’ڈرنا منع ہے‘ شاہ زیب بلاگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میرے سامنے بکھرے ہوئے بالوں کے اوپر سر پر لمبی کالی ٹوپی پہنے ایک چڑیل بیٹھی ہے۔ اس کی جھریوں والے ہاتھوں کے ناخن لمبے لمبے سے ہیں۔ چہرہ سرخ اور دانت نوکیلے نظر آ رہے ہیں۔ میں اسے دیکھتے ہوئے اپنی بے اختیار مسکراہٹ نہیں روک پا رہا۔ بلآخر چڑیل بھی مسکرا پڑتی ہے اور کہتی ہے: ’ہیپی ہیلوئین!‘ دنیا کو ڈرانے دھمکانے والے اس امریکہ کے لوگ آج ایک دوسرے کو خوفزدہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اکتیس اکتوبر کو رات گئے تک امریکہ میں بچے ہوں یا نوجوان لڑکے لڑکیاں دلچسپ و عجیب روپ دھارکر گلیوں میں نکل آتے ہیں۔ میں ’راک اینڈ رول‘ موسیقی کے بےتاج بادشاہ ایلوس پریسلی کے شہر ٹینیسی پہنچا ہوں۔ میرے ہوٹل کے قریب ہی یہاں موسیقاروں کی مشہور ’بییل اسٹریٹ‘ پر ہیلوئین پارٹی جاری ہے۔ کوئی ڈریکولا بنا ہوا ہے تو کسی نے سپر مین کا لباس پہنا ہوا ہے۔ کسی نے شیطان کا روپ دھارا ہوا ہے تو کوئی یسوع مسیح بنا پھر رہا ہے۔ یہاں مجھے جارج بش بھی نظر آیا۔ نہیں نظر آیا تو بس اسامہ بن لادن!
سید سجاد حسنین، حیدرآباد، انڈیا اسد، پاکستان ابراہیم، کوئٹہ شاہدہ اکرم، ابو ظہبی |
اسی بارے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||