مختار مائی بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے لیے اپنے خیالات اور اپنے صبح و شام کی تفصیلات ایک ڈائری کی شکل میں قلم بند کر رہی ہیں۔ یہ اسی سلسلے کی اگلی کڑی ہے۔ آپ مختار مائی کے نام اپنے پیغامات اسی صفحے کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
میں اپنے کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی کہ میرے بہنوئی ریاض اور والد نے بتایا کہ چند دن قبل رات گئے کچھ پولیس کے دستے آئے اور وہ ان کے شناختی کارڈ کی کاپیاں اور تصاویر وغیرہ اکٹھا کرنے کی غرض سے آئے تھے۔ اس کے بعد کچھ لوگوں سے بات چیت کے بعد پتہ چلا کہ حکومت پاکستان میری اور میری دوست نسیم کی تفصیلات اکٹھی کر رہی ہے۔ معلوم نہیں یہ سب کیوں اور کس مقصد کے لیے ہو رہا ہے۔ حکومت پاکستان کے سوچنے کا انداز معلوم نہیں کس نوعیت کا ہے مگر میں تو یہی سوچتی ہوں کہ ہم ایسا کچھ نہیں کر رہے بلکہ ہم نے ایمانداری، دیانتداری اور سچائیوں پر مبنی حقیقت پسندانہ اور مثبت انداز اختیار کیا ہے۔ ہمارا مقصد غریبوں، مظلوموں اور عورتوں کے حقوق کے لیے پوری توانائیوں کے ساتھ لڑنا ہے نہ کہ حکومتوں کے معاملات میں مداخلت کرنا۔
شام میں سجاد شاہ نے رحیم یار خان موضع لالو والہ سے فون کیا کہ نسرین بی بی جسے کاروکاری کر کے مارنے کی بھرپور کوششش کی گئی تھی کے ایک مجرم کو ایس ایچ او نے بے گناہ کر دیا ہے اور ابھی تک اس کے باقی مجرم گرفتار ہی نہیں ہوئے۔ مجھے انتہائی تکلیف ہوئی اور اس دکھ نے کئی دن مجھے اذیت میں مبتلا رکھا۔ بلکہ خان پور کے ایس ایس پی پیر محمد شاہ کے پی اے سے بات کی کہ ظلم کی یہ اندھیری نگری کبھی ختم ہوگی کہ نہیں۔ پھر میں نے نسیم بی بی کو دوبارہ اپنے گھر بلا لیا کیوں کہ وہاں پر اس کی جان کو خطرہ ہے۔ کچھ ہم 14 اگست یعنی جشن آزادی کا دن منانے کے لیے پورے جذبے سے تیاریوں میں مصروف تھے۔
چودہ اگست کی صبح آٹھ بجے سکول کی بچیاں جوش و خروش سے سکول کے صحن میں موجود تھیں۔ صبح آٹھ بجے پرچم کشائی کی تقریب ہوئی۔ اس کے بعد قرآن پاک کی آیات کی تلاوت کی گئی اور بعد میں آنحضور کی شان میں نعت شریف پڑھی اور پھول نچھاور کیے گئے۔ اس کے بعد بچوں نے بڑے جوش اور جذبے سے ملی نغمے، آزادی کے بارے میں تقاریر اور ٹیبلو وغیرہ پیش کیے۔ سکول کی ہر بچی ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے جوش میں بار بار سٹیج پر اپنی خواہش کے مطابق کچھ کہنا اور کچھ سنانا چاہتی تھی۔ مجھے بہت خوشی ہو رہی تھی، یہ جذبہ مجھے بڑا حوصلہ دے رہا تھا کہ واقعی یہ یہی بچیاں اپنے حقوق کی جنگ اسی جذبے سے لڑیں گی اور میرے بعد سکولوں کے بچے میری امید اور میرے مشن کو جاری رکھیں گے اور زیادتیوں اور جہالت کے اندھیروں کو ختم کرنے میں کردار سر انجام دیتے رہیں گے۔ میری دوست نسیم نے اپنی تفصیلی تقریر میں 59 سالہ تاریخ پر روشنی ڈالی اور دکھ کا اظہار کیا کہ اکیسویں صدی عیسوی میں بھی جہالت کے پھندوں کے ساتھ داخل ہو رہے ہیں اور ہمیں معاشرتی ناہمواریوں کو ختم کرنا ہے۔ تقریب میں کچھ مہمانوں نے اظہار خیال کیا اور آخر میں میں نے مہمانوں اور بچیوں کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب کے اختتام پر بچیوں میں انعامات تقسیم کیے گئے۔
ہم لوگ اپنی این جی او کے کاموں میں مصروف رہے۔ این ای ڈی پراجیکٹ کے کام کو شروع کر لیا ہے اور لوگوں کے آنے جانے کا سلسلہ جاری رہا۔ کبھی کبھی بہت ساری سوچیں مجھے گھیرتی ہیں تو اکثر یہ اشعار میرے ذہن میں گردش کرنے لگتے ہیں کہ کب تک ہماری قوم غفلت اور جہالت کے اندھیروں میں جکڑی رہے گی۔ ’غافل و مدہوش رہنا ظلم ہے بے حس اور بے جوش رہنا ظلم ہے جرم ہے آنکھیں چرانا جرم ہے ظلم پر خاموش رہنا ظلم ہے‘
یہ ڈائری قلم بند کرنے میں مختار مائی کی ساتھی نسیم اختر نے ان کی مدد کی ہے۔
محمد صلاح الدین، سؤٹزرلینڈ: یہ عام لوگوں اور خاص طور پر خواتین کے لیئے بہت حوصلہ افزا ہے۔ خدا آپ کو اجر دے۔ شاہد علی، سپین: مجھے آپ کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کے بارے میں نہیں معلوم۔ کیا کبھی آپ اس بارے میں بتانا پسند کریں گی۔ وقار عباسی، فیصل آباد: میرا آپ سے ایک سوال ہے کہ کہ جس طرح دنیا آپ کو جان رہی ہے، آپ اس پر فخر محسوں کرتی ہیں یا نہیں؟ شازیہ حمید میمن، پاکستان: جس نے بھی ظلم کے خلاف آواز اٹھائی ہے اس کی آواز کو دبایا گیا ہے لیکن مشکل وقت ہمیشہ نہیں رہتا۔ آپ کو تو اللہ نے طاقت دی ہے، ہم سب کی دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔ آپ کا کام ہے ہی ایسا کہ ہر وقت مشکل سامنے آئے گی مگر فتح ہمیشہ سچ کی ہوتی ہے۔ احمر شاہین، ہلسنکی، فِن لینڈ: آپ کی آواز پورے پاکستان کی آواز ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ آپ بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر اپنے بنک اکاؤنٹ کی تفصیل دیں۔ بہت سے پاکستانی حضرات خاص طور پر بیرون ملک پاکستانی آپ کے نیک کام میں مدد کرنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ مضبوط ہوں گی تو ساری کمزور خواتین مضبوط ہوں گی۔ اللہ آپ کو کامیابی دے۔ آمین وقار سلام، ویلنشیا، سپین: مختار مائی دنیا کی ایک عظیم عورت ہیں کیونکہ وہ مجرموں کے خلاف لڑیں۔ میں آپ کی عزت کرتا ہوں کیونکہ آپ بہت نڈر خاتون ہیں۔ آپ کے سکول کے بچوں کے لئے دعائیں اور پیار۔ واجد، پشاور یونیورسٹی: آپ کے لیئے نیک خواہشات۔ محمد زبیر مغل، لاہور: مختار مائی سے درخواست ہے کہ وہ پاکستان میں رہیں اور ملک کو بدنام نہ کریں۔ احمد بٹ، لاہور: میڈیا کی توجہ بس ایک مختار مائی تک ہے لیکن کئی عورتیں روز ریپ ہو رہی ہیں، ہر جگہ، امریکہ، یورپ، افریقہ میں۔ مختار مائی میرے پیارے ملک کو بدنام کر رہی ہیں جہاں لوگوں کی اکثریت خواتین کا احترام کرتی ہے اس لیئے میری مختار مائی سے درخواست ہے کہ وہ دشمنوں کے ہاتھوں میں نے کھیلیں۔ ہم سب آپ کے ساتھ ہیں، لیکن اگر آپ ملک کو بدنام کریں گی تو پھر نہیں۔ سمیرا رانی، اسلام آباد: بطور خاتون ہم سب کو عورتوں کے لیئے کام کرنا چاہیے۔ میں آپ کے ساتھ ہوں اور امید کرتی ہوں کہ آپ اپنی اسلامی روایات کو نہیں بھولیں گی۔ |