاسی لوگوں کی چالوں سے محتاط رہیں۔ میں نے انہیں یقین دلایا کہ میرے کوئی سیاسی عزائم نہیں ہیں۔ ’ظلم کو علم سے ختم کرنا میرا ایمان ہے‘۔


بیس جولائی دو ہزار چھ
لاہور میں عاصمہ جہانگیر صاحبہ سے ان کے آفس میں ملاقات ہوئی۔ ان کے ساتھ بھی میرے بھائی پر من گھڑت پنچائتی الزام پر بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب پراپیگنڈے تمہیں روکنے کے لیے رچائے جاتے ہیں۔ مگر میں نے کہا کہ میں پرعزم ہوں اور مرتے دم تک لڑتی رہوں گی۔


اکیس جولائی دو ہزار چھ
لاہور سے صبح سات بجے ہم میروالا واپس پہنچ گئے۔ ہم تھکاوٹ کی وجہ سے سو گئے۔ بارہ ایک کا ٹائم تھا، میرے موبائیل کی گھنٹی بجی۔ میں اٹھی ہوئی تھی کہ کھانا کھا لوں۔ فون سنا تو ضلع رحیم یار خان سے ایکسپریس اخبار کا نمائندہ نور محمد سومرو بول رہا تھا۔ اس نے کہا کہ تحصیل رحیم یار خان کی ایک قریبی بستی میں ایک لاش کی بےحرمتی کی گئی ہے۔ میرے اوسان خطا ہو گئے۔ میرا نوالہ حلق میں اٹک گیا۔ میں نے فوراً موبائیل اپنی دوست نسیم کے حوالے کیا کہ تفصیلات لو، مجھ میں حوصلہ نہیں ہے۔ تفصیلات کو سننے کے بعد نسیم کی حالت دیکھنے والی تھی، مگر ہمیشہ کی طرح اس نے حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف مجھے تسلی دی بلکہ مجھے بتایا کہ ہوا کچھ یوں تھا۔
سکینہ مائی طبعی موت مری اور اس کے گھر والوں نے دفنا دیا۔ رات میں تین چار افراد نے، جو اپنی ذات کے بھنڈی کورائی ہیں، dead body کو قبر سے نکال کر اس کی بےحرمتی کی اور لاش کو فاصلے پر پھینک گئے۔ دن کے وقت جب لوگوں کو معلوم ہوا تو ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے۔ مگر پولیس نے لوگوں کو یہ کہہ کر خاموش کروا دیا کہ بے غیرتی والی بات ہے لہٰذا سکینہ مائی کو دوبارہ غسل دے کر دفنا دیا گیا۔ پوسٹ مارٹم کیے بغیر لاش کو دوبارہ دفنا دیا گیا ہے۔
مگر اہلِ علاقہ رنج و غم میں مبتلا تھے اور پولیس سے مجرموں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ مگر پولیس ٹس سے مس نہیں ہو رہی تھی۔ ہم لوگوں نے فوراً کوٹ سمابوہ تھانے کے ایس ایچ او، رحیم یار خان کے D.P.O سے بات کی مگر وہ لاعلمی کا مظاہرہ کرنے لگے کیونکہ مجرم بااثر تھے۔ کوئی ناظم تھا تو کوئی نائب سٹی ناظم تھا۔ پھر ہم نے بیگم عطیہ عنایت اللہ صاحبہ کو فون کیا کہ صورتحال اب یہ ہے کہ عورتیں اب قبروں میں بھی محفوظ نہیں۔ خیر انہوں نے بروقت ہماری مدد کرائی اور کیس رجسٹرڈ ہو گیا اور ملزم گرفتار کر لیے گئے۔ پولیس اس کیس کو بھی خراب کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ سنا ہے کہ کفن، جو D.N.A ٹیسٹ کے لیے بھیجا گیا تھا۔ سننے میں آیا ہے کہ مخالف پارٹی نے ڈاکٹروں کو بھی بھاری رقوم دے کر رپورٹ اپنے حق میں کروانے کی بھرپور کوششیں جاری رکھیں۔ ہوتا کیا ہے کچھ پتہ نہیں۔


یہ ڈائری قلم بند کرنے میں مختار مائی کی ساتھی نسیم اختر نے ان کی مدد کی ہے۔


آپ کے پیغامات

حادی حسین، کینیڈا
میں اور میری پوری فیملی آپ کے ساتھ ہے۔ اگر آپ کو کبھی کینیڈا میں کسی قسم کی مدد کی ضرورت ہو تو میں حاضر ہوں۔ میں ہمیشہ آپ کے لیے دعا گو رہوں گا۔

سلیم خان، پاکستان
مجھے آپ کا مشن پسند ہے۔

ضیا قریشی، لاہور
میں آپ کے مشن کی ہمایت کرتا ہوں۔ آپ عورتوں کے لیے پاکستان میں اور ساری دنیا میں ایک علامت کا نشان ہیں۔ ان لوگوں سے مت ڈریں جو ہتھیاروں اور محافظوں کے پیچھے چھپے بیٹھے ہیں۔

عامر شہزاد، پاکستان
مجھے بس آپ سے یہ کہنا ہے کہ اللہ آپ کو اس نیک مقصد میں کامیاب کرے اور جو کچھ آپ بچوں کے لیے کر رہی ہیں ہمیشہ کرتی رہیں۔ اور ایک بات اور کہوں گا کہ سیاست سے دور ہی رہنا، اس میں آ کر بہت سے لوگ بدل جاتے ہیں، ان کے مقاصد بھی بدل جاتے ہیں۔ آپ یہ کام نہ کرنا۔

ظہیر بشیر، پاکستان
کاروکاری کا خاتمہ وقت کی ضرورت ہے۔ میرپور خاص ڈسٹرکٹ میں عورتوں کی تعلیم کے لیے وزٹ کریں۔

عبدالرحمٰن، کوئٹہ
ظلم کسی بھی شکل میں ہو اسے برداشت نہیں کرنا چاہیے۔ آپ ایک بہت اچھا کام کر رہی ہیں۔ آپ کا کام قابل تعریف ہے۔

عامر ہاشمی، دبئی
اللہ آپ کو خوش رکھے۔ پلیز اپنے اس نیک کام کو پورے ملک میں پھیلائیں۔

عمران حیدر، کینیڈا
میڈم جو آپ کر رہی ہیں اس سے دوسروں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ میں آپ کو سلام پیش کرتا ہوں۔

مرتضٰی چوہدری، یوکے
اللہ آپ کو اس کام کا اجر دے، امین۔

زاہد اقبال، نامعلوم
اللہ آپ کو ہمت عطا کرے۔

عمران جبار، گجرات
وہ جو کر رہی ہیں بہت اچھا اور ٹھیک کر رہی ہیں۔

محمد خلیل، کینیڈا
مختار مائی پنجاب میں جو کچھ اور جتنا کچھ کر سکتی ہیں وہ بہت اچھا کر رہی ہیں۔ لیکن ان کا کام پنجاب اور اس کے ارد گرد کے کچھ علاقوں تک محدود ہے۔ کیا آپ اپنے کام اور مدد کو ملک کے دوسرے حصوں جیسا کہ پاکستان کے شمالی علاقے چترال تک پھیلانے کا ارادہ رکھتی ہیں؟ چترال میں ایک سال میں عورتوں کے خودکشی کرنے کے پندرہ واقعات سامنے آئے ہیں۔ اور کوئی یہ جاننے کی کوشش بھی نہیں کرتا کہ ان جانوں کے نقاصان کی وجہ کیا تھی۔

حنیف عباسی، ملتان
مختار مائی جو بھی کچھ کر رہی ہیں وہ قابل تعریف ہے۔ وہ بہت اچھا کام کر رہی ہیں۔ ہم سب کی دعائیں اور نیک تمنائیں آپ کے ساتھ ہیں۔

عالمگیر خان، سرحد
محترمہ مختار مائی اسلام علیکم۔ کیسی ہیں آپ؟ امید ہے آپ خیریت سے ہوں گی۔ پلیز انصاف کے لیے اپنی کوشش جاری رکھیں، شکریہ۔

صفیان، پاکستان
وہ ایک بہت بہادر عورت ہیں۔

افتخار اعوان، ملتان
ہمارے ملک میں عورتوں کی مجموعی صورتحال بری ہے خاص کر کہ مزدور طبقے میں۔ لیکن میں مختار مائی کو ان کی جرات اور صبر پر سلام پیش کرتا ہوں۔

عبدالوہاب، کراچی
سندھ میں کاروکاری کے نام پر روزانہ کوئی نہ کوئی عورت قتل کی جاتی ہے۔ جس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ ذاتی دشمنی کے لیے عورتوں کو قربان کیا جاتا ہے ۔ جو عورت آواز اٹھانا چاہتی ہے اس کو بھی مارا جاتا ہے۔ کیا آپ اس کے لیے کچھ کر سکتی ہیں؟ کیا آپ ان کے لیے حوصلہ بن سکتی ہیں؟ میں آپ کے جواب کا منتظر رہوں گا۔

شاہدہ اکرم، ابوظہبی
مختار مائی جی آپ کی ڈائری باقاعدگی سے پڑھ رہی ہوں اور اپنے خیالات کا بھی ساتھ ساتھ اظہار کیا لیکن میری آرا کو جگہ نہیں مل سکی۔ وہ کوئی بات نہیں لیکن آپ کی ڈائری سے جس دکھ کی انتہا کا سامنا ہوا وہ بیان سے باہر ہے۔ عورت کے ساتھ دنیا میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے، آپ کی ہمت کو میں سلام کرتی ہوں۔ آپ نے اتنے بڑے دکھ کے ساتھ خود کو مضبوط کیا اور عورتوں کی بے بسی کے اس دور میں بھی ہمت کا مظاہرہ کیا۔ شمشاد بی بی کے واقع کے بعد اب لاش کی بےحرمتی کا واقعہ ایک دل حلا دینے والا واقعہ ہے۔ اے کاش کہ دنیا ان درندوں سے خالی ہو جائے جو نہ زندہ عورت کو بخشتے ہیں اور نہ ہی مردہ عورت کی کوئی حرمت ہے۔ کہنے کو کچھ نہیں کہ الفاظ بھی ختم ہیں۔

ثناء خان، کراچی
آئی لو یو!


پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
مائی بلاگمائی بلاگ
’اس دنیا کے غم جانے کب کم ہونگے‘
مائی بلاگمائی بلاگ
پولینڈ سفر نامہ:’کبھی پیچھے نہیں ہٹوں گی‘
مختار مائی مختارمائی کےساتھ دن
مختار مائی کے ساتھ ایک دن
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد