BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 June, 2006, 11:04 GMT 16:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر، امن عمل کو خطرہ ؟

کشمیر
’امن کا عمل آگے نہ بڑھا تو ہندوستان اور پاکستان دوبارہ ٹکراو کے راستے پر آجائیں گے‘
سرینگرمیں دوسری گول میز کانفرنس کے بعد ایسے متعدد واقعات رونما ہوئے ہیں جن کی وجہ سے حکومت اور فوج کے خلاف عوامی غم و غصہ میں اضافہ ہوا ہے۔

زیادتیوں کے خلاف علیحدگی پسند جماعتوں کے ساتھ ساتھ ہند نواز گروپ بھی منظم احتجاج کر رہے ہیں۔ چوبیس اور پچیس مئی کو سرینگر میں منعقدہ گول میز کانفرنس کے دوران وزیر اعظم منموہن سنگھ کا وہ اعلان عوامی حلقوں میں کافی سراہا گیا تھا جس میں انہوں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کوناقابل برداشت بتایا تھا۔ ڈاکٹر سنگھ نے واضح کیا تھا کہ حکومت ہند اس سلسلے میں’زیرو ٹالرنس‘ کے اصول کی پابند رہے گی۔

اب مزید انتظار نہیں
 جب نہتے لوگ فوجی بنکروں پر پتھر ماریں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ مزید انتظار کے لئے تیار نہیں ہیں۔
ڈاکٹر حسین

لیکن اس اعلان کے فوراً بعد سرحدی اضلاع کپوارہ ، بارہ مولہ اور دیگر علاقوں میں زیادتیوں کے جو واقعات رونما ہوئے ہیں ان سے عوامی حلقوں میں مایوسی پائی جاتی ہے۔ ماہرین ان واقعات کے ضمن میں کہتے ہیں کہ دو سال سے جاری امن کا عمل خطرات سے دو چار ہو گیا ہے۔

ضلع کپواڑہ میں فی الوقت سب سے زیادہ بے چینی پائی جاتی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران یہاں دو مرتبہ احتجاجی مظاہرین پر فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں تین طلباء اور ایک شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ پہلا واقعہ قصبہ بانڈی پورہ میں سکول کے 24 بچوں کی غرقابی کے بعد اس وقت پیش آیا جب جھیل وولر میں ہندوستانی بحریہ سے وابستہ اہلکاروں کے خلاف لوگوں نے مظاہرہ کیا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بحریہ نے نہتے مظاہرین پر فایرنگ کر کے دو کمسن طلبا کو ہلاک کر دیاتھا۔ فوج نے واقعہ کی تردید کی ہے۔ اس کے بعد کپواڑہ میں مسجد کی بے حرمتی کا واقعہ حالات میں مزید کشیدگی کا سبب بناہے۔ فوج کے ہاتھوں مسجد کی مبینہ بے حرمتی کے خلاف زرہامہ گاؤں سے دس ہزار لوگوں نے جلوس نکالاتھا اور فوجی کیمپ پر دھاوا بول دیاتھا۔

کشمیر
ضلع کپواڑہ میں فی الوقت سب سے زیادہ بے چینی پائی جاتی ہے

فوجی ترجمان کے مطابق تشدد پر آمادہ بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے فوج نے گولی چلائی تھی۔ اس واقعہ میں بارہویں جماعت کا طالب علم جاوید مارا گیا اور کئی دیگر لوگ زخمی ہوگئے تھے۔ ضلع میں پانچ روز تک کرفیو نافذ رہا اور اس دوران وادی میں بھی ہڑتال رہی۔

وزیر اعلیٰ غلام نبی آ زاد نے ان واقعات کو فوج کی جانب سے دفاع میں کی گئی کارروائی بتایاہے۔ حزب اختلاف کی جماعت نیشنل کانفرنس کے صدر اور انڈیا کے نائب وزیر خارجہ رہ چکے عمر عبد اللہ نے زیادتیوں کے خلاف لال چوک میں احتجاجی مارچ کیا ہے۔ انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’ہم نے ایسا پہلی بار دیکھا کہ فوج احتجاج کرتے بے قصور بچوں پر گولیاں برسائے اور انہیں جان سے مار دے‘۔

گول میز کانفرنس کے بعد دیگر علاقوں میں بھی عوامی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔ جنوبی قصبہ ترال میں گزشتہ ہفتے لوگوں نے سہ روزہ فوجی محاصرہ توڈ دیا ہے ۔ اسی طرح وسطی ضلع بڈگام میں مشتعل ہجوم نے نیم فوجی دستے کا بنکر منہدم کر دیا گیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فوجی اہلکار موبائل فون کے ذریعہ لڑکیوں کی عکسبندی کر رہے تھے۔ سی آر پی ایف کے ترجمان نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

 ہم نے ایسا پہلی بار دیکھا کہ فوج احتجاج کرتے بے قصور بچوں پر گولیاں برسائے اور انہیں جان سے مار دے
عمر عبداللہ

انسانی حقوق کے لئے سرگرم معروف قانون داں غلام نبی ہاگرو کے مطابق امن عمل اور حقائق میں بڑی خلیج ہے جس کا نتیجہ عوامی غم و غصہ کی صورت میں برآمد ہو رہا ہے۔ ہاگرو کہتے ہیں’یہ واقعات تشویشناک ہیں۔ ان سے پتہ چلتا ہے کہ لوگ کس قدر عذاب میں ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ مارے جائیں گے لوگ فوجی چھاونیوں پر پتھراؤ کرتے ہیں۔ لگتا ہے امن عمل ابھی حقیقت سے کوسوں دور ہے‘۔

جموں کشمیر سے فوجی انخلاء کے حامی میرواعظ عمر فاروق کا ماننا ہے کہ امن کے عمل کی سست رفتاری سے اس پر لوگوں کا اعتبار اٹھنے کا اندیشہ ہے۔ میرواعظ عمر جو حریت کانفرنس کے ایک دھڑے کے سربراہ بھی ہیں، کہتے ہیں کہ ’لوگ دراصل فوجی موجودگی کے خلاف ہیں۔ ان کو یقین تھا کہ امن عمل سے بہتری آئے گی۔ لیکن نئی دلی نے فوجی انخلاء کی تجویز مسترد کر دی اور یہ سب اسی کا نتیجہ ہے‘۔

کشمیر
امن کے عمل کی سست رفتاری سے اس پر لوگوں کا اعتبار اٹھنے کا اندیشہ ہے

ڈاکٹر شیخ شوکت حسین کشمیر یونورسٹی کے شعبہ قانون میں انسانی حقوق کے پروفیسر ہیں۔ موجودہ صورتحال کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ لوگ ’ تنگ آمد بجنگ آمد‘ کے مصداق زیادتیوں کے خلاف ردعمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر حسین کہتے ہیں ’یہ تو خطرناک ٹرینڈ ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ انیس سو نواسی کی حالت ہے۔ جب نہتے لوگ فوجی بنکروں پر پتھر ماریں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ مزید انتظار کے لئے تیار نہیں ہیں‘۔

انٹرنیشنل کرائسس گروپ نے اس پس منظر میں یہ بیان دیا ہے کہ امن کا عمل آگے نہ بڑھا تو ہندوستان اور پاکستان دوبارہ ٹکراو کے راستے پر آجائیں گے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد