افغانستان ڈائری: ’پتہ نہیں ترقی کسے کہتے ہیں؟‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کابل میں طالبان کی حکومت ختم ہوئے پورے پانچ سال ہو چکے ہیں۔ پانچ سال بعد ٹھیک اسی دن یعنی تیرہ نومبر کو میں پاکستان سے ڈپورٹ کیے گئے بیس افغانیوں کے ساتھ جب کابل ایئرپورٹ پر اتری تو کرزئی اور احمد شاہ مسعود کی تصویروں کے علاوہ موبائل فون کمپنی کے ایک بڑے سے بورڈ نے خوش آمدید کہا۔ ایئرپورٹ پر کنویئر بیلٹ نہیں چل رہی تھی۔ بڑی دھکم پیل کے بعد سامان حاصل کیا۔ ائیرپورٹ سے نکل کر اندرا گاندھی چلڈرن ہسپتال کے پاس سے ہوتے ہوئے میں سیدھی بی بی مہرو پہاڑی پر پہنچی۔ یہاں سے آدھا شہر، آدھا گاؤں، یعنی پورا کابل نظر آ رہا تھا۔ طالبان کی حکومت کے بعد کیا کیا بدلا، بی بی سی کی ٹی وی ٹیم اسی بارے میں وہاں سے لائیو پروگرام کر رہی تھی۔ لیکن سردی زیادہ تھی اس لیے میں کابل نہیں رکی اور ہوٹل آگئی۔
سنگ مر مر کے چمکتے ہوئے فرش اور شیشے کی دیواروں والے آٹھ منزلہ ہوٹل کے رسپشن پر بیٹھے حیدرآباد دکن کے محمد نے مجھے کمرے کی چابی تھماتے ہوئے کہا ’میڈم ہیلتھ اینڈ فٹنس کلب کا فری استعمال بھی آپ کر سکتی ہیں، لیڈیز ٹائم بارہ سے تین بجے‘۔ اوپر آٹھویں منزل پر ایک سمینار ہو رہا تھا۔ موضوع تھا افغانستان میں عورتوں کا خود کو آگ لگا کر ہلاک کرنے کے واقعات میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے۔ پتہ نہیں ترقی کسے کہتے ہیں؟ پاکستان کی طرح یہاں بھی موبائل فون نیٹ ورک اور ٹی وی چینلوں کی بھرمار ہے۔ سٹار موویز پر کوئی فلم چل رہی تھی۔ کچھ امریکی نوجوان یورپ کے کسی نیوڈ بیچ پر سیر کر رہے تھے۔ ہوٹل سے باہر نکلو ایک گندی نالی ٹاپو تو پھر کابل آ جاتا ہے۔ دھول سے آتی ہوئی کچھ کچی کچھ پکی سڑکیں، ایک ہی شہر میں کچھ کچے اور کچھ پکے مکان، ہر عمارت کے آگے بندوق اٹھائے پہرے دار اور شہر کے بیچوں بیچ یو ایس ایڈ کا بورڈ جس پر لکھا تھا قطرہ قطرہ دریا مے شواد ( قطرہ قطرہ مل کر دریا بنتا ہے) سمجھ میں نہیں آتا کہ افغانستان کے لیے ہمیشہ قطرہ قطرہ ہی کیوں؟
آپ کا تبصرہ برکت چنگیزی، کابل، افغانستان: میرا خیال ہے افغانستان جلد ہی ترقی کر جائے گا، دعا کریں۔ کامران کامی، اسلام آباد، پاکستان: حیدر اورکزئی، پشاور، پاکستان: اسداللہ خان، کابل، افغانستان: انڈیا سے ملنے والی امداد پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے کیونکہ انڈیا اپنے کونسل خانے پاکستان کے ساتھ سرحد کے قریب کھول رہا ہے۔ کابل شہر میں سڑکوں، صفائی اور پانی کی سہولیات کا بہت برا حال ہے۔ یہی حال ملازمتوں کا ہے، میٹرک پاس افراد بڑے عہدوں پر ہیں کیونکہ ان کے تعلقات وزیروں اور قبائلی سرداروں سے ہیں۔ فہیم، ایماڈورا، پرتگال: تنویر احمد، سری نگر، انڈیا: کابر خان احمدزئی، کابل: لیاقت علی، برمنگھم، برطانیہ: |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||