’کشمیر کی آزمائش: ایک انقلابی حل‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کتاب : کشمیر کی آزمائش۔ ایک انقلابی حل مصنّف : لال خان اشاعت : مارچ 2006 ناشر : جدوجہد پبلیکیشنز ہال روڈ لاہور صفحات : 300 قیمت : 250 روپے کشمیر کے لوگوں کی کربناک حالت کو عرصۂ دراز تک نظر انداز کرنے والی امریکی اور برطانوی حکومتیں اب مسئلہ کشمیر کے ایک پُر امن حل کے لئے دباؤ ڈال رہی ہیں۔ یہ طاقتیں برِ صغیر میں ایک اور جنگ دیکھنا نہیں چاہتیں۔ یہ طاقتیں دراصل ایک ایسا امن چاہتی ہیں جو سامراج کے کنٹرول میں ہو‘۔ ایلن وُڈز کے اِن تعارفی جملوں سے کتاب کے مزاج کا اندازہ تو ہو جاتا ہے لیکن ’کشمیر کی آزمائش‘ کے مصنّف لال خان کے نظریات سے مکمل آ گاہی اس کتاب کے مندرجات کو بغور پڑھنے کے بعد ہی حاصل ہو سکتی ہے۔ آج، سن 2006 میں اگر کوئی شخص یہ نعرہ لگاتا ہے کہ بین الاقوامی سامراج کا خاتمہ ہی تمام عالمی مسائل کا حل ہے اور سامراج کا خاتمہ اشتراکی انقلاب کے ذریعے ہی ممکن ہے، تو ذرا تحمل اور صبر سے اس کی بات سُننی ضروری ہے، ورنہ اِس نقطۂ نظر کا تجزیہ اور اس کی قدر و قیمت کا تعین ممکن نہیں ہوگا۔ دنیا بھر میں عسکری اور معاشی محاذ پر پھیلی ہوئی سامراجی گندگی کا مفصّل ذکر کرنے کے بعد مصنّف نے جنوبی ایشیا کا رُخ کیا ہے اور خیال ظاہر کیا ہے کہ آزادی کے فوراً بعد بھارت میں پنڈت نہرو نے جس نام نہاد سوشلزم کو رواج دیا اس کا مقصد محض بھارتی بورژوازی کو ایسی سہولتیں فراہم کرنا تھا جن کے بل بُوتے پر وہ بھارت کو ایک جدید سرمایہ دارانہ ریاست میں تبدیل کر سکیں، لیکن مقامی سرمایہ داروں کے تمام تر تحفظ کے باوجود نہرو کا یہ تجربہ ناکام رہا اور بالآخر بیسویں صدی کے آخری برسوں میں ملٹی نیشنل کمپنیوں نے بھارت پر دھاوا بول دیا۔ اِس وقت بھارت میں غریب کاشتکار اور شہری مزدوروں کی حالت بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ مصنف کا کہنا ہے کہ درست مارکسی تناظر میں برپا کیا ہوا ایک سوشلسٹ انقلاب ہی اِن مسائل کا حل ہے۔ پاکستان کے بارے میں مصنّف کا کہنا ہے کہ یہاں فوج ہی ایک مستند اور موّثر قوت ہے لیکن جس سماج پر یہ فوج حکمرانی کر رہی ہے اسے مذہبی بنیاد پرستی، گروہی عداوتوں اور علاقائی لڑائیوں نے تقسیم کر رکھا ہے۔ مغربی آقاؤں کے اشارے پر جو اقتصادی اصلاحات ہو رہی ہیں اُن کے معاشی فوائد صرف بالائی طبقے کو پہنچ رہے ہیں جبکہ نچلا طبقہ بُری طرح پِس رہا ہے۔ بھارت اور پاکستان کی جَنتا کا احوال بیان کرنے کے بعد مصنّف کشمیر کی طرف آتا ہے اور پنڈت نہرو کی خودنوشت سوانح عمری کے اس اقتباس سے بات شروع کرتا ہے: ’کشمیر باقی ماندہ بھارت سے کہیں زیادہ پُر تضاد خطّہ ہے۔ فطری حسن اور قدرتی نعمتوں سے مالامال اس خطّے میں چاروں طرف غربت کی حکمرانی ہےاور یہاں محض جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنے کے لئے بھی انسانوں کو مسلسل جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ کشمیر کے مرد و خواتین دیکھنے میں خوبصورت اور گفتگو میں خوش اخلاق ہیں۔ وہ ذہین ہیں اور ہاتھوں کا استعمال دانش مندی سے کرتے ہیں۔ اُن کے پاس رہنے کے لئے خوبصورت اور امیر علاقہ ہے، پھِر وہ اس خوفناک حد تک مفلس کیوں ہیں؟‘ اسکے بعد مصنف نے راجہ اشوک کے زمانے سے کشمیریوں پر ہونے والے جبر و ستم کی تاریخ بیان کی ہے جوکہ جھرکا، کرکوتا، اتپالہ اور حارسا حکمرانوں کے دور سے ہوتی ہوئی منگولوں، افغانوں، سکھوں، ڈوگروں اور انگریزوں تک پہنچتی ہے۔ مصنّف بتاتا ہے کہ کِس طرح 10 فروری 1846کو ستلج کے کنارے انگریزوں اور سکھوں کا معرکہ ہوا۔ سکھ بے جگری سے لڑے اور قریب تھا کہ انگریزوں کو مار بھگاتے لیکن گلاب سنگھ نے سکھوں سے غداری کی اور ان کی فتح شکست میں تبدیل ہوگئی۔ انگریزوں نے اس غداری کے انعام میں ایک علامتی رقم (75لاکھ روپے) کے عوض ریاست کشمیر گلاب سنگھ کو بخش دی۔ کشمیرکو گلاب سنگھ کے حوالے کرنے کا منصوبہ لارڈہارڈنگ نے بنایا تھا جس کا خیال تھا کہ کشمیر پر براہِ راست حکمرانی کرنے سے بہتر ہے کہ اپنا ایک ایجنٹ وہاں مسلط کردیا جائے۔ اس فیصلے کو کئی انگریز عمائدین نے بھی نفرت کی نگاہ سے دیکھا۔ بعد میں کمانڈر ان چیف بننے والے سرچارلس نیپئر نے لکھا: ’واہ! کیسی اعلٰی و ارفع شخصیت کو کشمیر کا بادشاہ بنایا گیا ہے! انگریز فوج کے ایک اور افسرِ اعلیٰ ہربرٹ ایڈورڈ نے گلاب سنگھ کے مکروہ عزائم کا مطالعہ انتہائی گہرائی سے کیا جو کشمیر کے لئے نبرد آزما دو طاقتوں یعنی انگریزوں اور سکھوں کے بھرپور تصادم کو ایک محفوظ فاصلے سے دیکھ رہا تھا اور انتظار میں تھا کہ اس معرکہ کے نتائج سے کسی طرح فائدہ اٹھایا جائے۔ انگریز افسر نے اپنی یاد داشتوں میں لکھا ہے: ’گلاب سنگھ ڈوگرا ایک گِدھ کی طرح مکار ہے۔ وہ دور کھُلے آسمان میں انتہائی ہوشیاری سے شیر اور چیتے کی لڑائی دیکھتا رہا ہے جو ایک ہرن پر آپس میں لڑ رہے تھے۔ جب دونوں لڑتے لڑتے مر گئے تو اُس نے اپنے پر پھیلائے، بڑے تحمل سے اُڑتا ہوا نیچے آیا اور ہرن کے گوشت پر عیاشی کرنے لگا‘۔ انگریزوں نے 75 لاکھ روپے کی معمولی رقم کے عوض ساری ریاست جموں و کشمیر ڈوگرا حکمران گلاب سنگھ کے حوالے کر دی تھی گویا ہر کشمیری کو صرف تین روپے میں بیچ دیا تھا۔ یہاں یہ نکتہ قابلِ غور ہے کہ اگر 1846 میں برطانوی فوج خود کشمیر پر قابض ہو جاتی اور کشمیر برطانوی ہند کا باقاعدہ حصّہ بن جاتا تو 1947 میں تقسیمِ ہند کے وقت مسلم اکثریتی آبادی کی بنیاد پر وادی کشمیر خودبخود پاکستان کا حصّہ بن جاتی۔ لیکن انگریزوں کے لئے یہ ایک اچھا سودا تھا کہ دو سلطنتوں کے درمیان موجود ریاستِ کشمیر میں اپنا ایک ایجنٹ بٹھا دیا جائے جوکہ اپنے سابقہ تجربے کی بنیاد پر ریاست کو قابو میں بھی رکھ سکے اور وقت پڑنے پر مالی یا عسکری طور پر انگریزوں کی مدد بھی کر سکے۔ جو کہ گلاب سنگھ اور بعد میں اس کی اولاد کرتی بھی رہی۔ البتہ اپنے 75 لاکھ پورے کرنے کےلئے اِن کشمیری حکمرانوں نے عوام پر بے تحاشہ ٹیکس لگا دیئے اور فصلیں، پھل، جانور، چراگاہیں دستکاریاں، شالیں، قالین، ہر طرح کی مزدوری حتیٰ کہ گورکنی اور جسم فروشی بھی ٹیکس کی زد میں آگئی اور سڑکوں کی تعمیر وغیرہ کے لئے شہریوں سے جبراً مزدوری بھی لی جاتی تھی۔ مصنف لال خان کا کہنا ہے 1942 کے موسمِ گرما میں کشمیری مزدوروں کی ہرتال اسی جبر و تشدّد کا ردِّعمل تھا اور 1931 کے ہنگامے بھی جو بظاہر مذہبی منافرت کا شاخسانہ تھے درحقیقت اُن کے پس منظر میں بھی معاشی اور سماجی حالات تھے، جیسا کہ 1931 کے ہنگاموں پر ایک انگریز افسر نے اپنی رپورٹ میں لکھا: 1941 میں پریم ناتھ بزاز نے اپنی کتاب ’اِن سائیڈ کشمیر‘ میں لکھا : مصنّف نے کشمیری لیڈر شیخ عبداللہ کی سوانح عمری سے یہ اقتباس بھی پیش کیا ہے: تحریکِ کشمیر کے موجودہ دور کا تذکرہ کرتے ہوئے مصنّف لکھتا ہے کہ 1990 کے لگ بھگ تحریک میں جو شدت آئی تھی اس میں دو طرح کے گروہ کام کر رہے تھے: ایک وہ جو کشمیر کی مکمل آزادی چاہتے ہیں، دوسرے وہ جو اس کا پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں۔ چونکہ بیرونی امداد کے بغیر یہ تحریک زیادہ دیر نہیں چل سکتی اس لئے کشمیر میں پاکستان نواز گروپوں کا غلبہ رہا۔ تاہم مصنّف کا کہنا ہے کہ رجعتی قوتیں کشمیری مسئلے کا کوئی حل آج تک پیش نہیں کر سکیں اور نہ ہی مستقبل میں اُن سے کوئی اُمید رکھی جا سکتی ہے۔ لال خان کےبقول کشمیر میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس مسئلے کے ایک انقلابی حل کےلئے کوشاں ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے تمام کشمیری کارکنوں اور نوجوانوں کو ایک انقلابی تناظر فراہم کیا جائے جو کہ قومی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح کا ہو۔ مصنّف کا کہنا ہے کہ آج میرپور اور مظفرآباد سے زیادہ کشمیری بریڈفورڈ اور برمنگھم میں آباد ہیں اور کشمیری تحریک کو مضبوط کرنے کے لئے کشمیری کارکنوں کو بھارت، پاکستان، برطانیہ یورپ اور دنیا کے دیگر ملکوں کے محنت کشوں کی حمایت حاصل کرنی ہوگی اور کلکتہ، بمبئی، دہلی، کراچی اور لاہور وغیرہ میں آباد کشمیریوں کو پاکستان اور بھارت کی مزدور تنظیموں میں زیادہ جگہ بنانی ہوگی۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ مسئلہ کشمیر کو لاینحل سمجھ کر بہت سے پُر جوش کارکن پیچھے ہٹ چکے ہیں، لال خان کی کتاب ایک مختلف زاویےسے کشمیری مسئلے پر نگاہ ڈالتی ہے اور محض انقلابی کارکنوں کےلئے ہی نہیں بلکہ محقق اور مورّخ کے لئے بھی ایک دلچسپ مطالعے کی حیثیت رکھتی ہے۔ لال خان نے کتاب کا اصل متن انگریزی میں تحریر کیا ہے جو کہ علیحدہ کتابی صورت میں بھی چھپ چکا ہے۔ زیرِ نظر کتاب اصل متن کا اُردو رُوپ ہے اور یہ امر افسوسناک ہے کہ اس میں ترجمےاور ہجےکی بےشمار غلطیاں ہیں۔ توقع کرنی چاہیئے کہ اگلے اُردو ایڈیشن میں ترجمے اور طباعت کی یہ تمام غلطیاں دور کر دی جائیں گی۔ | اسی بارے میں پاکستان کی تاریخ کا مہلک باب16 August, 2005 | قلم اور کالم کشمیر: پاکستان کی سفارتی یلغار26 November, 2005 | قلم اور کالم ’کشمیر کو وفاقی جمہوریہ بنایا جائے‘01 April, 2006 | پاکستان ’بات چیت کا محور مسئلہ کشمیر ہوگا‘28 February, 2006 | پاکستان پاکستان میں شدت پسند کہاں گئے؟07 April, 2005 | قلم اور کالم اسلام آباد میں کشمیر پر کانفرنس10 March, 2006 | پاکستان ’کشمیریوں کی رائے کو اہمیت دیں‘12 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||