پاکستان سانپ پال رہا ہے: کرزئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ پاکستان ایک ایسے سانپ کی پرورش کر رہا ہے جو اسے بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ خارجہ تعلقات پر امریکی کونسل سے خطاب کے دوارن انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی طالبان کی پشت پناہی سے ہی افغانستان میں عدم استحکام کی کیفیت پیدا ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں سے تعلق ایسا ہی ہے کہ جیسے کسی سانپ کو کسی دوسرے شخص کو کاٹنے کے لیئے تیار کرنا۔’ آپ کسی سانپ کی تربیت نہیں کر سکتے کیونکہ وہ پاس آ نے پر آپ ہی کو کاٹ لے گا‘۔ پاکستان میں حزب مخالف جماعتوں کی طرف سے صدر پرویز مشرف کو مذہبی جماعتوں کو بڑھاوا دینے کے الزام کا حوالے دیتے ہوئے صدر حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ خطے میں کچھ افراد سیاسی طاقت کے لیئے دہشت گردوں کو استعمال کر رہے ہیں۔ صدر حامد کرزئی اور پرویز مشرف دونوں نے اس ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران ایک دوسرے پر چھبتے ہوئے فقرے کسے اور ایک دوسرے کی دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق کی جانے والی کوششوں پر تنقید کی۔ صدر کرزئی کی حکومت کو ان دنوں افغانستان میں طالبان کی جانب سے جاری مزاحمت کا سامنا ہے جو ان کی حکومت کو ختم کرکے اقتدار پر قبضے کی کوشش میں ہیں۔ صدر کرزئی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں طالبان نے اساتذہ اور بچوں کو ہلاک کرنے کے علاوہ سکول اور کلینک تباہ کردیے۔ | اسی بارے میں ہلاکتوں پر حامد کرزئی کی تنقید22 June, 2006 | آس پاس افغانستان: خودکش حملے، 18 ہلاک18 September, 2006 | آس پاس حامد کرزئی: فوجی کارروائی ناکافی ہے 20 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||