مسئلہ کشمیر: دھند چھٹنے والی ہے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تین عشروں سےمسئلہ کشمیر پر جو دھند چھائی ہوئی ہے شاید وہ چھٹنے کے قریب ہے۔ امریکہ اور بھارت کے درمیان جوہری معاہدے کے بعد پرویز مشرف نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان کشمیر سے متعلق اپنے موقف میں تبدیلی لانے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ کشمیری لوگوں کے پاکستان اور بھارت جانے پر تمام پابندیاں ختم کی جائیں۔ پاکستان اور بھارت نے متنازعہ معاملات کو حل کرنے کے لیے کئی سال پہلے ’بیک چینل ڈپلومیسی‘ شروع کی جو اب اپنا اثر دکھا دے رہی ہے۔ ایسے شواہد سامنے آ رہے ہیں کہ پاکستان اور بھارت بیک چینل ڈپلومیسی کے ذریعے مسئلہ کشمیر سمیت ا پنے تنازعے حل کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔بھارتی حکام کشمیر سے متعلق کسی ممکنہ حل کے بارے پر کھلے عام اپنے موقف کا اظہار کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں لیکن شناخت نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بات کرتے ہیں۔ بھارتی حکام تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان کا کشمیر سےمتعلق اپنے موقف میں تبدیلی کا عندیہ بیک چینل ڈپلومیسی کی بڑی کامیابی ہے۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ صدر مشرف اب وہ ہی بات کر رہے ہیں جو بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ چند سالوں سے کر رہے ہیں۔ بھارتی حکام کہتے ہیں ’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب کچھ ہو جائے گا۔‘ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم من موہن سنگھ نے اکتوبر 2004 میں کہا تھا کہ کشمیر کے مسئلے کا حل اسی صورت ممکن ہے کہ اس سے دونوں ملکوں کی عالمی سرحدوں میں کوئی تبدیلی نہ ہو اور یہ حل مذہبی بنیادوں پر نہ ہو۔‘ بھارتی وزیر خارجہ پرنب مکھرجی جنوری 2007 میں پاکستان کا دورہ کرنے والے ہیں جس میں مسئلہ کشمیر کو حل کرنے سے متعلق جاری بات چیت کریں گے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ دورہ پاکستان کے دوران پاکستانی وزیر اعظم شوکت عزیز کو موسم سرما میں بھارت میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت کی بھی دعوت دیں گے۔ پاکستان کی طرف سے نیشنل سیکیورٹی کونسل کے مشیر طارق عزیز اور بھارت کی طرف سے بھارتی سفارت کار ستندر لہمبا بیک چینل ڈپلومیسی میں حصہ لے رہے ہیں۔
صدر مشرف کا کشمیر سےمتعلق چار نکاتی فارمولہ اسلام آباد اور دہلی میں گیارہ سمتبر 2001 کے بعد سوچ میں آنےوالی تبدیلی آنے کا مظہر ہے۔ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے بھارت کشمیری سیاستدانوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارت نےاپنی پالیسی سے ہٹ کر حریت کانفرنس کے رہنما میر واعظ عمر فاروق اور کئی دوسرے سیاستدانوں کو پاکستان جانے کی اجازت دی تاکہ وہ پاکستانی رہنماؤں سے ملاقات کر سکیں۔ بیک چینل ڈپلومیسی کے دوران بند کمروں میں کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے جوائنٹ کنٹرول کے فارمولے پر بہت بحث ہو چکی ہے۔ کشمیر کےجوائنٹ کنٹرول کے فارمولے پر بھارت کو کچھ اعتراضات ہیں۔ بھارت کو جوائنٹ کنٹرول فارمولے میں پاکستان کو اپنے علاقے پر کنٹرول کرنے کی اجازت نہیں دینا چاہے گا۔ سچ تو یہ امریکہ نے ستمبر 2001 کے بعد بھارت اور پاکستان کواپنے درینہ مسائل حل کرنے کی کوشش پر مجبور کیا ہے۔ | اسی بارے میں ’کشمیر: دستبردار ہونے کو تیار ہیں‘05 December, 2006 | پاکستان کشمیر: ’مشرف کو یہ اختیار نہیں‘05 December, 2006 | پاکستان متنازعہ کشمیر ’پاکستان کا صوبہ‘24 October, 2006 | پاکستان کشمیر، امن عمل کو خطرہ ؟20 June, 2006 | انڈیا ممبئی بم حملے: کشمیر امن عمل بھی متاثر14 July, 2006 | انڈیا حزب المجاہدین کا نائب کمانڈر ہلاک05 September, 2006 | انڈیا ’ہند و پاک ورکنگ گروپ بنے گا‘09 October, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||