BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 August, 2006, 10:45 GMT 15:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اس دنیا کے غم جانے کب کم ہونگے‘

مختار مائی بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے لیے اپنے خیالات اور اپنے صبح و شام کی تفصیلات ایک ڈائری کی شکل میں قلم بند کر رہی ہیں۔ یہ اسی سلسلے کی دوسری کڑی ہے۔ آپ مختار مائی کے نام اپنے پیغامات اسی صفحے کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔



چھ جولائی، دوہزار چھ
چھ جولائی کی شام کو میرے کمرے کا دروازہ کھٹکا۔ میں نے آواز دی آ جائیں۔ حسبِ معمول ہوتا یہ ہے کہ ہر آنے والے مرد یا عورت کا نام مسئلہ وغیرہ مجھے بتایا جاتا ہے اور باقاعدہ پولیس پوسٹ میں ان کی انٹری کی جاتی ہے اور بعد میں وہ میرے پاس آتے ہیں۔ مگر معمول سے ہٹ کر تین خواتین اور آٹھ سالہ بچی اندر داخل ہوئیں جن میں سے ایک عورت کچھ جان پہچان والی تھی۔ میں نے انہیں بٹھایا۔ تھوڑی دیر میں بچی کی ماں زاروقطار رونے لگی اور مجھے اپنی بیٹی کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے متعلق بتانے لگی کہ یہ آٹھ سالہ بچی ’ہمسایوں کے گھر قرآن شریف کی تعلیم حاصل کرنے جایا کرتی تھی کہ ایک دن انہوں نے اسے سودا لینے کی غرض سے صابن فیکٹری بھیجا۔ وہاں پر ایک ظالم درندے نے میری آٹھ سالہ بیٹی کے ساتھ زیادتی و ظلم کیا۔‘

میں نے آٹھ سالہ معصوم بچی کی طرف دیکھا تو وہ خوف و ہراس کا شکار تھی اور نروس ہوئی بیٹھی تھی۔ یہ دیکھ کر مجھے شدید جھٹکا لگا اور میرے اپنے زخم پھر سے ہرے ہوگئے اور مجھے اپنے پہ آنے والا کڑا وقت یاد آ گیا۔ اب تو جب بھی کوئی زیادتی یا واقعہ میرے سامنے آتا ہے تو میری روح تڑپ اٹھتی ہے کہ یہ سب کچھ میرے ساتھ ہوا ہے۔ سوچتی ہوں کہ اس دنیا کے غم جانے کب ہوں گے کم۔


پندرہ جولائی، دو ہزار چھ

وِلسن لی نیڈ واشنگٹن سے ہمارے گاؤں میروالہ تشریف لائے۔ ان کے آنے کا بنیادی مقصد ہماری این جی او کو خواتین کے حقوق کے پروجیکٹس کے بارے میں آگاہ کرنا تھا۔

دوپہر کے بعد ہم لوگوں کو اردگرد کے گاؤں میں جانا تھا۔ ہمارے مہمان کی خواہش تھی کہ وہ کچھ قریبی علاقوں کا وزٹ کریں۔ ہم نے عملی طور پر گاؤں کی پسماندہ زندگی اور لوگوں کے دکھ درد کا حال خود اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ میں نے اور میری دوست نسیم نے علی پور کے نزدیکی گاؤں موضع علی والی کی بستی موچی والی میں جانے کا فیصلہ کیا۔ جب ہم اپنے مہمان کے ہمراہ موچی والی بستی میں پہنچے تو گاؤں کے بہت سے لوگ جمع ہوگئے۔ ہم نے محمد رمضان کا نام پوچھا تو ایک آدمی نے لپک کر کہا کہ محمد رمضان میں ہوں۔ ہم نے اسے کہا کہ شمشاد بی بی کو ملنا چاہتے ہیں۔ وہ ہمیں شمشاد بی بی کے گھر لے گئے۔ وہ ایک کچا پرانی طرز کا کمرہ تھا جس کے درودیوار نہ تھے۔ وہاں کھلے میدان و آسمان کے نیچے جھونپڑیوں کے باسی تھوڑے تھوڑے فاصلے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم جونہی پہنچے تو بستی کے لوگ یکدم اکھٹے ہو گئے۔

شمشاد بی بی وہ لڑکی ہے جس کے ساتھ پچھلے سال اوچ شریف میں 6 سات بندے جنسی زیادتی کر کے ایک گہرے کنوئیں میں پھینک گئے تھے۔ اس واقعہ کو پولیس نے بدقسمتی سے اپنے روایتی انداز اپناتے ہوئے ’ارادی‘ قرار دیا جبکہ اخبارات، ہیومن رائٹس اور ڈاکٹری رپورٹ، جنسی رپورٹ اور میڈیکل اس کے ساتھ زیادتی ثابت کرتی ہے۔ کنوئیں میں پھینکے جانے کی وجہ سے اس کی ریڑھ کی ہڈی کے تین مہرے ٹوٹ گئے۔ اس کے جسم کا نچلا حصہ بالکل ناکارہ ہو چکا ہے۔ ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ پاکستان میں کیا، اس کا پوری دنیا میں علاج نہیں ہو سکتا۔ اب اس کی ریڑھ کی ہڈی والے زخم، جو کہ بہت گہرے ہو چکے ہیں۔ گوشت اور ہڈیاں گل سڑ کے نکل رہی ہیں اور اس کا جسم سوکھ کے سکڑ چکا ہے۔ ہمیں دیکھ کر وہ رونے لگی اور کہا کہ باجی مجھے زہر دے دو تاکہ مر جاؤں۔ میری ان دکھوں سے جان چھوٹ جائے گی۔ اس نے کہا کہ میرے مجرم باہر دندناتے پھر رہے ہیں اور میرے پاس دوائی کھانے کو کیا، روٹی کھانے کے لئے بھی کچھ نہیں ہے۔

ہم نے وعدہ کیا کہ جتنا ہو سکا، ہر ممکن اس کا میں علاج کرواؤں گی۔ اسے کے بعد میں واپس اپنے گھر میروالہ لوٹ آئے۔



یہ ڈائری قلم بند کرنے میں مختار مائی کی ساتھی نسیم اختر نے ان کی مدد کی ہے۔


آپ کے پیغامات:

طارق نواز، شکارپور
آپ دنیا کی بہترین خاتون ہیں۔ آپ سب سے اچھی ہیں۔

سمیع اللہ بلوچ، کوئٹہ
میں اس مشن میں آپ کے ساتھ ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ آپ کامیاب ہوں۔ میںری عمر اٹھارہ سال ہے لیکن اگر اس مشن میں آپ کو میری ضرورت پڑے تو میں حاضر ہوں۔

ایم نواز، راجن پور
مختار مائی کی اچھی کوشش ہے۔ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے سے انصاف نہیں ملتا۔ مظلوم کا ساتھ دینا بھی عبادت ہے۔ ہماری دعا آپ کے ساتھ ہے۔

رفیق احمد، ازربائجان
اللہ آپ کو اور ہمت دے اور عورتوں کے حقوق پر کام کعرنے کی توفیق دے۔ آپ سے ایک گزارش ہے کہ پاکستان جو ہمارا ملک ہے اس کی امیج بہتر کرنے کے لیے بھی کوئی کوشش کریں۔ کبھی کوئی بیان پاکستان کے حق میں اور اس کی فلاح کے لیے بھی دیں۔

عمران راجہ، میری لینڈ
میس آپ کے کام کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں۔ اگلی بار جب آپ واشنگٹن آئیں تو میں آپ سے ملنا پسند کروں گا، آپ کی این جی او کی میٹنگ میں شریک ہو کر اس کے لیے فنڈ بھی اکٹھا کروں گا۔ اللہ آپ کی مدد کرے۔

رضوان سرور، سیالکوٹ
اللہ آپ کو لمبی عمر عطا کرے۔ اللہ تعالٰی آپ کو خواتین پر ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کی توفیق عطا کرے، امین۔

آصف سید، پاکستان
اچھی کوشش ہے ، جاری رکھیے۔ میری خواہش ہے کہ میں زندگی میں ایک بار آپ سے مل سکوں۔

منیس، کلیفورنیا
اللہ آپ کو ہمت دے اور قوت عطا کرے۔ میں آپ کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں۔ امید ہے آپ ثابت قدم رہ کر دوسروں کے لیے اچھے کام کریں گی۔

مجاہد چوہدری، راولپنڈی
مختار مائی، آپ ایک جہاد کر رہی ہیں۔ اس طرح کے کیس ہمیشہ سے ہوتے آ رہے ہیں اور شاید ہوتے رہیں گے۔ کیوں کہ جب تک طاقتور موجود ہے وہ کمزور پر ظلم کرتا رہے گا، چاہے وہ پنچائیت کا چوہدری ہو یا امریکہ۔ زیادہ بہتر یہ ہے کہ آپ فرسودہ رسومات اور جہالت کے خلاف جدوجہد کریں۔ جہالت یا تعلیمی پسماندگی ہی ہر برائی کی جڑ ہے۔

شاہ فیصل، پاکستان
عورت کے خلاف ایسے جرائم کو روکنا چاہیے۔ یہ تیسری دنیا کے ممالک کا المیہ ہے۔

ریاض، فرانس
آپ کی کوششوں پر آپ کو سلام۔ اس طرح عورتوں کے حق کی بات کرتی رہیں۔ ہماری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔

ثاقب عمران، پاکستان
پاکستان میں یہ سب اسلام سے دوری کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ کیا ہم اسلام کے قریب آ سکتے ہیں؟

شرافت علی، سوات
میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں اور آپ کی این جی او میں شامل ہونا چاہتا ہوں۔

فرخندہ جبیں، آسٹریا
مختار مائی بہت بہادر خاتوں ہیں۔ انہیں اپنی جدوجہد جاری رکھنی چاہیے۔ پاکستان میں ان کی زندگی محفوظ نہیں ہے۔ بین الاقوامی این جی او کو چاہیے کہ وہ ان کی حفاظت کے لیے مناسب انتظام کریں۔ ہم تمام پاکستانی خواتینں ان کے ساتھ ہیں۔

بلال، پاکستان
یہ بی بی سی کا بہترین بلاگ ہے۔ میں بھی جنوبی پنجاب میں رہتا ہوں جہاں یہ فرسودہ نظام اپنے عروج پر ہے۔ اس بلاگ کے ذریعہ وہاں کے لوگوں میں آگاہی آئے گی اور اللہ انہیں عورت پر ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمت عطا کرے۔


پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
مائی بلاگمائی بلاگ
پولینڈ سفر نامہ:’کبھی پیچھے نہیں ہٹوں گی‘
مختار مائیمختار مائی سے ملاقات
مختار مائی کے گھر پر سخت سکیورٹی
مختار مائیسوانح عمری
مختاراں مائی کی سوانح عمری کی رونمائی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد