BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 15 January, 2006, 15:41 GMT 20:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مختارمائی: سوانح عمری کی رونمائی

مختار مائی
کتاب کو فرانس کی ایک مضنفہ میری تھریز کنی نے تحریر کیا ہے
پاکستانی پنجاب کے ایک گاؤں میر والہ میں مبینہ اجتماعی جنسی زیادتی کا شکار ہونے کے بعد حصول انصاف کی جدوجہد کرنے پر عورتوں پر تشدد اور ناانصافی کے خلاف دنیا بھر میں ایک علامت کے طور پر ابھرنے والی مختار مائی کی ’سوانح عمری‘ یعنی بائیو گرافی پر مبنی کتاب کی رونمائی فرانس کے دارالحکومت پیرس میں کی جارہی ہے۔

کتاب کو فرانس کی ایک مضنفہ میری تھریز کنی نے تحریر کیا ہے اور اسے بیک وقت فرانسیسی اور جرمن زبانوں میں شائع کیا جارہا ہے۔ فرانس کا ایک اشاعتی ادارہ ’او ایچ ایڈیشنز‘ اسے شائع کررہا ہے۔ فرانسیسی زبان میں کتاب کا ٹائٹل ’بے عزت‘ جبکہ جرمن میں ’عورت ہونے کا قصور‘ رکھا گیا ہے۔

کتاب کی تقریب رونمائی کے سلسلے میں مختار مائی بھی پیرس پہنچ چکی ہیں۔

مختار مائی کو بارہ جنوری کو پیرس پہنچنا تھا لیکن ان کے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن کی طرف سے اٹھائے گئے بعض قانونی نکات کی وجہ سے وہ دو روز کی تاخیر سے پیرس کے لیے روانہ ہوئیں۔

مختار مائی کے قریبی ذرائع کے مطابق اعتزاز احسن چاہتے تھے کہ کتاب کی اشاعت سپریم کورٹ میں زیر سماعت ان کے مقدمے کے فیصلے کے بعد ہو۔ مزید برآں انہیں کتاب کے ٹائٹل پر مختار مائی کا نام بطور مصنفہ کے درج ہونے پر بھی اعتراض تھا جبکہ خود مختار مائی کو بھی کتاب میں شامل بعض باتوں پر اعتراض تھا مثلاً کتاب میں مختار مائی کو قرآن کی حافظہ لکھا گیا ہے جبکہ ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے۔ وہ عربی زبان میں قرآن کو بخوبی پڑھ اور پڑھا سکتی ہیں لیکن اسے زبانی یاد نہیں کر رکھا۔

مختاراں دو دن کی تاخیر سے پیرس روانہ ہوئیں

اس کے علاوہ پاکستان میں مقیم ایک آسٹریلوی صحافی براواں کیورن نے مختار مائی اور ان کی بائیوگرافی کے فرانسیسی اشاعتی ادارے کو قانونی نوٹس دینے کی بات بھی کی تھی۔

آسٹریلوی صحافی کا کہنا تھا کہ مختار مائی نے انہیں اپنی سوانح عمری لکھنے کے خصوصی اختیارات دے رکھے ہیں اور ان کے تحت کوئی دوسرا اس وقت تک مختار مائی کی زندگی پر کتاب کی اشاعت نہیں کر سکتا جب تک ان کی تحریر کردہ کتاب بازار میں نہیں آ جاتی۔

براواں نے آسٹریلیا اور امریکہ کے دو اشاعتی اداروں کے ہاتھوں مختار مائی کی سوانح عمری شائع کرنے کےحقوق فروخت بھی کر رکھے ہیں۔

اس پر نیو یارک کی ایک خاتون وکیل لیزا آلٹر نے امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کی تنظیم ’انا‘ کی ڈاکٹر آمنہ بٹر کی درخواست پر کاپی رائٹ کے حوالے سے بغیر کسی معاوضے کے مختار مائی کی وکالت و مشاورت کرنے کی حامی بھری ہے۔

خیال کیا جارہا ہے کہ لیزا آلٹر کے مشورے پر ہی مختار مائی نے آسٹریلوی صحافی براواں کی مبینہ دھمکی کو نظر انداز کرتے ہوئے فرانس جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

او ایچ ایڈیشنز نے کتاب کی تقریب رونمائی کے حوالے سے جاری کردہ پریس ریلیز میں اعتزاز احسن کے اعتراض کو دور کرنے کے لیے یہ واضح کیا ہے کہ ’مختار مائی کی داستان ان کی زبانی جسے میری تھریزنےتحریر کیا ہے‘۔

اشاعتی ادارہ نے کتاب کی ہر کاپی کے ساتھ ایک ’ڈسکلیمر‘ منسلک کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے جس کے تحت مختار مائی اس میں شائع شدہ مواد پر اعتراض یا اختلاف کر سکتی ہیں کیونکہ مختار مائی کی داستان سرائیکی زبان سے فرانسیسی اور جرمن میں تحریر کرتے ہوئے غلطیوں کا امکان موجود ہے۔

فوری انصاف کا نشانہ
فوری انصاف کے حکومتی نظام پر اٹھتے ہوئےسوالات
کینیڈا کی سفیر خواتین کا عالمی دن
مختاراں مائی کو سکول کیلیے 21 لاکھ کی امداد
مختار مائیریپ کیس کا فیصلہ
مختار مائی کیس کا تفصیلی فیصلہ آ گیا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد