BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 01 April, 2006, 15:13 GMT 20:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کشمیر کو وفاقی جمہوریہ بنایا جائے‘

 امان اللہ خان
کشمیر کو اس صورتحال پر لانے میں مسلم لیگ کا بھی ہاتھ ہے: امان اللہ خان
جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین امان اللہ خان نے تجویز پیش کی ہے کہ جموں کشمیر کو دوبارہ متحد کرکے اسے وفاقی جمہوریہ بنایا جائے۔

کراچی میں ہفتے کے روز ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی پاکستانی کوششوں کا مقصد کشمریوں کو حق خود ارادیت دلانا نہیں بلکہ مستقل تقسیم ہے۔

امان اللہ کا کہنا تھا کہ کشمیر کے متعلق گزشتہ تین عشروں سے ہونے والے پاک بھارت معاہدوں میں نہ تو کشمیر کی حق خود ارادیت کا کوئی ذکر ہے نہ ہی ریاستی عوام کو مسئلہ کشمیر کا فریق تسلیم کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر مسئلے کے متعلق تین پاک بھارت وزارتی کمیٹیاں گزشتہ سات سال میں ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھی۔

کشمیری رہنما کا کہنا تھا کہ کشمیر کے متعلق پاکستان نے پندرہ مرتبہ یوٹرن لیئے ہیں۔ اس کی کوئی ایک پالیسی نہیں رہی ہے۔

امان اللہ خان نے تاریخی حوالے دیتے ہوئے بتایا کہ مسلم لیگ کا دعویٰ تھا کہ وہ مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ مگر مسلم لیگ نے ہی تین جون انیس سو سینتالیس کو اس بات کی حمایت کی کہ ریاستوں کا فیصلہ حکمران کرینگے۔

انہوں نے کہا کہ کمشیر کی ستر فیصد مسلمان آبادی کی مستقبل کے فیصلے کا حق ہندو مہاراجا کو دیا گیا یہ مسلم لیگ اپنے نظریے سے یو ٹرن تھا۔

اس کے بعد کہا گیا کہ برصغیر کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائیگا مگر بعد میں مسلم لیگ نے یہ کہا کہ ریاستوں کو خود مختار رہنے کا حق بھی حاصل ہے۔

امان اللہ نے دعویٰ کیا کہ انیس سو سینتالیس کو تین مواقع پر قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کہ ریاستوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پاکستان سے ملیں یا بھارت سے یا خودمختار رہیں‘۔

اب کہا جاتا ہے کہ قائد اعظم نے کہا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔’یہ بعد میں بنائی گئی باتیں ہیں قائد اعظم نے ایسی بات کبھی نہیں کی‘۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل یہ ہے کہ منقسم ریاست جموں وہ کشممیر کو پرامن مرحلوں میں متحد کرکے وہاں سے جملہ بیرونی افواج کے انخلا کے بعد وہاں ایسی آزاد خودمختار آزادانہ مملکت قائم کی جائے جس کا طرز حکومت وفاقی اور غیر فرقہ وارانہ ہو۔

انہوں نے تجویز دی کہ مملکت قائم ہو نے کے بعد وہاں عالمی برادری کے
زیر اہتمام ایک ریفرنڈم کیا جائے جس میں ریاستی عوام فیصلہ کریں کشمیر کی خودمختاری کو مستقل شکل دی جائے یا اسے بھارت یا پاکستان کا حصہ بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہم آزاد کشمیر کی بات کرتے ہیں اور میر واعظ متحدہ کشمیر کی جو بات ایک ہی ہے ۔

اسی بارے میں
کشمیر:’امریکہ مدد کرے‘
13 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد