BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 October, 2006, 10:38 GMT 15:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کچے مٹی کے گھر بنانا، گڑیوں سے کھیلنا‘
مختار مائی بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے لیے اپنے خیالات اور اپنے صبح و شام کی تفصیلات ایک ڈائری کی شکل میں قلم بند کر رہی ہیں۔ یہ اسی سلسلے کی اگلی کڑی ہے۔ آپ مختار مائی کے نام اپنے پیغامات اسی صفحے کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔


سولہ اگست، دو ہزار چھ
اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ میرا ماضی مجھے ستاتا ہے۔ ستاتا اور رلاتا ہے کہ کیا تھی اور کیا ہوگئی ہوں۔ میں کبھی اپنے بچپن ، لڑکپن کی باتیں اپنی دوست نسیم سے شیئر کرتی ہوں تو ایک واقعہ اکثر میں اسے سناتی ہوں۔ میری دو دوست ہوا کرتی تھیں۔ ایک کا نام سونی اور دوسری کا نام سکینہ۔ ایک دفعہ انہوں نے مجھے کہا کہ ہمارے ساتھ چلو۔ میں بھی چلی گئی۔ ان دونوں نے کہا کہ تم یہاں پر کھڑی ہو جاؤ ہم کھیت میں سے گنا توڑ آئیں۔ میں کھڑی تھی کہ کھیت کا مالک آگیا۔ اس نے پوچھا کہ بی بی یہاں کیوں کھڑی ہو۔ میں نے اسے صاف صاف بتا دیا کہ سکینہ اور سونی آپ کے کھیت سے گنا توڑ رہی ہیں اور مجھے یہاں ٹھہرا گئی ہیں۔ میں نے سب سچ بتا دیا جس پر انہوں نے مجھے ڈانٹا۔ دراصل میں بچپن ہی سے شرمیلی اور گھبرا جانے والی تھی۔ بچپن ہی سے مجھے سلائی کڑھائی کا شوق تھا۔ ہمارے گھر کے قریب ایک نہر ہے۔ میرا سب سے بڑا مشغلہ اپنی دوستوں کے ساتھ نہر میں نہانا ہوتا تھا۔ خالہ مٹھن مائی کے ساتھ ہم جایا کرتی تھیں۔ وہ ہمیں نہر پر لے جاتی تھیں اور واپس گھر بھی چھوڑ جاتی تھیں۔ کچے مٹی کے گھر بنانا، گڑیوں سے کھیلنا، گھر کے کام کاج میں ماں کا ہاتھ بٹانا، کپاس کی چنائی پر جانا، گھاس کاٹنا، سلائی کڑھائی کا کام کرنا، میرے معمولات تھے۔ کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اتنی ذمہ داریاں میرے کندھوں پر آن پڑیں گی۔

بہر حال، آج سولہ اگست صبح دس بجے کے قریب میری دوست نسیم کے استاد نے بتایا کہ نصراللہ جتوئی عرف پپو، موجودہ ڈسٹرکٹ ناظم قبوم جتوئی کے بھائی کو اس کے سالے (یعنی بیوی کے بھائی) نے گولی مار دی ہے۔ تقریباً بارہ ایک بجے پتا چلا کہ نصراللہ خان کی موت ہوگئی ہے۔ اس کا مجھے بےحد افسوس ہوا اور میں باقاعدہ اس کا منہ دیکھنے گئی۔ کہتے ہیں کہ مر جانے والوں سے گلہ نہیں کرتے مگر یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ اس انسان نے میری ایف آئی آر کو خراب کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا اور فیض مستوئی جو اس کا گہرا دوست تھا کو آٹھ دن گھر میں رکھا اور بعد میں بھی کھل کر ہر طرح کے لوگوں کی حمایت کرتا رہا۔

مگر اس وقت مجھے اس شخص کی ناگہانی موت پر شدید رنج و غم ہے اور میری دعا ہے کہ اللہ مرحوم کو جوار رحمت میں جگہ دے، آمین۔

دوسری جانب میری دوست نسیم کی نانی بھی اسی دن وفات پا گئیں۔ ہم نصراللہ جتوئی کے افسوس کے بعد جب نسیم کی نانی کے گھر پہنچے تو لوگ مٹی پر کھجور کے پتوں کی بنی چٹائیوں پر اکٹھے ہوئے بیٹھے تھے۔

کہاں وہ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کا ہجوم نصراللہ خان کی موت میں شریک اور کہاں ایک غریب کی موت پر چند لوگ۔ میں نے نسیم سے کہا دیکھو غریب اور امیر میں کتنا بڑا فرق اور گیپ ہے۔ بہرحال ایک جاگیردار کی اور ایک غریب کی موت کا افسوس کر کے گھر واپس آگئے۔ کافی رات ہو چکی تھی۔ ہم سو گئے۔


سترہ اگست، دو ہزار چھ

تقریباً بارہ بجے زرینہ مائی اور اس کی بہن سکینہ مائی میرے پاس آئیں۔ زرینہ مائی ایک ینگ سی لڑکی ہیں، جن کی حالت انتہائی دردناک تھی۔ اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں اور اس کا چہرہ قربناک تھا۔ میں نے انہیں بٹھایا اور حال احوال پوچھا تو زرینہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ میں نے اسے چپ کرایا، حوصلہ دیا اور بعد میں اس نے جو کچھ بتایا وہ ایسا واقعہ تھا جس نے میری روح کو چھلنی کر دیا۔ اس کو رات میں سوتے ہوئے گھر سے زبردستی اٹھا لیا گیا اور اس کے ساتھ زیادتی کی گئی۔ بےہوشی کے عالم میں بغیر لباس کے کھیت میر درندوں نے پھینک دیا۔ جو وہ نیم بےہوشی میں گرتی پڑتی گھر کی جانب دوڑی تو اس کی چیخ وپکار پر گھر والے بھاگ کر اس کے پاس پہنچے۔ وہ کہتی ہے کہ ’جب مجھے ہوش آیا تو یہ دنیا اندھیری تھی۔ مجھے کچھ سجھائی نہ دیا اور میں نے کیڑے مار دوائی پی کر خود کشی کی کوشش کی، کیوں کہ میں اپنے گھر والوں، دیگر رشتہ داروں اور دنیا کا سامنا نہیں کر سکتی تھی۔ مگر بدقسمتی سے اسی وقت مجھے ہسپتال لے جاکر بچا لیا گیا۔ شاہ جمال تھانہ کے انچارج نے میری ایف آئی آر نہیں کاٹی کیوں کہ مجرم پارٹی خاصی اثر رسوخ والی تھی۔ اس کے بعد ڈی پی او مظفرگڑھ کو درخواست دی گئی تو بعد میں ایس ایچ او نے پرچہ کیا ہے۔ مگر مجرم اب بھی باہر ہیں۔‘

یہ تمام تفصیل سننے کے بعد میں نے تھانہ شاہ جمال کے ایس ایچ او سے بات کی تو وہ انتہائی ڈھٹائی سے بولا کہ ’زرینہ بی بی کے ناجائز تعلقات تھے، وہ جھوٹی ہے۔‘ میں نے کہا کہ سچ اور جھوٹ انوسٹیگیشن، میڈیکل اور عدلیہ نے کلئیر کرنا ہے ۔ تم اب صرف اپنا کام کرو۔ عورت کے ساتھ زیادتی کے بعد دوسری زیادتی ہمارے تھانوں سے شروع ہوتی ہے جو کہ عدالت بھی ختم نہیں کر سکتی۔ کیوں کہ پہلی رپورٹ کسی کیسں کی بنیاد ہوتی ہے جو کہ شروع میں خراب کر دی جاتی ہے۔ دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے۔ مگر میں پرعظم ہوں کہ منظم طریقے سے ناانصافیوں کے خاتمے کے خلاف اپنی زندگی میں لڑتی رہوں گی۔


اٹھارہ اگست، دو ہزار چھ

سکول میں نئی وائس پرنسپل کا تقرر کیا گیا اور سارا دن ہم لوگ سکول کی بہتری کے بارے میں ڈسکشن، مباحثے اور تجاویز میں مصروف رہے۔ میں دن میں تین چار چکر سکول کے باقاعدہ لگاتی ہوں کیوں کہ سکول میرے لیے سب سے اہم ہے، جس سے میری امیدیں وابستہ ہیں، کیوں کہ 350 لڑکیوں نے آگے چل کر اس مشن کو چلانا ہے۔


یہ ڈائری قلم بند کرنے میں مختار مائی کی ساتھی نسیم اختر نے ان کی مدد کی ہے۔


’آپ کیا کہتے ہیں‘

شاہ بانو، میرپور خاص:
آپ کے بارے میں جان کر بہت خوشی ہوئی۔ سچ میں آپ بہت اچھی ہیں۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔ ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔

مہوش آصف، کینیڈا:
آپ کی ڈائری کے کچھ پیج پڑھنے کو ملے۔ کیا کہوں؟ بس اتنا کہوں گی کہ اللہ آپ کو ہمت اور طاقت دے۔ آمین

شاہدہ اکرم، ابو ظہبی:
مختار جی، آپ کی آج کی ڈائری پڑھی۔ کچھ عجیب سے احساسات ہو رہے ہیں کہ جن کو بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں مل رہے۔ اللہ کی ذات بے نیاز ہے اور اس بےنیازی کا ثبوت آپ کی بےگناہی کو اللہ نے خود آپ کے سامنے ہی پیش کر دیا۔ رہی بات غریبی اور امیری کے فرق کی تو ایسا ہی ہوتا پہ آج کی دنیا میں۔ زرینہ مائی کے واقعہ نے کچھ بھی سوچنے کے قابل نہیں رکھا۔ نہ جانے اس دنیا کے دکھ کب کم ہونگے۔ صرف دعا کی ضرورت ہے اور آپ جیسی ہمت کی، جو پہاڑوں کا دل رکھتی ہے۔ ڈھیروں دعائیں۔۔۔

مدثر اقبال، میاں چنوں:
پاکستان کے وقار کو مدنظر رکھتے ہوئے عورت کے حقوق کے حصول کے لیے جنگ جاری رکھیں:
’اس شخص سا دنیا میں منافق نہیں کوئی،
جو ظلم کو سہتا ہے، بغاوت نہیں کرتا‘۔

سعدیہ، ماڈل ٹاؤن، لاہور:
میں جانتی ہوں کہ عورت کی زندگی بہت سی مشکلوں سے بھری ہوئی ہے، لیکن اس کے پیچھے ہم عورتوں کی بھی کمزوری سامنے نظر آتی ہے۔ اگر ہم اپنے آپ کو مضبوط کر لیں تو میں کہتی ہوں کہ عورت جتنی مضبوط ہے، کوئی مرد نہیں ہو سکتا۔ لیکن عورت کے پاس تعلیم کی اور شعور کی کمی ہے۔ ویسے مختار جی، آپ مبارک کی حقدار ہیں کہ آپ نے اتنی ہمت کی اور اب اچھی زندگی گزار رہی ہیں۔

مرزا جہانگیر، ملتان:
یہ بہت بڑا کام ہے، جو آپ نے کیا ہے۔ کاش پاکستان کی تمام خواتین آپ کی طرح سماج کی بہبود کے یلے کام کرتیں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ نے جو توجہ دیہی تعلیم کو دی ہے اسے برقرار رکھیں۔ پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ کسی نے آج تک اس شعبے کو اتنی توجہ نہیں دی، حکومت نے بھی نہیں۔ اور یہی وجہ ہے ہمارے سماج کی زیادہ تر برائیوں کی۔ جاگیردارانہ نظام کی جڑ تعلیم کا فقدان ہے۔ آپ بہت اچھا کر رہی ہیں۔

محمد علی، آسلٹریلیا:
مجھے فخر ہے آپ پر اور جو آپ نے کیا اس پر۔ آپ نے پاکستان کی تمام خواتین کو مستقبل کے لیے امید دی ہے۔


پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
مختار مائیمائی بلاگ
’ظلم پر خاموش رہنا ظلم ہے‘
مائی بلاگمائی بلاگ
’عورت کی عزت و آبرو اور شان۔۔۔‘
مائی بلاگمائی بلاگ
’اس دنیا کے غم جانے کب کم ہونگے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد