’کچے مٹی کے گھر بنانا، گڑیوں سے کھیلنا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مختار مائی بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے لیے اپنے خیالات اور اپنے صبح و شام کی تفصیلات ایک ڈائری کی شکل میں قلم بند کر رہی ہیں۔ یہ اسی سلسلے کی اگلی کڑی ہے۔ آپ مختار مائی کے نام اپنے پیغامات اسی صفحے کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
بہر حال، آج سولہ اگست صبح دس بجے کے قریب میری دوست نسیم کے استاد نے بتایا کہ نصراللہ جتوئی عرف پپو، موجودہ ڈسٹرکٹ ناظم قبوم جتوئی کے بھائی کو اس کے سالے (یعنی بیوی کے بھائی) نے گولی مار دی ہے۔ تقریباً بارہ ایک بجے پتا چلا کہ نصراللہ خان کی موت ہوگئی ہے۔ اس کا مجھے بےحد افسوس ہوا اور میں باقاعدہ اس کا منہ دیکھنے گئی۔ کہتے ہیں کہ مر جانے والوں سے گلہ نہیں کرتے مگر یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ اس انسان نے میری ایف آئی آر کو خراب کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا اور فیض مستوئی جو اس کا گہرا دوست تھا کو آٹھ دن گھر میں رکھا اور بعد میں بھی کھل کر ہر طرح کے لوگوں کی حمایت کرتا رہا۔ مگر اس وقت مجھے اس شخص کی ناگہانی موت پر شدید رنج و غم ہے اور میری دعا ہے کہ اللہ مرحوم کو جوار رحمت میں جگہ دے، آمین۔ دوسری جانب میری دوست نسیم کی نانی بھی اسی دن وفات پا گئیں۔ ہم نصراللہ جتوئی کے افسوس کے بعد جب نسیم کی نانی کے گھر پہنچے تو لوگ مٹی پر کھجور کے پتوں کی بنی چٹائیوں پر اکٹھے ہوئے بیٹھے تھے۔ کہاں وہ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کا ہجوم نصراللہ خان کی موت میں شریک اور کہاں ایک غریب کی موت پر چند لوگ۔ میں نے نسیم سے کہا دیکھو غریب اور امیر میں کتنا بڑا فرق اور گیپ ہے۔ بہرحال ایک جاگیردار کی اور ایک غریب کی موت کا افسوس کر کے گھر واپس آگئے۔ کافی رات ہو چکی تھی۔ ہم سو گئے۔
تقریباً بارہ بجے زرینہ مائی اور اس کی بہن سکینہ مائی میرے پاس آئیں۔ زرینہ مائی ایک ینگ سی لڑکی ہیں، جن کی حالت انتہائی دردناک تھی۔ اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں اور اس کا چہرہ قربناک تھا۔ میں نے انہیں بٹھایا اور حال احوال پوچھا تو زرینہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ میں نے اسے چپ کرایا، حوصلہ دیا اور بعد میں اس نے جو کچھ بتایا وہ ایسا واقعہ تھا جس نے میری روح کو چھلنی کر دیا۔ اس کو رات میں سوتے ہوئے گھر سے زبردستی اٹھا لیا گیا اور اس کے ساتھ زیادتی کی گئی۔ بےہوشی کے عالم میں بغیر لباس کے کھیت میر درندوں نے پھینک دیا۔ جو وہ نیم بےہوشی میں گرتی پڑتی گھر کی جانب دوڑی تو اس کی چیخ وپکار پر گھر والے بھاگ کر اس کے پاس پہنچے۔ وہ کہتی ہے کہ ’جب مجھے ہوش آیا تو یہ دنیا اندھیری تھی۔ مجھے کچھ سجھائی نہ دیا اور میں نے کیڑے مار دوائی پی کر خود کشی کی کوشش کی، کیوں کہ میں اپنے گھر والوں، دیگر رشتہ داروں اور دنیا کا سامنا نہیں کر سکتی تھی۔ مگر بدقسمتی سے اسی وقت مجھے ہسپتال لے جاکر بچا لیا گیا۔ شاہ جمال تھانہ کے انچارج نے میری ایف آئی آر نہیں کاٹی کیوں کہ مجرم پارٹی خاصی اثر رسوخ والی تھی۔ اس کے بعد ڈی پی او مظفرگڑھ کو درخواست دی گئی تو بعد میں ایس ایچ او نے پرچہ کیا ہے۔ مگر مجرم اب بھی باہر ہیں۔‘ یہ تمام تفصیل سننے کے بعد میں نے تھانہ شاہ جمال کے ایس ایچ او سے بات کی تو وہ انتہائی ڈھٹائی سے بولا کہ ’زرینہ بی بی کے ناجائز تعلقات تھے، وہ جھوٹی ہے۔‘ میں نے کہا کہ سچ اور جھوٹ انوسٹیگیشن، میڈیکل اور عدلیہ نے کلئیر کرنا ہے ۔ تم اب صرف اپنا کام کرو۔ عورت کے ساتھ زیادتی کے بعد دوسری زیادتی ہمارے تھانوں سے شروع ہوتی ہے جو کہ عدالت بھی ختم نہیں کر سکتی۔ کیوں کہ پہلی رپورٹ کسی کیسں کی بنیاد ہوتی ہے جو کہ شروع میں خراب کر دی جاتی ہے۔ دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے۔ مگر میں پرعظم ہوں کہ منظم طریقے سے ناانصافیوں کے خاتمے کے خلاف اپنی زندگی میں لڑتی رہوں گی۔
سکول میں نئی وائس پرنسپل کا تقرر کیا گیا اور سارا دن ہم لوگ سکول کی بہتری کے بارے میں ڈسکشن، مباحثے اور تجاویز میں مصروف رہے۔ میں دن میں تین چار چکر سکول کے باقاعدہ لگاتی ہوں کیوں کہ سکول میرے لیے سب سے اہم ہے، جس سے میری امیدیں وابستہ ہیں، کیوں کہ 350 لڑکیوں نے آگے چل کر اس مشن کو چلانا ہے۔ یہ ڈائری قلم بند کرنے میں مختار مائی کی ساتھی نسیم اختر نے ان کی مدد کی ہے۔
شاہ بانو، میرپور خاص: آپ کے بارے میں جان کر بہت خوشی ہوئی۔ سچ میں آپ بہت اچھی ہیں۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔ ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔ مہوش آصف، کینیڈا: شاہدہ اکرم، ابو ظہبی: مدثر اقبال، میاں چنوں: سعدیہ، ماڈل ٹاؤن، لاہور: مرزا جہانگیر، ملتان: محمد علی، آسلٹریلیا: |
اسی بارے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||