’برابر والی سیٹ پر افغانستان‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’جلال آباد کابل روڈ اس وقت دنیا کی دوسری خطرناک ترین سڑک ہے۔‘ لندن سے چلتے چلتے مجھے بی بی سی کے سیکیورٹی ایڈوائزر نے ایک بار پھر خبردار کیا تاکہ میں بذریعہ سڑک طورخم سے کابل جانے کا ارادہ چھوڑ دوں۔ خیر ابھی تو میں لندن سے دبئی پہنچی تھی اور اسلام آباد جانے کے لئے جہاز میں سوار ہو رہی تھی۔ سوچا افغانستان تو ابھی بہت دور ہے۔ لیکن نہیں، وہ تو بہت نذدیک تھا، بلکل برابر والی سیٹ پر۔ نیلی جینز، سفید ٹی شرٹ اور کرو کٹ ہیئر سٹائل میں گوری رنگت والا وہ نوجوان کوئی بھی ہو سکتا تھا، اطالوی، ہسپانوی یا ایرانی مگر وہ افغان نکلا۔ سات سال پہلے مزار شریف سے مانچسٹر چلا گیا تھا۔ اب پشاور جا رہا تھا تاکہ افغانستان میں رہ جانے والے اپنے دو رشتہ داروں کو برطانیہ لے جانے کے لئے درخواست تیار کر سکے۔ کہنے لگا ’دو مہینے کی چھٹی لے کر آیا ہوں۔ پشاور میں کام ختم کر کے کابل چلا جاؤں گا۔‘ میں نے پوچھا کیسے جاؤ گے؟ کہنے لگا بذریعہ سڑک۔ ’لیکن کابل جلال آباد روڈ تو اس و قت دنیا کی دوسری خطرناک ترین روڈ ہے، بغداد ائرپورٹ روڈ کے بعد‘، میں نے اپنے دل میں بھٹایا جانے والا خوف اس کے اندر منتقل کرنے کی کوشش کی لیکن اسے کوئی فرق نہیں پڑا۔ اسے کابل جلال آباد روڈ سے زیادہ ڈر پشاور پولیس سے لگ رہا تھا۔ کہنے لگا ’چار سال پہلے جب پشاور گیا تھا تو پولیسں والوں نے بہت تنگ کیا۔ پاسپورٹ لے لیا، جب واپس مانگنا چاہا تو انہوں نے پیسوں کا مطالبہ کر دیا، میں نے سو روپے والا لال نوٹ آگے کیا تو انہوں نے جیب سے سو ڈالر نکال لئے۔ مانچسٹر میں ہندوستانی فلموں اور پاکستانی دوستوں سے اردو تو سیکھ لی ہے لیکن پشتو نہیں آتی اور پشاور پولیسں والے کہتے ہیں کہ اگر تم پشتو نہیں بول سکتے تو افغان نہیں ہو سکتے۔ اب ان کو کوئی کیسے سمجھائے کہ افغانستان میں تاجک، ازبک اور ہزارہ بھی رہتے ہیں جن کا پشتو سے کوئی لینا دینا نہیں۔‘ سچ ہی تو کہہ رہا تھا۔ میں نے بھی تو پاکستان میں رہتے ہوئے بھی کسی افغان کو کب جانا تھا؟ میں نے بھی اسے ہمیشہ مغربی ملکوں کے ٹی وی کیمرہ مینوں کی آنکھ سے ہی دیکھا۔ جس میں وہ ہمیشہ داڑھی رکھے، ڈھیلے دھالے کپڑے پہنے اور اسلحہ اٹھائے نظر آیا جس کے ماتھے پر لکھا ہوتا تھا ’ٹوپک زما قانون دے۔‘ (بندوق میرا قانون ہے) میں نے پوچھا کیا افغانستان طالبان کی وجہ سے چھوڑا؟ کہنے لگا نہیں۔ میں نے پوچھا تو کیا جنگ کی وجہ سے؟ کہنے لگا نہیں، پیار کی وجہ سے۔ ’اپنی خالہ زاد بہن سے بہت پیار کرتا تھا لیکن خاندانی لڑائی کی وجہ سے ماں نے وہاں شادی نہیں ہونے دی اور زبردستی شادی کسی اور سے کرا دی۔ بہت اچھی لڑکی ہے لیکن مجھے اس سے پیار نہیں۔ دو سال رہا، دو بیٹے پیدا ہوئے لیکن مزید اس کو برداشت نہیں کر سکا اور مانچسٹر چلا گیا۔ اب وہاں ایک اور لڑکی اچھی لگنے لگی ہے اور اس کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔‘ میں نے کہا کہ بیوی کا کیا ہو گا، کہنے لگا کیا ہو سکتا ہے؟ چکن یا لیمب میڈم؟ ایر ہوسٹس کھانے کی ٹرے لے کر آ گئی۔ کہنے لگا ’دیکھو اب اگر تمہیں یہ کھانا پسند نہ ہو تو کیا تم اسے کھاؤ گی؟ اسی طرح اگر کوئی انسان پسند نہ ہو تو اس کے ساتھ بھی نہیں رہا جا سکتا۔‘ یکایک مجھے اس نیلی جینز اور سفید ٹی شرٹ والے افغان پر غصہ آنے لگا۔ یہ بھی داڑھی اور بندوق والے افغان سے مختلف نہیں تھا۔ اسے بھی عورت کے جذبات کا کوئی خیال نہیں تھا۔ لیکن پھر سوچا اس سے بھی تو اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا حق چھین لیا گیا۔ ظلم تو اس کے ساتھ بھی ہوا۔ کہنے لگا ’بچے بہت یاد آتے ہیں۔ کیا کروں انہیں ساتھ کیسے لے کے جاؤں؟ ماں باپ کو دوسری لڑکی کا کیسے بتاؤں؟ کچھ سمجھ میں نہیں آتا حل کیا ہے۔‘ اس کی زندگی بھی افغانستان کی طرح الجھی ہوئی تھی۔ ماں، پیار، خاندان، عزت، پچے، بیوی، لڑکی، محبت، مانچسٹر، مزار شریف۔ جیسے امریکہ، اسلحہ، طالبان، اسلام، پوست، پاکستان، قبیلے، جنگ۔۔۔۔۔ اُف کیا مصیبت ہے۔ میں افغانستان کیوں جا رہی ہوں؟ جہاز اسلام آباد میں اترنے والا تھا۔ اس نے ہنس کر کہا اب میری کہانی بی بی سی پر نہ چلا دینا۔ وہ بھی کتنا معصوم تھا۔ اسے پتا نہیں کہ افغانستان تو ہرصحافی کے لئے ایسا ہی ہے جیسے فرنیچر بنانے والے کے لئِے درخت۔ مثال کے طور پر اگر گیارہ ستمبر کے بعد امریکہ افغانستان پر حملہ نہ کرتا تو مجھے اسلام آباد میں رہتے ہوئے سو ڈالر یومیہ کی نوکری کیسے ملتی؟ اور اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر نہ ہی میں پڑھنے کے لئے امریکہ جاتی اور نہ ہی واپسی پر لندن رکتی اور نہ ہی بی بی سی میں نوکری ملتی۔ ہماری کامیابی ان ہی کہانیوں کے ساتھ تو جڑی ہوئی ہے۔ اب یاد آیا میں افغانستان کیوں جا رہی ہوں۔۔۔ |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||