BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 05 December, 2006, 09:58 GMT 14:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: ’مشرف کو یہ اختیار نہیں‘

قاضی حسین کے مطابق مشرف کو حق نہیں کہ وہ کشمیر پر قوم کے اصولی موقف میں تبدیلی کریں (فائل فوٹو)
حزب اختلاف کی جماعتوں نے صدر جنرل پرویز مشرف کی کشمیر سے مشروط دستبرداری کی پیش کش کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں یہ تجویز دینے کا کوئی اختیار نہیں اور وہ عالمی میڈیا میں پبلسٹی کے لیے ایسے بیانات دے رہے ہیں۔


چھ رکنی مذہبی اتحاد متحدہ مجلس عمل اور جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پرویز مشرف کو اس بات کا حق نہیں دیتے کہ وہ کشمیر پر قوم کے اصولی موقف میں تبدیلی کریں کیونکہ ایک فرد واحد ایسا نہیں کرسکتا۔

انہوں نے کہا کہ مجلس عمل تو مشرف کو ہٹانے کے لیے تحریک چلا رہی ہے اور وہ ایک ناجائز حکمران ہیں جن کے ساتھ انڈیا کا کوئی معاہدہ کسی کے لیے بھی قابل قبول نہیں ہوگا۔

اس سوال کے جواب میں کہ صدر مشرف نے یہ تجویز اس موقع پر کیوں پیش کی متحدہ مجلس عمل کے امیر نے کہا کہ مشرف ملک کے تمام مفادات کا سودا کررہے ہیں اور ملک کے نظریے کو بھی تبدیل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشرف بیرونی مفادات کے تابع حکمران ہیں۔

 کشمیر پر پاکستان کا اصولی موقف ہے کہ اس تنازعہ کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت استصواب رائے کے ذریعے کشمیری عوام کی مرضی معلوم کی جائے کہ وہ بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ۔
قاضی حسین احمد

متحدہ مجلس عمل کے سربراہ نے کہا کہ پرویز مشرف دستوری اور اخلاقی طور پر نہ تو پاکستان کے صدر ہیں نہ آرمی چیف جنہوں نے خود کو زبردستی ان عہدوں پر مسلط کیا ہوا ہے۔

قاضی حسین احمد نے کہا کہ مجلس عمل پرویز مشرف کو ایک غاصب حکمران تصور کرتی ہے جنہوں نے پوری قوم اور فوج کو ایسے دبوچا ہوا ہے کہ ملک میں کوئی ایسا ادارہ نہیں رہنے دیا جو کشمیر پر قوم کے اصولی موقف کا اعادہ کرسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیر پر پاکستان کا اصولی موقف ہے کہ اس تنازعہ کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت استصواب رائے کے ذریعے کشمیری عوام کی مرضی معلوم کی جائے کہ وہ بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ۔ انہوں نے کہا کہ کا اس موقف سے ہٹنے کا مطلب یہ ہوگا کہ پاکستان کا اس معاملہ پر کوئی اصولی موقف نہیں ہے۔

مسلم لیگ (نواز) کے سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال نے صدر مشرف کے انٹرویو پر اپنی پارٹی کا موقف بیان کرتے ہوئے بی بی سی سے کہا کہ پرویز مشرف بتائیں کہ انہیں بھارت کو یہ تجویز پیش کرنے کا اختیار پارلیمینٹ، کابینہ، نیشنل سکیورٹی کونسل یا کور کمانڈروں میں سے کس نے دیا ہے۔

صدر پرویز مشرف کی حالیہ تجویز اسی ہزار کشمیریوں کی قربانی کو بھلانے اور ان پر پانی پھیرنے کے مترادف ہوگی
مسلم لیگ (ن) کے ترجمان

احسن اقبال نے کہا کہ پرویز مشرف اپنے اقتدار کے لیے ملک سے کھیل رہے ہیں اور عالمی سطح پر خبریں لگوانے کے لیے ملک کے ہر مفاد کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے ترجمان نے کہا کہ پرویز مشرف ایک غیر آئینی حکمران ہیں جن کے پاس کوئی اختیار نہیں کہ وہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کا فیصلہ کریں اور ان کی تجویز اسی ہزار کشمیریوں کی قربانی کو بھلانے اور ان پر پانی پھیرنے کے مترادف ہوگی۔

احسن اقبال نے کہا کہ مشرف پہلے سکیورٹی کونسل کی کشمیر پر قراردادوں سے دستبرادار ہونے کا بیان دے چکے ہیں اور انہوں نے لائن آف کنٹرول پر بھارت کو یک طرف طور پر باڑ لگانے کی اجازت دی جس سے اس لائن کی حیثیت تبدیل ہوگئی اوراب انہوں نے خود سے کشمیر سے دستبرداری کا اتنا بڑا فیصلہ کرلیا۔

کشمیرمذاکرات کے تانے بانے
کشمیر کا ماضی و حال، جائزہ آصف جیلانی
اسلام آبادکشمیر کانفرنس
کشمیریوں کی رائے کو بھی اہمیت دیں
صدر جنرل پرویز مشرفبش سے بات چیت
’کشمیر، دہشت گردی اور تجارت اہم ہوں گے‘
جارج بشکشمیر کا حل ممکن
’ کشمیر کے حل کے لئے ٹھوس پیشرفت درکار ہے‘
کشمیرزلزلہ، مسئلہ اجاگر
کیا زلزلہ مسئلہ کشمیر کے حل کا بہانہ بنے گا؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد