’جو بد دعائیں دیتا ہے دیتا رہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مختار مائی بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے لیے اپنے خیالات اور اپنے صبح و شام کی تفصیلات ایک ڈائری کی شکل میں قلم بند کر رہی ہیں۔ یہ اسی سلسلے کی اگلی کڑی ہے۔ آپ مختار مائی کے نام اپنے پیغامات اسی صفحے کے ذریعے بھیج سکتے ہیں۔
میں نے اور میری دوست نسیم نے سکینہ مائی کے ورثاء کو تسلی دی۔ بعد میں ہم نے نور محمد سومرو سے ملاقات کی۔ اس عظیم انسان نے اس کیس کو منظر عام پر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان سے تفصیلات لینے کے بعد کوٹ سمابہ کے ایس ایچ او اور ڈی ایس پی سے کیس سے متعلق بات چیت کی۔ ہم ملزمان پارٹی کی طرف بھی گئے۔ وہاں بھی کافی تعداد میں لوگ اکٹھے تھے۔ ان سے میری دوست نسیم نے بات کی تو وہ لوگ اپنی بےگناہی کا رونا رو رہے تھے۔ ہم نے انہیں بھی یقین دلایا کہ ہمارا مقصد حقیقی مجرموں کو بےنقاب کرنا ہے۔ رپورٹس آنے کے بعد انشااللہ فیصلہ ہوگا۔ جو گناہ گار ہوگا صرف اس کو سزا ملے گی۔ اس کے بعد ہم رحیم یار خان کے لیے روانہ ہوئے۔ وہاں کچھ صحافیوں اور این جی او کے لوگوں کی ایک ہوٹل میں بیٹھک ہوئی۔ اس کے بعد ہم نور محمد سومرو صاحب کے ساتھ ایکسپریس کے آفس گئے۔ رات کو دو بجے ہم فارغ ہوئے اور سونے چلے گئے۔
صبح دس بجے میں نے ریلی کی قیادت کرنی تھی۔ جب ہم ریلی چوک پر پہنچے تو وہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ موجود تھے۔ ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے میں نے کہا کہ جہاں ظلم ہوگا وہاں میں پہنچوں گی۔ میں نے کہا کہ ’ظلم پہ خاموش رہنا ظلم ہے۔‘ نسیم نے بھی اپنی تقریر میں معاشرتی ناہمواریوں اور ناانصافیوں پر افسوس کا اظہار کیا اور لوگوں سے کہا کہ وہ اپنے خلاف ہونے والی زیادتیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں اور آپ لوگوں کی بیداری یقیناً اندھیری رات کو ختم کرے گی۔ بعد میں ہم نے ڈی پی او رحیم یار خان اور ایس ایس پی انوسٹی گیشن سے مالاقات کی اور حقائق کی احتیاظ سے چھان بین کا مطالبہ کیا۔ جس پر انہوں نے ہمیں یقین دہانی کرائی کہ بغیر کسی سیاسی دباؤ کے وہ میرٹ پر فیصلہ کریں گے۔ شام ہوئی تو میں میروالہ کے لیے اور نسیم سکھر کے لیے روانہ ہوئی۔
حسب معمول لوگوں کا آنا جانا رہا اور اپنی تنظیم کے کاموں میں مصروف رہے۔
غلام محمد ولد نور محمد خان، یہ آدمی آیا اس نے کہا کہ مختار مائی سے کہیں کہ مجھے حج کروائے۔ تو میں نے کہا کہ میں آپ کو حج کیسے کراؤں؟ میں تو سکول اور بہت سے کام کر رہی ہوں۔ تو اس آدمی نے بد دعائیں دینی شروع کر دیں۔ میں نے پولیس والوں سے کہا کہ آپ اس آدمی کو کچھ نہ کہیں۔ جو مجھے بد دعائیں دیتا ہے دیتا رہے، تو وہ آدمی چلا گیا۔
میں لاہور کے لیے روانہ ہوئی کیوں کہ امریکن قونصلیٹ میں نئی پولٹیکل آفسر نے مجھے بلایا۔ وہ مجھ سے ملنا چاہتی تھیں۔ بہت اچھی خاتون تھیں۔ انہوں نے فلاحی کاموں کے متعلق پوچھا۔ نسیم نے خاصی تفصیلی گفتگو کی اور اسکول سے متعلق معلومات فراہم کیں۔ شام میں ہم روانہ ہوئے۔
ہم خواتین پر تشدد کے موضوع پر کانفرنس منعقد کر رہے ہیں۔ مصروف ہیں کیوں کہ مظفر گڑھ میں کر رہے ہیں۔
ہم صبح مظفر گڑھ روانہ ہوئے جہاں پر ڈی سی او مظفرگڑھ سے ’کرائسس ریلیف سینٹر‘ جس کا اب نیا نام ’وومن سینٹر‘ ہے کی میٹنگ تھی۔ وہاں سے فارغ ہونے کے بعد ’اوسیس ان ہوٹل‘ جو جھنگ روڈ مظفر گڑھ پر ہے۔ اس میں میری آرگنائزیشن کے زیراہتمام ’خواتین پر تشدد اور معاشرے کا کردار‘ پر کانفرنس منعقد کی گئی جس میں ڈسٹرکٹ ناظم، سٹی ناظم ، کونسلرز جن میں مرد، خواتین، میڈیا، این جی او اور عام شہریوں کی اچھی خاصی تعداد نے شرکت کی۔ اس کانفرنس کا مقصد لوگوں میں بیداری اور خواتین کے حقوق سے متعلق شعور بیدار کرنا تھا۔ تمام لوگوں کو بولنے کا موقع دیا گیا۔ وہ موضوع پر اظہار خیال اور اپنی تجاویز بھی دے رہے تھے۔ سٹی ناظم نے اپنے اظہار خیال میں کہا کہ استاد اپنی شاگردوں سے پسند کی شادی کر لیتے ہیں، یہ اچھا تاثر نہیں ہے۔ یہ معاشرتی اخلاقیات کے خلاف ہے۔ اس پر ایس پی او سے فروزہ زہرہ اور ہیومن رائٹس سے راشد رحمان صاحب بولے کہ پسند کی شادی عورت کا بنیادی حق ہے اور اسلام جن رشتوں سے شادی کی اجازت نہیں دیتا ہے وہ آپ سب کو معلوم ہے۔ اس پر ضلع ناظم نے کہا کہ ہم اس کو نہیں مانتے اور کانفرنس سے بائیکاٹ کر کے چلے گئے۔ چند اور لوگ بھی ان کے ساتھ چلے گئے۔ مگر ہماری کانفرنس انتہائی کامیابی سے جاری رہی اور پایہ تکمیل تک پہنچی۔ بہرحال نسیم اختر نے کہا کہ ہمارے ضلع ناظم صاحب بھی دراصل بنیادی طور پر جاگیر دار ہیں اس لیے حقائق کو تسلیم کرنا ان کی فطرت میں نہیں ہے۔ جو بھی بات ہوئی اس پر ناظم صاحب ہمیں اپنی دلائل سے قائل کرتے یا پھر قائل ہوتے۔ بائیکاٹ کرنے سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ سچائیوں کا سامنا کرنے کو تیار نہیں اور یہ ہرگز جمہوری رویہ کے منافی ہے۔ میں نے کہا وہ ضلع کے ناظم ہیں۔ کوئی بات تھی بھی تو ہماری سنتے اور اپنی بات سمجھاتے اور قائل کرتے۔ مجھے بہت افسوس ہوا کہ انہوں نے انتہائی چھوٹے پن کا مظاہرہ کیا۔ کانفرنس کے بعد زرینہ مائی، ایک اور زیادتی کیس جو تھانہ صدر مظفر گڑھ سے تھا، کے متعلق ڈی پی او مظفر گڑھ رائے طاہر صاحب سے ملاقات کی جنہوں نے فوری احکامات صادر فرمائے جس کے بعد ہم گھر کے لیے روانہ ہو پڑے۔ یہ ڈائری قلم بند کرنے میں مختار مائی کی ساتھی نسیم اختر نے ان کی مدد کی ہے۔
امین آفریدی، دبئی: مختار مائی میں بے قصور لوگوں کے لئے آپکی جدو جہد کا مداح ہوں۔ کیا آپ مجھے ای میل پر اپنے ساتہ زیادتی کی تفصیل بتا سکتی ہیں۔ شکریہ۔ میں آپکی کامیابی کے لیئے دعاگو ہوں۔ شانی علی، مانسہرہ، پاکستان: ایاز مزاری، رحیم یار خان، پاکستان: ناصر خان وزیرستانی، شمالی وزیرستان: |
اسی بارے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||