کشمیر: اسکولوں میں موبائل نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حالیہ جنسی سکینڈل کے بعد حکام نے تعلیمی اداروں میں موبائل فون پر جو پابندی لگائی ہے اس پر مخلتف رد عمل سامنے آرہے ہیں۔ اکثر حلقوں نے سرکاری حکم نامے کا خیر مقدم کیا ہے لیکن بعض دیگر اسے ’بیماری کی بجائے فقط علامت کا علاج ‘ سمجھتے ہیں۔ کشمیر کے ناظم تعلیمات رفیع احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’معاشرے کو خطرناک بحران سے بچانے کے لیئے ہم نے یہ قدم اٹھایا۔ اعلی تعلیم کے سربراہ این ڈی وانی اس فیصلے کو بر وقت قرار دیتے ہیں جبکہ حالیہ جنسی اسکینڈل میں معصوم لڑکیوں کے استحصال سے متعلق خبروں کے عام ہوتے ہی سری نگر میں والدین نے اپنے بچوں کی نگرانی بڑھادی تھی۔اکثر والدین نئے سرکاری اقدام سے مطمئن ہیں لیکن وہ اسکول یا کالج کے اوقات کے دوران اپنے بچوں کے ساتھ رابطے کے متبادل نظام کے لیئے بھی فکر مند ہیں۔
نویں جماعت کے طالب علم ارشاد احمد کے والد محمد عثمان کہتے ہیں کہ پچھلے سال جب اسکول کے باہر دھماکہ ہوا اورکئی بچے زخمی ہوئے تو انہوں نے بڑے بیٹے کو فون کرکے اس کا اور دوسرے بھائی کا حال پوچھا۔ ان کے خیال میں کشمیر جیسی صورتحال میں موبائل فون ضروری ہے لیکن اس کا استعمال صحیح ہونا چاہیۓ۔ کشمیر یونیورسٹی میں انگریزی کے شعبہ کی پروفیسر ڈاکٹر حمیدہ نعیم اسکولوں اور کالجوں میں موبائل فون پر پابندی کے حق میں نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اسکول انتظامیہ اور والدین کو چاہیۓ کہ بچوں کی صحیح اخلاقی تربیت کریں اور اسکول انتظامیہ بھی بچوں میں موبائل فون کے استمعال کو ریگولیٹ کرسکتے ہیں۔ وہ ایسے موبائل سیٹ پر پابندی عائد کرسکتے ہیں جن کے ذریعہ فحش تصاویر اور ویڈیوز کا تبادلہ ممکن ہو۔‘ ڈاکٹر حمیدہ کے استدلال کو صحیح مانتے ہوئے مشہور ماہر تعلیم فاروق احمد پیر کہتے ہیں کہ اخلاقی بے راہ روی کے خلاف پابندیاں نہیں بیداری کی ضرورت ہے۔ ’یہ تو علامت کا علاج ہے۔ بیماری تو پھر بھی رہے گی۔‘ سرکاری اسکولوں میں نئے حکم پر عمل شروع ہوچکا ہے لیکن کئی نجی اداروں میں ابھی تک نیا ’ کوڈ آف کنڈکٹ‘ نافد نہیں ہو پایا ہے۔
ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ بچوں میں تجسس کا مادہ غالب ہوتا ہے لہذا ان کو کسی اخلاقی پابندی یا ’مورل کوڈ‘ میں کسنے سے ان کی بے چینی بڑھ سکتی ہے۔ مصباح شمالی کشمیر کے بارہ مولہ ہائیر سکنڈری اسکول میں بارہویں جماعت کی طالبہ ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ حالیہ دنوں جھیل وولر میں غرقابی کے سانحہ میں اگر بچوں کے پاس موبائل فون ہوتے تو ان میں سے کئی بچوں کو بچایا جا سکتا تھا۔’ٹیکنالوجی کا اچھا برا دونوں طرح کا استمعال ہو سکتا ہے۔‘ واضح رہے پچھلے سال نئی دلی میں فحش ویڈیو کلپ نے سنسنی پھیلا دی تھی۔ اس ویڈیو کلپ میں ایک جوڑے کو غیر شائستہ پوز میں فلمایا گیا تھا۔ اس کےبعد نئی دلی کے تعلیمی اداروں میں موبائل فون کے استمعال پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ ایک سرکاری حکم نامے کے مطابق طلباء وطالبات کے سیر سپاٹے اور دیگر غیر تدریسی سرگرمیوں کو بھی سخت قواعد کا پابند بنایا گیا ہے۔ | اسی بارے میں جنسی سکینڈل: پولیس افسر گرفتار 07 June, 2006 | انڈیا سیکس سکینڈل، عدالت ناراض29 May, 2006 | انڈیا سیکس سکینڈل: شناختی پریڈ ہوگی19 May, 2006 | انڈیا سیکس سکینڈل: والدین پریشان15 May, 2006 | انڈیا جنسی سکینڈل: رومانس میں بریک13 May, 2006 | انڈیا جنسی سکینڈل پر ہڑتال جاری06 May, 2006 | انڈیا کشمیر میں جنسی سکینڈل پر ہڑتال05 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||