BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 November, 2004, 00:24 GMT 05:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’زمینی حقیقتوں کو سمجھنا پڑے گا‘
پرویز مشرف
صدر پرویز مشرف نے خود مختار کشیمر کے حامیوں کو بھی پہلی دفعہ بات چیت کی دعوت دی
جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ امان اللہ خان نے کہا ہے کہ صدر جنرل پروپز مشرف نےکشمیری رہنماؤں سے کو کہا ہے کہ کشمیر کے بارے میں تلخ زمینی حقائق کو سمجھ لینا چاہیے ۔

صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ اگر کشمیر کے بارے میں تلخ حقائق کو نہ سمجھا گیا اور اپنے موقف میں لچک پیدا نہ کی تو تو پھر کشمیر کے مسئلے کبھی بھی کوئی حل نہیں نکل سکے گا۔

صدر پرویز مشرف نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کے اراکان اور اور دوسری کشمیری تنظیموں کے رہنماؤں کو تبادلہ خیال کے لیے بلایا ہے اور ان سے کشمیر پالسیی اور اپنے پیش کردہ فارمولے کے بارے میں اعتماد میں لیا۔

پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ کشمیر کی مکمل آزادی کی خواہاں تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ کو بھی حکومت نے تبادلہ خیال کے مدعو کیا گیا۔

جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ امان اللہ خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے صاف کہا ہے کہ کشمیری لوگ ان پر اعتماد کریں اور وہ کبھی بھی کشمیر کے کاز پر کوئی سھمجوتہ نہیں کریں گے۔

امان اللہ خان نے بتایا کہ پرویز مشرف نے کہا کہ کشمیرکے بارے میں کچھ تلخ حقیقتیں ہیں جن کو سمجھ لینے میں ہی بہتری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ’ہم پورے طرح ڈٹے رہے اور ایک ہی بات پر اکڑے رہے تو انڈیا بھی اکڑا رہے گا اور ہم کہیں بھی نہیں پہنچ پائیں گے۔‘

امان اللہ خان نے بتایا کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے کشیمریوں کو بتایا کہ کسی نہ کسی موقع پر کشمیریوں کو مذاکرات میں شریک کریں گے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد