BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 April, 2004, 13:38 GMT 18:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امریکہ سے احتجاج کریں گے‘

News image
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے افغانستان میں امریکی سفیر زلمے خلیل زاد کی جانب سے القاعدہ اور طالبان کی مدد کے متعلق لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے شدید رد عمل ظاہر کیا ہے۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان نے پیر کو زلمے خلیل زاد کے بیان پر سرکاری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کڑی تنقید کی اور کہا کہ پاکستان ان کے بیانات کے متعلق امریکہ سے احتجاج کرے گا۔

زلمے خلیل زاد نے پاکستان پر القاعدہ اور طالبان کی مدد کرنے کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ شدت پسند رہنما حکمت یار کے حامی افغانستان میں حملے کرکے پاکستان چلے جاتے ہیں۔

مسعود خان نے زلمے کے بیان پر کہا کہ وہ ایسے الزامات ثابت نہیں کر سکتے اگر ان کے پاس ایسی معلومات ہے تو وہ امریکہ کی پاکستان میں نہایت ذمہ دار سفیر نینسی پاؤل یا امریکہ کے ذریعے یا پاکستانی حکومت کو براہ راست حفیہ طور پر پیش کریں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا خلیل زاد کا بیان امریکی مؤقف ظاہر نہیں کرتا توترجمان نے کہا کہ بلکل نہیں، امریکہ سے پاکستان کے بہت بہتر تعلقات ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ پاکستان القاعدہ کے خلاف بھر پور کارروائی کر رہا ہے۔

ترجمان کے مطابق ان کے بیانات پاکستان کے لئے پیغام نہیں کیوں کے اگر امریکہ نے کوئی پیغام دینا ہوگا تو وہ واشنگٹن میں قائم پاکستانی یا پاکستان میں امریکی سفیر کے ذریعے دےگا۔

مسعود خان نے زلمے خلیل زاد پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی یاداشت کمزور ہے اور سفارتی ملازمت میں نئے ہیں اس لئے انہیں سمجھ بھی نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ زلمے خلیل زاد ایسے بیانات دے کر سفارتی آداب کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور ایسے احمقانہ بیانات بند ہونے چاہیے کیوں کہ ان کے بقول ایسے بیانات سے وہ دونوں ممالک کے تعلقات خراب کر رہے ہیں۔

ان کا کہناتھا کہ القاعدہ اور طالبان ڈیورنڈ لائن کی دونوں جانب سرگرم ہیں یہ سب کو معلوم ہے یہ پاکستان ، امریکہ اور افغان حکومت کا مشرکہ مسئلہ ہے اور ہم اس کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

عراق فوج بھیجنے کے سوال پر ترجمان نے کہا کہ یہ معاملہ زیر غور ہے اور پاکستان نے اگر فوج بھیجی تو اقوام متحدہ کی کمانڈ میں بھیجے گا امریکی کمانڈ میں نہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں فیصلہ عوام کی خواہشات کو مد نظر رکھ کر کیا جائے گا۔

ترجمان نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ وزیر اعظم میر ظفراللہ جمالی بدھ اکیس اپریل سے چین، لائوس، کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے دورے پر روانہ ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کے دوروں سے متعلقہ ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بہتر ہوں گے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد