BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 26 December, 2006, 16:20 GMT 21:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بارودی سرنگیں بچھانے کی مخالفت

 ریاض کھوکھر
باڑ یا بارودی سرنگ بچھانے سے پہلے سرحد پر لوگوں کی آمد و رفت کے لیے مراکز قائم کرنے ہوں گے اور انہیں اس بارے میں معلومات دینی ہوگی
افغانستان کی حکومت نے پاکستان کی طرف سے دونوں ممالک کی سرحد پر اپنے علاقے میں باڑ لگانے اور بارودی سرنگیں بچھانے کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے سرحد پر رہنے والی قبائل اور خاندان تقسیم ہو جائیں گے۔

پاکستان کے خارجہ سیکریٹری ریاض محمد خان نے کہا تھا کہ حکومت نے افغانستان سے شدت پسندوں کی آمد و رفت کو روکنے کے لیے سرحد کے مخصوص مقامات پر کہیں باڑ اور کہیں بارودی سرنگ بچھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بات انہوں نے منگل کو دفتر خارجہ میں رواں سال کی آخری ہفتہ وار بریفنگ میں کی۔ یہ بریفنگ ترجمان کے بجائے خارجہ سیکریٹری نےخود دی۔ انہوں نے بتایا کہ باڑ اور بارودی سرنگ بچھانے کے لیے پاک فوج سے کہا گیا ہے کہ وہ طریقہ کار وضح کریں کہ کہاں باڑ لگانی ہے اور کہاں بارودی سرنگ بچھانی ہے۔

ریاض محمد خان نے کہا کہ اس بارے میں افغانستان کی حکومت سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی ہے اور نہ اس کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان اپنے علاقے میں یہ کر سکتا ہے۔

افغانستان میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار ایمل خان نے افغانستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ کابل نے پاکستان کے فیصلہ کو رد کرتے ہوئے دلیل دی کہ لوگوں کو تقسیم کرنے کے علاوہ یہ فیصلہ اوٹاوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے جس پر افغانستان نے دستخط کیے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ اس فیصلے کے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے جرگے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

 ریاض محمد خان نے کہا کہ اس بارے میں افغانستان کی حکومت سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی ہے اور نہ اس کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان اپنے علاقے میں یہ کر سکتا ہے

نامہ نگار نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے یکطرفہ کارروائی کی صورت میں ’عملی طور پر دیکھا جائے تو کابل کچھ نہیں کر سکتا لیکن یہ ضرور ہے کہ کابل اپنے مغربی حلیفوں کے ذریعے اسلام آباد پر دباؤ ڈلوا سکتا ہے‘۔

پاکستان کے خارجہ سیکرٹری نے کہا تھا کہ پاک افغان سرحد پر فرنٹیئر کور کی مزید نفری تعینات کی جا رہی ہے اور چیک پوسٹوں کی تعداد میں بھی اضافہ کر رہا ہے۔ ان کے مطابق فی الوقت سات سو سے زائد چیک پوسٹ قائم ہیں۔

ان سوالات پر کہ پاک افغان سرحد پر باڑ اور بارودی سرنگیں بچھانے پر کتنا خرچہ ہوگا، کتنے کلومیٹر تک ہوگی، سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ اس بارے میں طریقۂ کار پاکستان فوج وضح کر رہی ہے۔

خارجہ سیکریٹری نے کہا کہ باڑ اور بارودی سرنگ بچھانے کا کام کب مکمل ہوگا وہ اس بارے میں کچھ نہیں بتا سکتے کیونکہ اس کے لیے خاصی رقم درکار ہوگی ۔ ان کے مطابق تاحال اس بارے میں انہوں نے عالمی برادری سے امداد حاصل کرنے کا نہیں سوچا لیکن اگر ضروری ہوا تو وہ ایسا بھی کریں گے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ مخصوص مقامات پر جہاں جہاں ضروری ہے وہاں بارودی سرنگ بچھانے کا کام بڑی خبرداری کے ساتھ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ باڑ یا بارودی سرنگ بچھانے سے پہلے سرحد پر لوگوں کی آمد و رفت کے لیے مراکز قائم کرنے ہوں گے اور انہیں اس بارے میں معلومات دینی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ باڑ لگانے میں دیر ہوگی اور یہ مشکل بھی ہے کیونکہ اس کی دیکھ بھال بھی کرنی ہے جبکہ اس کی نسبت بارودی سرنگ بچھانا کافی آسان ہے اور جلدی میں بھی ہوسکتا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان حکومت کا یہ فیصلہ بارودی سرنگوں کے متعلق عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے کنوینشن کے منافی نہیں ہے تو ریاض محمد خان نے کہا کہ پاکستان نے اس کنوینشن پر دستخط نہیں کیے ہیں۔

یکطرفہ کارروائی
 پاکستان کی طرف سے یکطرفہ کارروائی کی صورت میں عملی طور پر دیکھا جائے تو کابل کچھ نہیں کر سکتا لیکن یہ ضرور ہے کہ کابل اپنے مغربی حلیفوں کے ذریعے اسلام آباد پر دباؤ ڈلوا سکتا ہے
نامہ نگار ایمل خان
تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ پاکستان کو معاملے کی حساسیت کا اندازہ ہے لیکن وہ اس طرح کے غیر معمولی اقدامات غیر معمولی حالات کے تحت کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کی چوبیس سو کلومیٹر پیچیدہ سرحد کے متعلق افغانستان حکومت کہتی رہی ہے کہ یہ عارضی سرحد ہے جسے ’ڈیورنڈ لائن‘ کہا جاتا ہے جبکہ پاکستان کہتا ہے کہ یہ عالمی سرحد ہے جو ایک صدی تک دونوں ممالک تسلیم کرتے رہے ہیں۔

پاکستان نے اس بارے میں افغان حکومت کو سرحد پار شدت پسندی کو روکنے کے لیے باضابطہ طور پر باڑ لگانے اور بارودی سرنگ بچھانے کی تجاویز دی تھیں لیکن افغانستان نے وہ مسترد کردی تھیں۔

ایک سوال پر ترجمان نے کہا کہ افغانستان میں امن قائم کرنا اور شدت پسندی کو روکنا صرف پاکستان کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ ان کے بقول امریکہ کی اتحادی افواج، نیٹو اور افغانستان حکومت سمیت سب کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس موقع پر افغانستان میں پائیدار امن کے قیام اور تعمیر نو کے لیے پاکستانی حکومت کے اقدامات کی بھی تفصیل بتائی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری اور بالخصوص اقوام متحدہ سے درخواست کرتا ہے کہ افغانستان کی سرحد پر واقع افغان پناہ گزینوں کے بعض کیمپوں کو جو باعث تنازعہ بھی بنتے ہیں مختلف مقامات پر منتقل کیا جائے اور جتنا جلد ممکن ہوسکے افغان پناہ گزینوں کو واپس وطن بھجوانے کا انتظام کیا جائے۔

افغانستان میں امن کے لیے ’مارشل پلان‘ بنانے کے بارے میں صدر جنرل پرویز مشرف کے حالیہ بیان کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ ہماری سوچ ہے اور کوئی باضابطہ تجویز نہیں ہے اور نہ ہی پاکستان خود سے عالمی برادری سے رابطہ کرکے کہے گا کہ مارشل پلان بنائیں۔ تاہم ان کے مطابق اگر عالمی برادری کو درپیش چیلینج سے نمٹنے کے لیے ایسا لگے تو اس پر غور کیا جائے۔

اسی بارے میں
افغان پاک تو تو میں میں
16 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد