الیکشن کی رات سیاستدانوں کے لئے کتنی لمبی اور بے چین رات ہوتی ہے، یہ کوئی ان امیدواروں سے پوچھے جن کا سیاسی مستقبل داؤ پہ لگا ہوتا ہے۔ تو پھر جارج بش کیوں بے چین سے نظر نہیں آ رہے ہیں؟ شاید اس لئے کہ سات نومبر کے الیکشن میں ان کا دورِ حکمرانی داؤ پر نہیں لگا ہوا۔ اگر کسی کی نوکری کھٹائی میں پڑی ہوئی ہے تو ان کی پارٹی کے لوگوں کی جو دل ہی دل میں انہیں کوس بھی رہے ہیں کہ ’کرے کوئی بھرے کوئی‘۔ اگر اس بار ریپبلیکن مشینری الیکشن میں ناکامی سے دو چار ہوتی ہے تو میں اس کا بڑا کریڈٹ امریکی میڈیا کو دوں گا۔ ریپبلیکلن پارٹی کے حامی ’فوکس نیوز‘ کو چھوڑ کر باقی تمام بڑے بڑے نشریاتی اداروں اور اخبارات نے جس طرح پچھلے کئی مہینوں میں عراق کے مسئلے پر بش اور ان کے ساتھیوں کی کلاس لی ہے اس نے بہت پہلے انتخابی دوڑ میں ریپبلیکن پارٹی والوں کو بیک فٹ پر ڈال دیا۔ بش مخالف میڈیا بڑھ چڑھ کر کہتا رہا ہے کہ اس بار عراق کے معاملے پر عوامی غصے کا ریلہ جارج بش کی ریپبلیکن پارٹی کو بہا لے جا سکتا ہے۔ جارج بش کا اپنے لوگوں کو یہی مشورہ ہے کہ افواہوں پہ کان نہ دھریں، ووٹ دینے نکلیں! وہ کہتے ہیں کہ امریکی میڈیا پر مسلسل دانشوری کرنے والے مبصرین غلط ہیں۔ عوامی جائزے غلط ہیں۔ جارج بش کو پورا یقین ہے کہ ریپبلیکن پارٹی کی زبردست انتخابی مشینری سات نومبر کے دن دیہاتوں میں رہنے والےاپنے قدامت پسند ووٹروں کوپولنگ اسٹیشنوں تک لانے میں ایک بار پھر کامیاب رہے گی۔ ویسے ان کے اس دعوے میں بڑا دم ہے: پچھلے چھ برسوں میں ریپبلیکن پارٹی نے ایسا بار بار کر کے دکھایا ہے۔ سن دو ہزارکے صدارتی انتخاب میں، دو ہزار دو کے کانگریس کے الیکشن میں اور پھر دو ہزار چار کے صدارتی انتخاب میں۔ اس بار امریکہ کی دلچسپ سیاست کا اونٹھ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟ آٹھ نومبر کی صبح کو آنے والے نتائج کا انتظار کیجیئے۔ |