BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 June, 2006, 07:07 GMT 12:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: اسکولوں میں موبائل نہیں

سری نگر
حالیہ جنسی اسکینڈل کے منظر عام پر آنے پر سری نگر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حالیہ جنسی سکینڈل کے بعد حکام نے تعلیمی اداروں میں موبائل فون پر جو پابندی لگائی ہے اس پر مخلتف رد عمل سامنے آرہے ہیں۔

اکثر حلقوں نے سرکاری حکم نامے کا خیر مقدم کیا ہے لیکن بعض دیگر اسے ’بیماری کی بجا‌ئے فقط علامت کا علاج ‘ سمجھتے ہیں۔

کشمیر کے ناظم تعلیمات رفیع احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’معاشرے کو خطرناک بحران سے بچانے کے لیئے ہم نے یہ قدم اٹھایا۔

اعلی تعلیم کے سربراہ این ڈی وانی اس فیصلے کو بر وقت قرار دیتے ہیں جبکہ
سخت گیر اسلام اور پردے کی زبردست حامی آسیہ اندرابی کا خیال ہے کہ بیشتر جنسی جرائم اسکولوں اور کالجوں میں موبائل کے استمعال کا ہی نتیجہ ہیں۔

حالیہ جنسی اسکینڈل میں معصوم لڑکیوں کے استحصال سے متعلق خبروں کے عام ہوتے ہی سری نگر میں والدین نے اپنے بچوں کی نگرانی بڑھادی تھی۔اکثر والدین نئے سرکاری اقدام سے مطمئن ہیں لیکن وہ اسکول یا کالج کے اوقات کے دوران اپنے بچوں کے ساتھ رابطے کے متبادل نظام کے لیئے بھی فکر مند ہیں۔

آسیہ اندرابی کا خیال ہے کہ بیشتر جنسی جرائم اسکولوں اور کالجوں میں موبائل کے استمعال کا ہی نتیجہ ہیں۔

نویں جماعت کے طالب علم ارشاد احمد کے والد محمد عثمان کہتے ہیں کہ پچھلے سال جب اسکول کے باہر دھماکہ ہوا اورکئی بچے زخمی ہوئے تو انہوں نے بڑے بیٹے کو فون کرکے اس کا اور دوسرے بھائی کا حال پوچھا۔ ان کے خیال میں کشمیر جیسی صورتحال میں موبائل فون ضروری ہے لیکن اس کا استعمال صحیح ہونا چاہیۓ۔

کشمیر یونیورسٹی میں انگریزی کے شعبہ کی پروفیسر ڈاکٹر حمیدہ نعیم اسکولوں اور کالجوں میں موبائل فون پر پابندی کے حق میں نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اسکول انتظامیہ اور والدین کو چاہیۓ کہ بچوں کی صحیح اخلاقی تربیت کریں اور اسکول انتظامیہ بھی بچوں میں موبائل فون کے استمعال کو ریگولیٹ کرسکتے ہیں۔ وہ ایسے موبائل سیٹ پر پابندی عائد کرسکتے ہیں جن کے ذریعہ فحش تصاویر اور ویڈیوز کا تبادلہ ممکن ہو۔‘

ڈاکٹر حمیدہ کے استدلال کو صحیح مانتے ہوئے مشہور ماہر تعلیم فاروق احمد پیر کہتے ہیں کہ اخلاقی بے راہ روی کے خلاف پابندیاں نہیں بیداری کی ضرورت ہے۔ ’یہ تو علامت کا علاج ہے۔ بیماری تو پھر بھی رہے گی۔‘

سرکاری اسکولوں میں نئے حکم پر عمل شروع ہوچکا ہے لیکن کئی نجی اداروں میں ابھی تک نیا ’ کوڈ آف کنڈکٹ‘ نافد نہیں ہو پایا ہے۔

اچھا برا استعمال
 جھیل وولر میں غرقابی کے سانحہ میں اگر بچوں کے پاس موبائل فون ہوتے تو ان میں سے کئی بچوں کو بچایا جا سکتا تھا۔ٹیکنالوجی کا اچھا برا دونوں طرح کا استعمال ہو سکتا ہے۔
مصباح، بارہ مولہ

ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ بچوں میں تجسس کا مادہ غالب ہوتا ہے لہذا ان کو کسی اخلاقی پابندی یا ’مورل کوڈ‘ میں کسنے سے ان کی بے چینی بڑھ سکتی ہے۔

مصباح شمالی کشمیر کے بارہ مولہ ہائیر سکنڈری اسکول میں بارہویں جماعت کی طالبہ ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ حالیہ دنوں جھیل وولر میں غرقابی کے سانحہ میں اگر بچوں کے پاس موبائل فون ہوتے تو ان میں سے کئی بچوں کو بچایا جا سکتا تھا۔’ٹیکنالوجی کا اچھا برا دونوں طرح کا استمعال ہو سکتا ہے۔‘

واضح رہے پچھلے سال نئی دلی میں فحش ویڈیو کلپ نے سنسنی پھیلا دی تھی۔ اس ویڈیو کلپ میں ایک جوڑے کو غیر شائستہ پوز میں فلمایا گیا تھا۔ اس کےبعد نئی دلی کے تعلیمی اداروں میں موبائل فون کے استمعال پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ ایک سرکاری حکم نامے کے مطابق طلباء وطالبات کے سیر سپاٹے اور دیگر غیر تدریسی سرگرمیوں کو بھی سخت قواعد کا پابند بنایا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد