BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Friday, 15 September, 2006, 11:47 GMT 16:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عورت کی عزت و آبرو اور شان‘
مختار مائی بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے لیے اپنے خیالات اور اپنے صبح و شام کی تفصیلات ایک ڈائری کی شکل میں قلم بند کر رہی ہیں۔ یہ اسی سلسلے کی اگلی کڑی ہے۔ آپ مختار مائی کے نام اپنے پیغامات اسی صفحے کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔


یکم اگست، دو ہزار چھ
میں گھر میں بیٹھی ہوئی تھی کہ دو خواتین کمرے میں داخل ہوئیں۔ ان میں سے ایک کا نام کریم مائی تھا جبکہ دوسری بی بی کا نام مجھے صحیح سے یاد نہیں۔ کریم مائی کا کوئی زمین کا مسئلہ تھا جبکہ دوسری خاتوں مسلسل رو رہی تھی۔ جب میں نے اس کا مسئلہ پوچھا، اسے چپ کروایا اور حوصلہ دیا تو اس نے بتایا کہ مجھے ہمسائے تنگ کرتے ہیں۔ انہوں نے کئی دفعہ ہمیں مارا پیٹا بھی ہے اور قتل کرنے کی دھمکیاں وغیرہ بھی دیں ہیں۔ میں نے کہا ٹھیک ہے تمہاری جان کی حفاظت کے لیے درخواست دے دیتے ہیں۔ مگر وہ اس بات پر راضی نہ ہوئی کہ وہ کوئی ایف آئی آر وغیرہ کروائے۔ بہر حال اس کی ایک رٹ تھی کہ عورت ذات کا شیوہ نہیں کہ وہ تھانہ کچہری میں جائے۔ یہ اچھا نہیں ہوتا ، اس سے عورت کی عزت و آبرو اور شان کے لیے ٹھیک نہیں ہے وغیرہ وغیرہ۔

اس کے جانے کے بعد میں کافی دیر سوچتی رہی کہ عورت کو کس قدر ذہنی غلامی میں جکڑا گیا ہے کہ وہ اپنے لیے حق بات کرنے یا حق حاصل کرنے کو بھی گناہ یا شان کے خلاف سمجھتی ہے۔ اس دور میں بھی جب عورت دنیا کی آدھی آبادی پر مشتمل ہے۔


تین اگست، دو ہزار چھ
مختلف خواتین آئیں جن میں سے بیشتر گھریلو پریشانیوں سے تنگ اور مالی امداد چاہتی تھیں۔ جن میں سے ایک کریم مائی تھی جن کے گھر پر کسی مقامی زمیندار کے کارندوں نے قبضہ کر لیا تھا۔ وہ لوگ ابھی تک اپنے گھر کے پاس باہر پڑاؤ ڈالے بیٹھے تھے۔ میں نے انہیں یہی مشورہ دیا کہ وہ اپنی جگہ بالکل نہ چھوڑیں کیونکہ انہی لوگوں کو اپنے حق کے لیے لڑنا ہے اور ڈٹ جانا ہے۔

میرے پاس آنے والی خواتین کی اکثریت مردوں پر انحصار کرنے والی ہوتی ہے۔ ان کو دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے ملتی ہے۔ اس لیے میں چاہتی ہوں کہ یہاں کی ان پڑھ مگر ہنر یافتہ عورتوں کے لیے میر والہ میں ایک وکیشنل سینٹر جیسا مضبوط ادارہ قائم ہو۔ ہنر یافتہ خواتین سے مختلف سلائی کڑھائی کا کام دنیا میں متعرف کرواؤں۔ غیر تربیت یافتہ عورتوں کو ہنر یافتہ کیا جائے جو کہ وقت کی بہت اہم ضرورت ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ ہمارے ہاں عورت کے خلاف ہونے والی زیادتیوں کی ایک اہم وجہ مالی کمزوری بھی ہے کیونکہ ہمارے ہاں زیادہ تر عورتیں مالی طور پر مردوں پر انحصار کرتی ہیں اور ان کے تمام مظالم بھی برداشت کرتی ہیں۔ میری پوری کوشش ہے کہ میں کچھ ایسا کروں کہ دیہات کی عورتوں کے لیے مالی مشکلات کم ہوں۔


چھ اگست، دو ہزار چھ
میری دوست نسیم اچانک موسمی تبدیلی کے باعث بیمار پڑ گئیں۔ تین چار دن ہمیں قریبی تحصیل علی پور جانا پڑتا تھا۔ علی پور میں ڈاکٹر طلحہ صاحب کے پاس دوائی لینے گئے۔ دو دن مسلسل ڈاکٹر صاحب مجھ سے یہ کہتے رہے کہ تمہاری شکل مختار بی بی سے ملتی ہے۔ کیا تم نے مختار بی بی دیکھی ہے؟ میں نے جواب دیا نہیں۔ مگر ڈاکٹر صاحب مسلسل کہتے رہے کہ مختار مائی کا سی این این پر انٹرویو چلا ہوا تھا بالکل آپ کی شکل سے ملتی ہے۔ آخر تیسرے دن ڈاکٹر صاحب کو معلوم ہوا کہ میں ہی مختار بی بی ہوں۔ خیر پھر وہ سکول اور دیگر پراجیکٹس کے بارے میں پوچھنے لگے۔


دس اگست، دو ہزار چھ
میری اپنی طبیعت ناساز رہی۔ اسی دوران مختلف خواتین جو دور دراز علاقوں سے آتی ہیں تو اکثر میری دوست نسیم کو مختار بی بی سمجھتی ہیں۔ ان میں اکثر وہ خواتین ہوتی ہیں جنہوں نے میرا نام تو سنا ہوا ہے مگر وہ پڑھی لکھی نہیں یا پھر میڈیا سے متعلق انہیں زیادہ آگاہی نہیں ہوتی۔


یہ ڈائری قلم بند کرنے میں مختار مائی کی ساتھی نسیم اختر نے ان کی مدد کی ہے۔


آپ کے پیغامات

منظور، حیدرآباد
آپ کے کہانی بہت دکھ بھری ہے۔ ہمیں آپ سے پوری ہمدردی ہے۔ آپ سے امید کی جاتی ہے کہ آئندہ آپ اس ہی طرح ظلم کے خلاف آواز بلند کرتی رہیں گی۔

امتیاز علی، پاکستان
مختار مائی آپ کو دیکھ کر پاکستان کی عورتیں اپنی حق کے لیے اٹھی ہیں۔ یہ آپ کی ہمت ہے کہ آپ نے آگے بڑھ کر عورت کو کمزور ہونے سے بچایا ہے۔

نواز جان، بلوچستان
بس جی کیا کہیں۔ عورت کو کمزور ہمارے ملک کی پالیسیوں نے بنایا ہے۔ اور ایسا قانون ہے کہ عورت اپنے اوپر ہونے والے ظلم پر آواز بھی نہیں اٹھا سکتی۔ وہ ڈرتی ہے کہ ہونا تو کچھ نہیں الٹا اس کی بےعزتی ہوگی۔ اللہ خیر کرے۔

شازیہ رسول، پاکستان
میں اس بارے میں یہ کہوں گی کہ عورت نے خود اپنے آپ کو کمزور کیا ہے تب ہی کوئی ظلم والا پیدا ہوتا ہے۔ اگر عورت چاہے تو ظلم کو پیدا ہی نہ ہونے دے۔ عورت آج آگے بڑھے گی تب ہی ظلم مٹے گا۔ گھر بیٹھنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ رپورٹ کرو پولیس میں کوئی بدنامی نہیں ہوگی۔ دھمکیوں کا سامنا کرو اور ظلم کو مٹاؤ۔

مجاہد اقبال، سمندری
بہت اچھی بات ہے کہ انہوں نے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی اور دوسری عورتوں کو بھی یہ راہ دکھائی۔

شاہدہ اکرم، ابوظہبی
مختار جی آپ کی ڈائری سے جو راحت اور سکون ملتا ہے وہ میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی۔ آج کے اس زمانے میں عورت کو بہت آزاد سمجھا جاتا ہے۔ اپنی مرضی سے سب کچھ کر سکتی ہے پھر بھی ہر ایک کی حد مقرر ہے۔ بہت آزاد ہونے کے باوجود ہاتھ ایک ایسی ان دیکھی ڈور سے بندھے ہوئے ہیں اور اس ڈور کا دوسرا حصہ ابھی بھی ہمارے معاشرے کے مردوں کے ہاتھ میں ہے۔ عورت کے لیے زندگی آج بھی جس قدر مشکل ہے اس کا کوئی اندازہ بھی نہیں کر سکتا۔ مختار جی عورت جو ہمت کر لے تو کوئی اس کی ہمت کو نہیں توڑ سکتا۔ ڈاکٹر شازیہ ہوں یا مختار آپ، دونوں نے اپنی ہمت سے آج ایک گھریلو عورت کو بھی جینے کا حوصلہ دیا ہے۔ رہی یہ بات کہ عورت کی ذہنی غلامی کی کوئی حد بھی ہے یا نہیں ۔ حد ہے لیکن ہر ایک کو غلامی میں لینے کے طریقے ہر دور میں مردوں نے مختلف رکھے ہیں۔ کبھی کہیں طریقہ پیار سے وار کرنے کا ہے اور کہیں طاقت اور حاکمیت سے کام لیا جاتا ہے۔ آپ کے لیے ہم سب کی دعائیں ہیں۔ دعا ہے اللہ تعالٰی سے کہ آپ کو اپنے امان میں رکھے اور ہمت عطا کرے کہ مردوں کی اس دنیا کو عورت کی ہمت کچھ خاص پسند نہیں آیا کرتی۔ دعائیں اور پیار۔


پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
مائی بلاگمائی بلاگ
’ظلم کو علم سے ختم کرنا میرا ایمان ہے‘
مائی بلاگمائی بلاگ
پولینڈ سفر نامہ:’کبھی پیچھے نہیں ہٹوں گی‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد