BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 17 September, 2006, 16:29 GMT 21:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان: کشمیر میں ملاجلا ردعمل

پاکستان اور ہندوستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیئے مل جل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دہشت گردی کو مل جل کر ختم کرنے کے اعلان پر کشمیر کی سیاسی اور عسکری تنظیموں نے ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا ہے ۔

یہ اعلان کیوبا میں غیر جانبدار ممالک کی کانفرنس کے موقع پر ہندوستان کے وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ اور پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کے درمیان ملاقات کے بعد جاری ہونے والے ایک مشترکہ اعلامیہ کے ذریعے کیا گیا تھا۔

اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ دونوں ممالک نے بات چیت کے عمل کو فوراً شروع کرنے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیئے مل جل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے ۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حزب مخالف کی ایک بڑی جماعت پیپلز پارٹی ( بینظیر بھٹوگروپ) کے سربراہ چوہدی عبدالمجید کا کہنا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کو یہ وضاحت کرنی چاہیے کی دہشت گردی سے ان کی مراد کیا ہے؟

’دہشت گردی‘ کے نام پر کشمیر میں جاری ’آزادی کی تحریک‘ کو ہندوستان اور پاکستان مشترکہ طور پر دبانے کی کوشش کرسکتے ہیں
امان اللہ خان

کیونکہ ان کے بقول دہشت گردی کی اصطلاح کو ہر فریق اپنے اپنے معنیٰ پہناتا رہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کشمیر میں جاری تحریک ’آزادی کی تحریک‘ ہے اور اس کو دہشت گردی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ تاہم انہوں نے ہندوستان اور پاکستان کی طرف سے بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے اعلان کو سراہا اور کہا کہ جامع مذاکرات میں کشمیریوں کو بھی شامل کیا جائے۔

خود مختار کشمیر کی حامی تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ یا ’جے کے ایل ایف‘ کے ایک دھڑے کے سربراہ امان اللہ خان نے ان خدشات کا اظہار کیا ہے کہ ’دہشت گردی‘ کے نام پر کشمیر میں جاری ’آزادی کی تحریک‘ کو ہندوستان اور پاکستان مشترکہ طور پر دبانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کی طرف سے کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کے لیئے تمام امکانات پر بات چیت پر رضامندی کا اظہار ایک مثبت پہلو ہے۔

پاکستان کشمیر میں جاری تحریک کو حق خود اردایت کی تحریک سمجھتا ہے اور وہ اس کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کرتا آرہا ہے
حزب المجاہدین کے ترجمان

ہندوستان اور پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف مل کر کام کرنے کے اعلان پر عسکری تنظم حزب المجاہدین کے ترجمان احسان الہیٰ نے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے کشمیر میں جاری تحریک پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کشمیر میں جاری تحریک کو حق خود اردایت کی تحریک سمجھتا ہے اور وہ اس کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کرتا آرہا ہے۔

ان کا دعویٰ ہے کہ ’ کشمیری کی عسکری تنظیمیں کبھی بھی دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث نہیں رہی ہیں اور یہ کہ وہ بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں صرف بھارتی افواج اور ان کی تنصیبات کو ہی نشانہ بناتی ہیں‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد