BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Monday, 23 October, 2006, 11:15 GMT 16:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جو بد دعائیں دیتا ہے دیتا رہے‘
مختار مائی بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے لیے اپنے خیالات اور اپنے صبح و شام کی تفصیلات ایک ڈائری کی شکل میں قلم بند کر رہی ہیں۔ یہ اسی سلسلے کی اگلی کڑی ہے۔ آپ مختار مائی کے نام اپنے پیغامات اسی صفحے کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔


تئیس اگست، دو ہزار چھ
’جہاں ظلم ہوگا وہاں میں پہنچوں گی‘
دوپہر تک میں کافی مصروف رہی۔ بہت ساری خواتین آئی ہوئی تھیں، ان کے مختلف مسائل تھے۔ بہرحال دو بجے ہم رحیم یار خان کے لیے روانہ ہوئے۔ شام میں ہم کوٹ سمابہ بستی چھتہ پہنچے تو ہزاروں لوگ جمع تھے۔ پہلے ہم سکینہ مائی کے ورثاء کے پاس گئے جہاں کہرام مچا ہوا تھا، لوگ رو رہے تھے۔

میں نے اور میری دوست نسیم نے سکینہ مائی کے ورثاء کو تسلی دی۔ بعد میں ہم نے نور محمد سومرو سے ملاقات کی۔ اس عظیم انسان نے اس کیس کو منظر عام پر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان سے تفصیلات لینے کے بعد کوٹ سمابہ کے ایس ایچ او اور ڈی ایس پی سے کیس سے متعلق بات چیت کی۔

ہم ملزمان پارٹی کی طرف بھی گئے۔ وہاں بھی کافی تعداد میں لوگ اکٹھے تھے۔ ان سے میری دوست نسیم نے بات کی تو وہ لوگ اپنی بےگناہی کا رونا رو رہے تھے۔ ہم نے انہیں بھی یقین دلایا کہ ہمارا مقصد حقیقی مجرموں کو بےنقاب کرنا ہے۔ رپورٹس آنے کے بعد انشااللہ فیصلہ ہوگا۔ جو گناہ گار ہوگا صرف اس کو سزا ملے گی۔

اس کے بعد ہم رحیم یار خان کے لیے روانہ ہوئے۔ وہاں کچھ صحافیوں اور این جی او کے لوگوں کی ایک ہوٹل میں بیٹھک ہوئی۔ اس کے بعد ہم نور محمد سومرو صاحب کے ساتھ ایکسپریس کے آفس گئے۔ رات کو دو بجے ہم فارغ ہوئے اور سونے چلے گئے۔


چوبیس اگست، دو ہزار چھ

صبح دس بجے میں نے ریلی کی قیادت کرنی تھی۔ جب ہم ریلی چوک پر پہنچے تو وہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ موجود تھے۔ ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے میں نے کہا کہ جہاں ظلم ہوگا وہاں میں پہنچوں گی۔ میں نے کہا کہ ’ظلم پہ خاموش رہنا ظلم ہے۔‘

نسیم نے بھی اپنی تقریر میں معاشرتی ناہمواریوں اور ناانصافیوں پر افسوس کا اظہار کیا اور لوگوں سے کہا کہ وہ اپنے خلاف ہونے والی زیادتیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں اور آپ لوگوں کی بیداری یقیناً اندھیری رات کو ختم کرے گی۔ بعد میں ہم نے ڈی پی او رحیم یار خان اور ایس ایس پی انوسٹی گیشن سے مالاقات کی اور حقائق کی احتیاظ سے چھان بین کا مطالبہ کیا۔ جس پر انہوں نے ہمیں یقین دہانی کرائی کہ بغیر کسی سیاسی دباؤ کے وہ میرٹ پر فیصلہ کریں گے۔

شام ہوئی تو میں میروالہ کے لیے اور نسیم سکھر کے لیے روانہ ہوئی۔


پچیس، جھبیس، ستائیس اگست، دو ہزار چھ

حسب معمول لوگوں کا آنا جانا رہا اور اپنی تنظیم کے کاموں میں مصروف رہے۔


اٹھائیس اگست، دو ہزار چھ

غلام محمد ولد نور محمد خان، یہ آدمی آیا اس نے کہا کہ مختار مائی سے کہیں کہ مجھے حج کروائے۔ تو میں نے کہا کہ میں آپ کو حج کیسے کراؤں؟ میں تو سکول اور بہت سے کام کر رہی ہوں۔ تو اس آدمی نے بد دعائیں دینی شروع کر دیں۔ میں نے پولیس والوں سے کہا کہ آپ اس آدمی کو کچھ نہ کہیں۔ جو مجھے بد دعائیں دیتا ہے دیتا رہے، تو وہ آدمی چلا گیا۔


انتیس اگست، دو ہزار چھ

میں لاہور کے لیے روانہ ہوئی کیوں کہ امریکن قونصلیٹ میں نئی پولٹیکل آفسر نے مجھے بلایا۔ وہ مجھ سے ملنا چاہتی تھیں۔ بہت اچھی خاتون تھیں۔ انہوں نے فلاحی کاموں کے متعلق پوچھا۔ نسیم نے خاصی تفصیلی گفتگو کی اور اسکول سے متعلق معلومات فراہم کیں۔ شام میں ہم روانہ ہوئے۔


تیس اگست، دو ہزار چھ

ہم خواتین پر تشدد کے موضوع پر کانفرنس منعقد کر رہے ہیں۔ مصروف ہیں کیوں کہ مظفر گڑھ میں کر رہے ہیں۔


اکتیس اگست، دو ہزار چھ

ہم صبح مظفر گڑھ روانہ ہوئے جہاں پر ڈی سی او مظفرگڑھ سے ’کرائسس ریلیف سینٹر‘ جس کا اب نیا نام ’وومن سینٹر‘ ہے کی میٹنگ تھی۔

وہاں سے فارغ ہونے کے بعد ’اوسیس ان ہوٹل‘ جو جھنگ روڈ مظفر گڑھ پر ہے۔ اس میں میری آرگنائزیشن کے زیراہتمام ’خواتین پر تشدد اور معاشرے کا کردار‘ پر کانفرنس منعقد کی گئی جس میں ڈسٹرکٹ ناظم، سٹی ناظم ، کونسلرز جن میں مرد، خواتین، میڈیا، این جی او اور عام شہریوں کی اچھی خاصی تعداد نے شرکت کی۔ اس کانفرنس کا مقصد لوگوں میں بیداری اور خواتین کے حقوق سے متعلق شعور بیدار کرنا تھا۔ تمام لوگوں کو بولنے کا موقع دیا گیا۔ وہ موضوع پر اظہار خیال اور اپنی تجاویز بھی دے رہے تھے۔

سٹی ناظم نے اپنے اظہار خیال میں کہا کہ استاد اپنی شاگردوں سے پسند کی شادی کر لیتے ہیں، یہ اچھا تاثر نہیں ہے۔ یہ معاشرتی اخلاقیات کے خلاف ہے۔ اس پر ایس پی او سے فروزہ زہرہ اور ہیومن رائٹس سے راشد رحمان صاحب بولے کہ پسند کی شادی عورت کا بنیادی حق ہے اور اسلام جن رشتوں سے شادی کی اجازت نہیں دیتا ہے وہ آپ سب کو معلوم ہے۔ اس پر ضلع ناظم نے کہا کہ ہم اس کو نہیں مانتے اور کانفرنس سے بائیکاٹ کر کے چلے گئے۔ چند اور لوگ بھی ان کے ساتھ چلے گئے۔

مگر ہماری کانفرنس انتہائی کامیابی سے جاری رہی اور پایہ تکمیل تک پہنچی۔ بہرحال نسیم اختر نے کہا کہ ہمارے ضلع ناظم صاحب بھی دراصل بنیادی طور پر جاگیر دار ہیں اس لیے حقائق کو تسلیم کرنا ان کی فطرت میں نہیں ہے۔ جو بھی بات ہوئی اس پر ناظم صاحب ہمیں اپنی دلائل سے قائل کرتے یا پھر قائل ہوتے۔ بائیکاٹ کرنے سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ سچائیوں کا سامنا کرنے کو تیار نہیں اور یہ ہرگز جمہوری رویہ کے منافی ہے۔

میں نے کہا وہ ضلع کے ناظم ہیں۔ کوئی بات تھی بھی تو ہماری سنتے اور اپنی بات سمجھاتے اور قائل کرتے۔ مجھے بہت افسوس ہوا کہ انہوں نے انتہائی چھوٹے پن کا مظاہرہ کیا۔

کانفرنس کے بعد زرینہ مائی، ایک اور زیادتی کیس جو تھانہ صدر مظفر گڑھ سے تھا، کے متعلق ڈی پی او مظفر گڑھ رائے طاہر صاحب سے ملاقات کی جنہوں نے فوری احکامات صادر فرمائے جس کے بعد ہم گھر کے لیے روانہ ہو پڑے۔



یہ ڈائری قلم بند کرنے میں مختار مائی کی ساتھی نسیم اختر نے ان کی مدد کی ہے۔



آپ کے تبصرے

امین آفریدی، دبئی:
مختار مائی میں بے قصور لوگوں کے لئے آپکی جدو جہد کا مداح ہوں۔ کیا آپ مجھے ای میل پر اپنے ساتہ زیادتی کی تفصیل بتا سکتی ہیں۔ شکریہ۔ میں آپکی کامیابی کے لیئے دعاگو ہوں۔

شانی علی، مانسہرہ، پاکستان:
مختار مائی پلیز اب یہ ختم کریں۔ آپ نے بہت پیسہ بنا لیا ہے۔

ایاز مزاری، رحیم یار خان، پاکستان:
خدا کے لیئے اب آپ یہ ڈرامہ بند کریں۔

ناصر خان وزیرستانی، شمالی وزیرستان:
آپ بہت اچھی ہیں، بہت غیرت مند۔ ہمیں آپ جیسی لڑکی پر فخر ہے۔ نماز پڑھا کریں، اللہ آپ کی مدد فرمائے گا۔ اگر آپ کو جان کا خطرہ ہو تو شمالی وزیرستان آ جائیں، طالبان آپ کی پوری پوری حفاظت کریں گے۔


پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
مائی بلاگمائی بلاگ
’ظلم کو علم سے ختم کرنا میرا ایمان ہے‘
مائی بلاگمائی بلاگ
’عورت کی عزت و آبرو اور شان۔۔۔‘
مائی بلاگمائی بلاگ
’نیا ہسپتال، سکول کی تعمیر اور سکینہ مائی‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد