BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 16 November, 2006, 09:52 GMT 14:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر فارمولوں کی دوڑ

میر واعظ عمر فاروق
میر واعظ کی پارٹی ماضی سے زیادہ حال میں دلچسپی رکھتی ہے۔
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں حریف سیاسی قوتیں مسئلہ کشمیر کا حل تجویز کرنے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لینے کی دوڑ میں مصروف ہیں۔

اپنے اپنے موقف کو دستاویزی شکل دینے اور اسے ہندوستان و پاکستان کے علاوہ عالمی برادری کے سامنے بطور روڑ میپ پیش کرنےکی غرض سے ہند نواز نیشنل کانفرنس، کانگریس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی یا پی ڈی پی اور علیٰحدگی پسند قوتیں خاص طور پر حریت کانفرنس کا اعتدال پسند دھڑا پچھلے کئی ماہ سے زبردست سرگرم ہے۔

علی گیلانی فارمولہ
کشمیر کا روڑمیپ سن اُنیس سو اڑتالیس اور پچاس کے درمیان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں منظور کی گئیں قراردادوں پر مشتمل ہے،

اس رحجان نے گزشتہ دنوں محاذ آرائی کی شکل اختیار کر لی۔ایک پریس کانفرنس کے دوران ہند نواز نیشنل کانفرنس کے لیڈر اور ہندوستان کے سابق نائب وزیر خارجہ عمرعبداللہ نےمخلوط اقتدار میں کانگریس کی شریک پی ڈی پی پر الزام عائد کیا کہ اس نے ’خود حکمرانی کا جو نعرہ بلند کیا ہے، وہ دراصل نیشنل کانفرنس کی خودمختاری سےمتعلق اسمبلی میں منظورکردہ قرارداد کی نقل ہے۔‘

نیشنل کانفرنس نےگزشتہ روز اسی اٹانومی رپورٹ کی کاپیاں نامہ نگاروں میں تقسیم کیں جسے چھ سال قبل نئی دلی میں اس وقت کی بی جے پی قیادت والی این ڈی اے سرکار نے مسترد کیا تھا۔

نیشنل کانفرنس دفاع، خارجی امور اور مواصلات و کرنسی کے سوا ریاست کےتمام انتظامی امور پر آئین ہند کے اندر خودمختاری کی قائل ہے، جبکہ اس کی حریف ہند نواز جماعت پی ڈی پی اپنے موقف کو ’سیلف رول‘ کا نام دیتے ہوئے ہندوستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دونوں حصوں میں خودمختاری کا مطالبہ کرتی ہے۔

میر واعظ کا فارمولہ
میرواعظ گروپ فی الوقت جموں کشمیر کو ’ریاست ہائے متحدہ کشمیر‘ یا یونائیٹڈ سٹیٹس آف کشمیر بنانے کے اپنے موقف کی تشہیر کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں ان کی حریت کانفرنس بھی ایک روڑ میپ بنا رہی ہے۔

تاہم ابھی تک وہ سیلف رول کے خد وخال واضح نہیں کر پائی ہے۔ پی ڈی پی کا اصرار ہے کہ اس کی سیلف رول تجویز پاکستانی صدر جنرل مشرف کی تجویز کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی، لیکن ریاست میں کانگریس اور بی جے پی کے لیڈروں نے اس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ’مشرف کے ایجنڈا پر کام کر رہی ہے۔‘

پی ڈی پی کے جنرل سیکریڑی نظام الدین بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ ہم نے اس سلسلے میں ایک کمیٹی بنائی ہے جس میں سینئر لیڈروں کے علاوہ سابق نائب وزیر اعلیٰ اور تجربہ کار قانون دان مظفر حسین بیگ بھی شامل ہیں۔

یہ کمیٹی سیلف رول کی تجویز کو باقاعدہ دستاویزی شکل دے گی۔ جسے ہم ہندوستان اور پاکستان کے حکمرانوں کے علاوہ عالمی سفارتی برادری کو بھی پیش کریں گے۔‘

گو ریاستی کانگریس جموں کشمیر کے ہندوستان کے ساتھ الحاق کی علمبردار ہے، اس جماعت کےمقامی لیڈر سمجھتے ہیں کہ تنازعہ کشمیر کی حقیت سے انکار اب ممکن نہیں۔

پارٹی کی ریاستی شاخ کے نائب صدر عبدالغنی وکیل کا کہنا ہے کہ ’تمام آئینی حقائق کو برقرار رکھتے ہوئے ہم ایسے فارمولے پر سوچ رہے ہیں، جس کے تحت تشدد کا جواز قائم نہ رہے۔ اس سلسلے میں (وزیر اعلیٰ ) آزاد صاحب کا خوشحال کشمیر پرپوزل معنی خیز ہے لیکن ہم اس تجویز کو کشمیر کی سیاسی صورتحال کے پس منظر کے ساتھ دستاویزی روپ دے کر پیش کریں گے۔‘

کشمیر کی علیٰحدگی پسند قوتیں فی الوقت تین حصوں میں منقسم ہیں۔ کئی جماعتوں کے اتحاد حریت کانفرنس کے دو الگ الگ دھڑوں کی قیادت سید علی شاہ گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق کر رہے ہیں۔ شبیر احمد شاہ اور یٰسین ملک وغیرہ ان دونوں دھڑوں سے یکساں دوری پر ہیں۔

سید علی گیلانی کا اصرار ہے کہ کشمیر کا روڑمیپ سن اُنیس سو اڑتالیس اور پچاس کے درمیان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں منظور کی گئیں قراردادوں پر مشتمل ہے، جن میں کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔

سید علی گیلانی کا اصرار ہے کہ جن میں کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔

میر واعظ کے ساتھی نعیم احمد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ ہم ماضی سے زیادہ مستقبل پر فوکس کر رہے ہیں۔یہاں کی تعلیم، معیشت، ماحولیات اور سب سے بڑھ کر سیکیورٹی کا معاملہ ہمارے نزدیک اہم ہے۔ ہم کو یقین ہے کہ ہندوستان اور پاکستان اس مسئلہ کو حل کرنے پر آمادہ ہیں، لیکن ہم نہیں چاہتے کہ جب یہ مسئلہ حل ہوجائے اور ہمیں پتہ نہ ہو کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔ ہم اپنا ماڈل لے کر تیار رہیں گے۔‘

فارمولہ تھری
 سجاد لون چھ ہفتوں تک گلمرگ کے ایک ہوٹل میں روڑ میپ بناتے رہے۔ اس روڑ میپ میں مسئلہ کشمیر کے داخلی اور خارجی پہلوؤں پر بحث کے علاوہ ایک کریٹیو (فنی) حل تجویز کیا گیا ہے
سجاد لون کا ساتھی

ایک اور علیحدگی پسند لیڈر سجاد غنی لون بھی، جنہیں گزشتہ انتخابات میں پراکسی امیدوار کھڑا کرنے کے الزام میں حریت کی رکنیت سے خارج کیا گیا تھا، بھی پچھلے دو ماہ سے کشمیر روڑ میپ بنا رہے ہیں۔

لون کے سیاسی مشیر رشید محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سجادصاحب نے خود ایک ایک پہلو کو سٹڈی کیا۔ وہ چھ ہفتوں تک گلمرگ کے ایک ہوٹل میں روڑ میپ بناتے رہے۔ ہمارے روڑ میپ میں مسئلہ کے داخلی اور خارجی پہلوؤں پر بحث کے علاوہ ایک کریٹیو (فنی) حل تجویز کیا گیا ہے۔

صاحب نے خود ایک ایک پہلو کو سٹڈی کیا۔ وہ چھ ہفتوں تک گلمرگ کے ایک ہوٹل میں روڑ میپ بناتے رہے۔ ہمارے روڑ میپ میں مسئلہ کے داخلی اور خارجی پہلوؤں پر بحث کے علاوہ ایک کریٹیو (فنی) حل تجویز کیا گیا ہے جو آپ کو وقت آنے پر معلوم ہوجائے گا۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد