سفارتکاروں کی نقل وحمل،تجویزمسترد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دفترِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے بتایا ہے کہ سفارتکاروں کی نقل و حمل کو آسان بنانے کے سلسلے میں پاکستانی تجاویز بھارت نے مسترد کردی ہیں تاہم سیاحوں کو ویزا کے اجراء کا طریقہ کار آسان بنانے کے بارے میں پیشرفت ہو رہی ہے۔ پیر کو ہفتہ وار بریفنگ میں انہوں نے مختلف سوالات کے جواب میں کہا کہ بھارت نے مسئلہ کشمیر کے حل کے بارے میں تجاویز پیش کی ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا بھارت نے اپنے روایتی مؤقف سے ہٹ کر کوئی تجویز پیش کی ہے تو ترجمان نے کہا کہ وہ اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتیں۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیئے جہاں دونوں ممالک کی قیادت، وزرائے خارجہ اور سیکرٹری خارجہ کی سطح پر بات چیت ہورہی ہے وہاں در پردہ سفارتکاری بھی جاری ہے اور جامع مذاکرات کے تحت قائم ایک گروپ کی سطح پر بھی بات ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے بارے میں مختلف تجاویز بھارت کے ساتھ مختلف سطحوں پر زیر بحث رہی ہیں لیکن پیشرفت کے متعلق فی الوقت نہیں بتایا جا سکتا۔ ترجمان نے بتایا کہ آئندہ ماہ بھارتی وزیرِ خارجہ پاکستان آ رہے ہیں اور اس دوران وہ پاکستان کو اپریل میں ہونے والے سارک اجلاس کا دعوت نامہ دیں گے۔ان کے مطابق بھارتی وزیرِ خارجہ اپنے پاکستانی ہم منصب کے ساتھ جامع مذاکرات کے دوسرے دور کی بات چیت کا جائزہ لیں گے اور تیسرے دور کے آغاز کے متعلق بھی بات کریں گے۔
تسنیم اسلم نے بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان کے وزیرِ خارجہ خورشید محمود قصوری بیس دسمبر کو دو روزہ دورے پر ایران جا رہے ہیں اور وہ ایرانی ہم منصب کے ساتھ گیس پائپ لائن سمیت مختلف منصوبوں، عالمی اور علاقائی معاملات پر بات چیت کریں گے۔ افغانستان میں شدت پسندی کے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ افغانستان کا اپنا مسئلہ ہے اور انہیں خود حل کرنا ہوگا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی حالیہ رپورٹ کا ذکر کیا اور کہا کہ افغانستان میں بدعنوانی اور منشیات کی وجہ سے کئی مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں شدت پسندی کے مراکز کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جوکہ افغانستان کے پانچ صوبوں میں قائم ہیں۔ ترجمان کی توجہ جب امریکی وزیر خارجہ کے اس بیان کی طرف مبذول کروائی گئی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امن معاہدے سے شدت پسندی میں کمی نہیں ہوئی تو ترجمان نے کہا کہ اس بارے میں امریکہ کا جو سرکاری موقف ہے اس کے مطابق وہ کہتے ہیں کہ فی الوقت کچھ کہنا مناسب نہیں۔ افغانستان اور پاکستان کے قبائلی عمائدین کا جرگہ بلانے کے بارے میں انہوں نے کہا افغانستان کی تجاویز مل گئی ہیں پاکستان ان پر غور کر رہا ہے۔ انہوں نے اس کی تفصیل نہیں بتائی اور شکوہ کیا کہ افغانستان سے اس بارے میں تفصیلات میڈیا میں آئی ہیں۔ | اسی بارے میں سفارتی عملہ کی نقل و حرکت محدود16 December, 2006 | پاکستان ’کشمیر نقشے میں بھی متنازع ہے‘18 December, 2006 | پاکستان ’کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ نہیں‘11 December, 2006 | پاکستان ’یو ٹرن لینے سے فرق نہیں پڑتا‘11 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||