’اس دنیا کے غم جانے کب کم ہونگے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مختار مائی بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے لیے اپنے خیالات اور اپنے صبح و شام کی تفصیلات ایک ڈائری کی شکل میں قلم بند کر رہی ہیں۔ یہ اسی سلسلے کی دوسری کڑی ہے۔ آپ مختار مائی کے نام اپنے پیغامات اسی صفحے کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
میں نے آٹھ سالہ معصوم بچی کی طرف دیکھا تو وہ خوف و ہراس کا شکار تھی اور نروس ہوئی بیٹھی تھی۔ یہ دیکھ کر مجھے شدید جھٹکا لگا اور میرے اپنے زخم پھر سے ہرے ہوگئے اور مجھے اپنے پہ آنے والا کڑا وقت یاد آ گیا۔ اب تو جب بھی کوئی زیادتی یا واقعہ میرے سامنے آتا ہے تو میری روح تڑپ اٹھتی ہے کہ یہ سب کچھ میرے ساتھ ہوا ہے۔ سوچتی ہوں کہ اس دنیا کے غم جانے کب ہوں گے کم۔
وِلسن لی نیڈ واشنگٹن سے ہمارے گاؤں میروالہ تشریف لائے۔ ان کے آنے کا بنیادی مقصد ہماری این جی او کو خواتین کے حقوق کے پروجیکٹس کے بارے میں آگاہ کرنا تھا۔ دوپہر کے بعد ہم لوگوں کو اردگرد کے گاؤں میں جانا تھا۔ ہمارے مہمان کی خواہش تھی کہ وہ کچھ قریبی علاقوں کا وزٹ کریں۔ ہم نے عملی طور پر گاؤں کی پسماندہ زندگی اور لوگوں کے دکھ درد کا حال خود اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ میں نے اور میری دوست نسیم نے علی پور کے نزدیکی گاؤں موضع علی والی کی بستی موچی والی میں جانے کا فیصلہ کیا۔ جب ہم اپنے مہمان کے ہمراہ موچی والی بستی میں پہنچے تو گاؤں کے بہت سے لوگ جمع ہوگئے۔ ہم نے محمد رمضان کا نام پوچھا تو ایک آدمی نے لپک کر کہا کہ محمد رمضان میں ہوں۔ ہم نے اسے کہا کہ شمشاد بی بی کو ملنا چاہتے ہیں۔ وہ ہمیں شمشاد بی بی کے گھر لے گئے۔ وہ ایک کچا پرانی طرز کا کمرہ تھا جس کے درودیوار نہ تھے۔ وہاں کھلے میدان و آسمان کے نیچے جھونپڑیوں کے باسی تھوڑے تھوڑے فاصلے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم جونہی پہنچے تو بستی کے لوگ یکدم اکھٹے ہو گئے۔ شمشاد بی بی وہ لڑکی ہے جس کے ساتھ پچھلے سال اوچ شریف میں 6 سات بندے جنسی زیادتی کر کے ایک گہرے کنوئیں میں پھینک گئے تھے۔ اس واقعہ کو پولیس نے بدقسمتی سے اپنے روایتی انداز اپناتے ہوئے ’ارادی‘ قرار دیا جبکہ اخبارات، ہیومن رائٹس اور ڈاکٹری رپورٹ، جنسی رپورٹ اور میڈیکل اس کے ساتھ زیادتی ثابت کرتی ہے۔ کنوئیں میں پھینکے جانے کی وجہ سے اس کی ریڑھ کی ہڈی کے تین مہرے ٹوٹ گئے۔ اس کے جسم کا نچلا حصہ بالکل ناکارہ ہو چکا ہے۔ ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ پاکستان میں کیا، اس کا پوری دنیا میں علاج نہیں ہو سکتا۔ اب اس کی ریڑھ کی ہڈی والے زخم، جو کہ بہت گہرے ہو چکے ہیں۔ گوشت اور ہڈیاں گل سڑ کے نکل رہی ہیں اور اس کا جسم سوکھ کے سکڑ چکا ہے۔ ہمیں دیکھ کر وہ رونے لگی اور کہا کہ باجی مجھے زہر دے دو تاکہ مر جاؤں۔ میری ان دکھوں سے جان چھوٹ جائے گی۔ اس نے کہا کہ میرے مجرم باہر دندناتے پھر رہے ہیں اور میرے پاس دوائی کھانے کو کیا، روٹی کھانے کے لئے بھی کچھ نہیں ہے۔ ہم نے وعدہ کیا کہ جتنا ہو سکا، ہر ممکن اس کا میں علاج کرواؤں گی۔ اسے کے بعد میں واپس اپنے گھر میروالہ لوٹ آئے۔ یہ ڈائری قلم بند کرنے میں مختار مائی کی ساتھی نسیم اختر نے ان کی مدد کی ہے۔
طارق نواز، شکارپور سمیع اللہ بلوچ، کوئٹہ ایم نواز، راجن پور رفیق احمد، ازربائجان عمران راجہ، میری لینڈ رضوان سرور، سیالکوٹ آصف سید، پاکستان منیس، کلیفورنیا مجاہد چوہدری، راولپنڈی شاہ فیصل، پاکستان ریاض، فرانس ثاقب عمران، پاکستان شرافت علی، سوات فرخندہ جبیں، آسٹریا بلال، پاکستان |
اسی بارے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||