متنازعہ کشمیر ’پاکستان کا صوبہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان کی طرف سے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں مقیم افغان پناہ گزینوں کو جاری کیئے جانے والے عارضی شناختی دستاویز میں کشمیر کے اس متنازعہ علاقے کو صوبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ پاکستان کی نیشنل ڈیٹابیس اتھارٹی یا نادرا نے اقوام متحدہ کے ادارے برائے پناہ گزین، یو این ایچ سی آر، کے تعاون سے اس ماہ کے وسط سے پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر میں مقیم افغان پناہ گزینوں کا اندراج شروع کیا جو اس سال کے آخر تک جاری رہے گا۔ سن دو ہزار پانچ میں پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں کی مردم شماری کے بعد اب ان کے اندراج کا کام شروع کیا گیا۔ سن دو ہزار پانچ کی مردم شماری کے مطابق کشمیر کے اس علاقے میں تقریباً ساڑھے تین سو افغان مقیم ہیں اور ان کے اندراج کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے۔ ان میں لگ بھگ تین سو افغان پنا گزینوں کو شناختی دستاویز بھی جاری کئے جاچکے ہیں ۔ حکومتِ پاکستان کی طرف سے کشمیر کے اس علاقے میں مقیم افغان پناہ گزینوں کو جاری کیئے جانے والے اس عارضی شناختی دستاویز یا پروف آف رجسڑیشن میں کشمیر کے اس متنازعہ علاقے کو صوبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ کشمیر کے اس خطے کا الگ آئین ہونے کے ساتھ ساتھ الگ وزیرِ اعظم اور سپریم کورٹ ہے اور پاکستان کا یہ دیرینہ اور روایتی موقف رہا ہے کہ کشمیر کا علاقہ متنازعہ ہے اور اس کا مطالبہ ہے کہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جائے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرسکیں۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||