’کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیر کو اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران دفترِ خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا: ’ہم نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے۔‘ انہوں نےکہا کہ اگر کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت ملتا بھی ہے اور کشمیری پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس صورت میں ان کے ساتھ مستقبل کے تعلقات کے بارے میں نئے سرے سے تعین ہوگا۔ ترجمان نے کہا کہ جو کچھ وہ کہہ رہی ہیں یہ سب کچھ آئین میں لکھا ہے اور جتنے بھی پاکستان کے آئین بنے ان سب میں یہ واضح طور پر لکھا ہوا ہے۔ ان پر جب سوالات کی بوچھاڑ ہوئی اور صحافیوں نے پوچھا کہ کیا پاکستان کے کشمیر کے متعلق موقف میں یہ بڑی تبدیلی قائد اعظم کے موقف کے برعکس بات نہیں ہے تو تسنیم اسلم نے اس تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ وہ جو کچھ کہہ رہی ہیں وہ آئین میں درج ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پچاس برس تک جو پاکستان کا لب ولہجہ رہا آج ان کی بات اس کے برعکس نہیں ہے تو انہوں نے اس کا بھی انکار کیا اور کہا کہ کشمیر کے متعلق وضاحت کے ساتھ آئین میں پاکستان کا موقف درج ہے۔
صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے بھارت کی جانب سے لچک دکھانے کی صورت میں کشمیر پر اپنے موقف سے دستبردار ہونے کے بیان کے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ صدر کی بات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ صدر نے کہا تھا کہ اگر بھارت پاکستان کی تجاویز پر مثبت جواب دے اور لچک دکھائے اور مسئلہ کشمیر حل ہو تو ظاہر ہے کہ اس صورت میں ایک نئی صورتحال ہوگی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ جب سے صدر جنرل پرویز مشرف نے کشمیر پر مختلف باتیں کرنا شروع کی ہیں تو دفتر خارجہ کے موقف میں بھی تبدیلی آگئی ہے تو اس پر ترجمان نے سختی سے وضاحت کی کہ انہوں نے موقف تبدیل نہیں کیا اور وہ ہی بات کر رہی ہیں جو ماضی میں کہی جاتی رہی ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کے دورۂ افغانستان کے دوران مشترکہ جرگہ منعقد کرنے کے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ افغانستان کی حکومت نے پیر کو کابل میں پاکستانی سفارتخانے کو اپنی تجاویز دی ہیں جس پر غور کے بعد بات آگے بڑھے گی۔ تاہم انہوں نے اُن خبروں کو بے بنیاد قرار دیا جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کو اپنے ممالک کے بعض گروہوں کے نمائندوں کو جرگے میں مدعو کرنے پر اختلافات ہیں۔ افغانستان کے صدر حامد کرزئی کی جانب سے اپنے شہریوں کی ہلاکت پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے رو پڑنے کے متعلق ترجمان نے کا کہ ان کا یہ بیان اپنے ملک کے مشکل حالات کے تناظر میں ایک جذباتی بیان ہے۔ دریائے چناب پر بھارت کی جانب سے بگلیہار ڈیم تعمیر کیے جانے کے تنازعہ پر عالمی بینک کے ماہرین کی رپورٹ کے بارے میں سوال پر تسنیم اسلم نے کہا کہ ماہرین کے سامنے کچھ نئے نکات بھی پیش کیے گئے ہیں اور وہ ان کا جائزہ لینے کے بعد اپنا فیصلہ دیں گے۔ افغانستان میں پاکستان کی مبینہ مداخلت کے متعلق انٹر نیشنل کرائیسس گروپ کی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے تسنیم اسلم نے اُسے رد کردیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے متعلقہ رپورٹ کا مطالعہ نہیں کیا لیکن یہ رپورٹ درست نہیں ہے۔ انہوں نے اس بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور امریکہ اور ان کی اتحادی افواج یعنی ایساف کی جانب سے مرتب کردہ رپورٹس کا حوالہ دیا اور کہا کہ ان دونوں اداروں کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ صورتحال بہتر ہورہی ہے۔ |
اسی بارے میں ’ہند و پاک ورکنگ گروپ بنے گا‘09 October, 2006 | انڈیا کشمیر بس میں بھارت کا فائدہ 12 April, 2005 | صفحۂ اول کشمیر تقسیم ہونا چاہئیے: سکندرحیات20.05.2003 | صفحۂ اول کشمیر: سروے کرانے کا ارداہ ترک03 January, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||