ہند پاک مفاہمت: ملا جلا ردِ عمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مختلف سیاسی جماعتوں نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان امن مذاکرات دوبارہ شروع ہونے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیئے مل کر کام کرنے کے عزم پر ملا جلا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انڈیا میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ دوبارہ بات چیت شروع کرنے کا مطلب یہی ہوگا کہ حکومت ممبئی بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والے افراد کو بھُلا چکی ہے۔ پارٹی کے صدر راجناتھ سنگھ کی جانب سے جاری کیئے گئے اس بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت کا یہ قدم پورے ملک میں جاری شدت پسندی کے واقعات پر عوام کی رائے کے خلاف ہے۔ مسٹر سنگھ کا کہنا ہے کہ شدت پسندی پر قابو پانے کے لیئے ایک ساتھ مل کر کام کرنے کے اعلان کے عمل میں پاکستان کو اپنے خطے میں جاری شدت پسندی کے مراکز کے خلاف جلد کارروائی کرنی چاہیئے۔ بی جے پی کے صدر نے بیان میں تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا مقصد کہيں چھپی ہوئی طاقتوں یا پھر حکومت کی اتحادی بائيں بازوں کی جماعتوں کو خوش کرنا تو نہیں ہے۔ دوسری جانب حکومت کی اتحادی بائيں بازو کی جماعت نے اس قدم کا خیر مقدم کیا ہے۔ اپنے بیان میں بائيں بازو کی سب سے بڑی جماعت سی پی ایم نے کہا ہے کہ جو انڈین اپنے پڑوسی ملک کے ساتھ امن اور دوستی کا رشتہ چاہتے ہيں وہ پاکستان سے یہ بھی توقع رکھیں گے کہ پاکستان دہشت گردی پر قابو پانے سے متعلق جاری کیئے گئے بیان پرعمل پیرا رہے۔ | اسی بارے میں ’دہشت گردی کاخاتمہ کریں گے‘ 17 September, 2006 | آس پاس ملاقات ’نیک شگون‘ ہے: مشرف17 September, 2006 | آس پاس مشرف من موہن ملاقات آج ہوگی16 September, 2006 | آس پاس ’آہنی پردہ حائل ہونے سے روکیں‘22 September, 2004 | صفحۂ اول مذاکرات بامقصد ہوں گے: من موہن23 September, 2004 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||